صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 47

رباعی شمارهٔ 47

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ابازچهگرفت

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

زنجیر سر زلف تو تاب از چه گرفت؟

و آن چشم خمارین تو خواب از چه گرفت؟

2

چون هیچ کسی برگ گلی بر تو نزد

سر تا قدمت بوی گلاب از چه گرفت؟

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عالم ز لباس شادیم عریان یافت

با دیدهٔ پر خون و دل بریان یافت

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 46

اگلی نظم

در عشق توام واقعه بسیار افتاد

لیکن نه بدین سان که ازین بار افتاد

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 48

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور