صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. جامی
  2. »دیوان اشعار
  3. »خاتمة الحیات
  4. »غزلیات
  5. »غزل شمارهٔ 148

غزل شمارهٔ 148

شاعر: جامی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: ابپرگردد

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1

چون قدح کز شراب پر گردد

چشمم از خون ناب پر گردد

2

ماه نو ساغر، آفتاب می است

ماه نو ز آفتاب پر گردد

3

بس که سوزد دلم جهان چه عجب

گر ز دود کباب پر گردد

4

تشنه عشق را چه سود کند

بحر و بر گر ز آب پر گردد

5

نکند کار نیم قطره آب

گر جهان از سراب پر گردد

6

عالم از تاب خور ز برقع تو

به یکی رشته تاب پر گردد

7

حال خود گر رقم زند جامی

پشت و روی کتاب پر گردد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کس رخت را چو گل نظاره نکرد

که گریبان چو غنچه پاره نکرد

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 147

اگلی نظم

داغ هجرم لب خشک از مژه تر می‌سازد

شربت مرگ من از خون جگر می‌سازد

جامی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 149

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور