شاعر
نورالدین عبدالرحمن جامی (1414ء تا 1492ء) فارسی زبان کے آخری عظیم کلاسیکی شاعروں، صوفیوں اور دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ خراسان کے علاقے خرجردِ جام میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں اپنے والد کے ساتھ سمرقند اور ہرات منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے علومِ دینیہ، ادب، فلسفہ اور عرفان کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ جامی نے علمی و روحانی میدانوں میں ایسی جامع شخصیت کے طور پر شہرت پائی جس نے فارسی ادب اور اسلامی علوم دونوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
جامی سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ تھے اور اپنے زمانے کے ممتاز اہلِ تصوف میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی علمی، ادبی اور روحانی عظمت کے باعث تیموری فرمانروا سلطان حسین بایقرا اور نامور ادیب و وزیر امیر علی شیر نوائی انہیں غیر معمولی احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اور انہیں دربار میں خاص مقام حاصل تھا۔
جامی نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں بے مثال آثار چھوڑے۔ ان کی تصانیف کی تعداد چالیس سے زیادہ بتائی جاتی ہے، جن میں تفسیر، حدیث، تصوف، فلسفہ، ادب اور نحو جیسے متنوع موضوعات شامل ہیں۔ ان کا سب سے مشہور شعری کارنامہ ہفت اورنگ ہے، جو سات مثنویوں پر مشتمل ایک عظیم ادبی مجموعہ ہے۔ ان کی رومانوی مثنوی یوسف و زلیخا بھی ہفت اورنگ کا حصہ ہے اور بے حد مشہور ہے۔ان کی دیگر معروف تصانیف میں بہارستان، نفحات الانس اور شواہد النبوۃ شامل ہیں۔ برصغیر کے دینی مدارس میں صدیوں سے پڑھائی جانے والی مشہور نحوی کتاب شرحِ ملا جامی بھی ان کی علمی یادگاروں میں شامل ہے، جو عربی صرف و نحو کے طلبہ کے لیے ایک اہم نصابی متن سمجھی جاتی ہے۔
جامی نے 1492ء میں ہرات میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔