صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 237

غزل شمارهٔ 237

شاعر: حافظ

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رنمیاید

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

اگر آن طایرِ قدسی ز دَرَم بازآید

عمرِ بگذشته به پیرانه سرم بازآید

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 236

اگلی نظم

جهان بر ابرویِ عید از هِلال وَسمه کشید

هِلال عید در ابرویِ یار باید دید

حافظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 238

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ز دل خیال میانش به در نمی‌آید

ز لفظ معنی پیچیده بر نمی‌آید

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4004

خیال روی تو از دل به در نمی‌آید

که خودپرست ز آیینه بر نمی‌آید

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4005

ز دل بر آمدم و کار بر نمی‌آید

ز خود برون شدم یار در نمی‌آید

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 64

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00