صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 434

غزل شمارهٔ 434

شاعر: حافظ

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن (مضارع مثمن اخرب)

قافیہ: ستی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای که بر ماه از خط مشکین نقاب انداختی

لطف کردی سایه‌ای بر آفتاب انداختی

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 433

اگلی نظم

با مدّعی مگویید، اسرارِ عشق و مستی

تا بی‌خبر بمیرد، در دردِ خودپرستی

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 435

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای آنک امام عشقی تکبیر کن که مستی

دو دست را برافشان بیزار شو ز هستی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2933

دی عهد و توبه کردی امروز درشکستی

دی بحر تلخ بودی امروز گوهرستی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2946

با مدّعی مگویید، اسرارِ عشق و مستی

تا بی‌خبر بمیرد، در دردِ خودپرستی

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 435

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00