صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد
  4. »شمارهٔ 42

شمارهٔ 42

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: نمیگویند

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

گاهی ز نو و گه ز کهن میگویند

گاهی ز کن و گه ز مکن میگویند

2

هر چند فراغتیست لیک از سرِ لطف

با ما به زبان ما سخن میگویند

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن روز که آفتاب انجم میریخت

صد عالم پر قطره ز قلزم میریخت

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 41

اگلی نظم

در عالم جان نه مرد پیداست نه زن

چه عالم جان نه جان هویداست نه تن

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 43

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور