صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق
  4. »شمارهٔ 13

شمارهٔ 13

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: نباش

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دوش آمد و گفت: خویش را دشمن باش

در تیرگی اوفتادهٔ روشن باش

2

از خویش چو خشنود نبودی نفسی

بیخویشتن آی و یک دمی با من باش

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش آمد و گفت: بی یقین مینرسی

گاهی ز فلک گه ز زمین مینرسی

عطار»مختارنامه»باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق»شمارهٔ 12

اگلی نظم

دوش آمد و گفت: «در بلا پیوستی

آن لحظه که در چون و چرا پیوستی»

عطار»مختارنامه»باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق»شمارهٔ 14

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور