شاعر
فریدالدین ابو حامد محمد عطار نیشاپوری (1145ء تا 1221ء) فارسی زبان کے عظیم صوفی شاعر، عارف اور تذکرہ نگار تھے۔ آپ نیشاپور میں پیدا ہوئے اور فارسی عرفانی ادب کی تاریخ میں بلند ترین مقامات کے حامل اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں۔ عطار نے اپنی شاعری اور نثری تصانیف کے ذریعے تصوف، عشقِ الٰہی، سلوک اور معرفت کے مضامین کو نہایت مؤثر اور دل نشیں انداز میں پیش کیا۔
عطار کا شمار فارسی زبان کے کثیرالتصنیف مصنفین میں ہوتا ہے۔ ان کی تصانیف میں منطق الطیر، الٰہی نامہ، مصیبت نامہ، اسرار نامہ اور تذکرۃ الاولیاء خاص شہرت رکھتی ہیں۔ خصوصاً منطق الطیر فارسی ادب اور تصوف کی عظیم ترین مثنویوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں پرندوں کے سفر کے ذریعے روحانی سلوک اور حقیقت کی جستجو کو تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اہلِ تصوف کے نزدیک عطار کا مقام نہایت بلند ہے، اور بعد کے متعدد صوفی شعرا، خصوصاً مولانا جلال الدین رومی، نے ان کے اثرات کا اعتراف کیا ہے۔ عطار کی شاعری میں عشق، فقر، خود شناسی اور قربِ الٰہی کے مضامین نمایاں ہیں، جنہوں نے صدیوں سے اہلِ علم و عرفان کو متاثر کیا ہے۔
عطار نیشاپوری نے 1221ء میں نیشاپور میں وفات پائی۔ فارسی ادب اور تصوف کی روایت میں ان کا نام ہمیشہ عظیم ترین عرفانی شاعروں اور مفکروں میں شمار کیا جاتا رہے گا۔