شاعر
شیخ فخرالدین ابراہیم عراقی (1204ء تا 1289ء) فارسی زبان کے ممتاز صوفی، عارف اور شاعر تھے۔ آپ ہمدان کے نواح میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کے بعد ہمدان میں علومِ دینیہ اور ادبیات کی تحصیل کی۔ جوانی میں درویشوں کے ایک قافلے کے ساتھ ہندوستان تشریف لے گئے، جہاں آپ نے نامور صوفی بزرگ شیخ بہاؤالدین زکریا ملتانی کی خدمت میں طویل عرصہ گزارا اور بعد ازاں ان کے خاندان سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔
عراقی نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں ہندوستان، حجاز، شام اور اناطولیہ کا سفر کیا۔ قونیہ میں انہیں مولانا جلال الدین رومی کی صحبت نصیب ہوئی، اور ان کی شخصیت و افکار سے گہرا اثر قبول کیا۔ تصوف، عشقِ الٰہی اور وحدتِ وجود کے مضامین عراقی کے کلام اور نثر میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔
ان کے ادبی آثار میں دیوانِ عراقی، مثنوی عشاق نامہ اور تصوف کی مشہور نثری تصنیف لمعات شامل ہیں۔ خصوصاً لمعات فارسی صوفیانہ ادب کی اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے اور بعد کے متعدد اہلِ عرفان پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
شیخ فخرالدین عراقی نے 1289ء میں دمشق میں وفات پائی۔ فارسی تصوف اور عرفانی ادب کی تاریخ میں ان کا شمار ان بزرگ اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے عشق اور معرفت کے مضامین کو نہایت دل نشیں اور مؤثر انداز میں بیان کیا۔