صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »در بیان فنون لطیفهٔ غلامان
  4. »بخش 2 - مصوری

بخش 2 - مصوری

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
1

همچنان دیدم فن صورت گری

نی براهیمی درو نی آزری

میں نے مصوّری کو بھی دیکھا ہے ، نہ اس میں ابراہیمی ہے نہ آزری۔ (نہ یہ پرانی روایات توڑتی ہے، نہ نئے انداز کی تصاویر بناتی ہے)

I see the case of Painting (of slaves) quite similar; it is neither the work of Abraham (idol-smashing) nor of Adhar (idol-carving). (It neither breaks old traditions, nor introduces new one)

2

«راهبی در حلقهٔ دام هوس

دلبری با طایری اندر قفس

کہیں راہب دکھایا ہے جو دام ہوس میں پھنسا ہوا ہے، کہیں محبوب کو پنجرے میں بند پرندے کے ساتھ دکھایا ہے۔

(Somewhere) a priest is shown trapped in the lust of baser passion; (at places) a beloved is shown (imprisoned) in a cage with a bird.

3

خسروی پیش فقیری خرقه پوش

مرد کوهستانیی هیزم بدوش

کہیں بادشاہ دلق پوش فقیر کے سامنے (مودّب) کھڑا ہے، کہیں کوہستانی شخص لکڑیاں اٹھاے ہوے (جا رہا ہے)۔

(Somewhere) a king is respectfully (sitting) in front of a beggar in rags; (at places) a highlander is shown carrying firewood on shoulders.

4

نازنینی در ره بتخانه ئی

جوگئی در خلوت ویرانه ئی

کہیں مندر کی طرف جاتی ہوئی نازنین ہے، کہیں ویرانے میں بیٹھا جوگی ہے۔

(Somewhere) beautiful young lady is going to a temple; (at places) a hermit is sitting alone in the solitude (desolation) of his cell.

5

پیرکی از درد پیری داغ داغ

آنکه اندر دست او گل شد چراغ

کہیں بوڑھا آدمی، جو درد پیری سے بے حال ہے، اس کے ہاتھ میں بجھا ہوا چراغ دکھایا گیا ہے۔

(Somewhere) an old man suffering from burden of old age carrying an extinguished candle (of life) in his hand.

6

مطربی از نغمهٔ بیگانه مست

بلبلی نالید و تار او گسست

ایسا ساز نواز جو دوسروں کے راگ سے مست ہو، ایسی بلبل جس نے فریاد کی اور اس کا تار ہی ٹوٹ گیا ۔

A musician absorbed in listening alien song; like nightingale wailing (for mercy) like a musical instrument with broken strings.

7

نوجوانی از نگاهی خورده تیر

کودکی بر گردن بابای پیر»

نگاہ کے تیر سے گائل نوجوان یا بوڑھے کی گردن پر سوار بچہ۔

A youth hurt by arrows (hurled from the bow of beautiful) eyes of the beloved; (like a) child (riding) on the neck of a grandfather.

8

می چکد از خامه ها مضمون موت

هر کجا افسانه و افسون موت

ان کے مو قلم موت ہی کی منطر کشی کرتے ہیں ، ان کی ہر تصویر میں موت ہی کی کہانی یا افسوں ہے۔

Their brushes paint nothing but death scenes; every painting tells a story of death.

9

علم حاضر پیش آفل در سجود

شک بیفزود و یقین از دل ربود

جدید علم غروب ہونے والوں کے سامنے سر بسجود ہے ، یہ شک بڑھاتا اور یقین کو دل سے نکالتا ہے ۔ (حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے)

Modern knowledge prostrates in front of the fleeting (passing); it increases apprehensions (doubts) and diminishes trust (in God) (pointing towards the episode of Prophet Ibrahim, AS)

10

بی یقین را لذت تحقیق نیست

بی یقین را قوت تخلیق نیست

بے یقین میں تحقیق کا شوق پیدا نہیں ہوتا ہے، نہ بے یقین کوئی نئی چیز تخلیق کر سکتا ہے ۔

Quest for (truth) does not sprout in individuals without faih; those without faith cannot be creative.

11

بی یقین را رعشه ها اندر دل است

نقش نو آوردن او را مشکل است

بے یقین کا دل ہر وقت خوف سے کانپتا رہتا ہے، اس کے لیے (تصویر میں) نیا تخّیل لانا مشکل ہے ۔

Heart of those without faith trembles perpetually; it is difficult for him to come out with new (novel) ideas.

12

از خودی دور است و رنجور است و بس

رهبر او ذوق جمهور است و بس

وہ خودی سے دور ہے اس لیے ہر وقت افسردہ خاطر ہی رہتا ہے ، اس کے پیش نظر صرف عوام کا ذوق ہوتا ہے ۔ (وہ عوام کے ذوق کی تربیت کرنے کی بجاۓ اس کی تقلید کرتا ہے)

He is far away from self-awareness and remains sick at heart; he is conscious of masses’ likes and dislikes (he is a follower, not a leader).

13

حسن را دریوزه از فطرت کند

رهزن و راه تهی دستی زند

وہ فطرت سے حسن کی گداگری کرتا ہے، راہزن ہے اور مفلس پر ڈاکہ ڈالتا ہے ۔

He begs beauty from the external nature (instead of creating it himself); he is a robber who robs the poor.

14

حسن را از خود برون جستن خطاست

آنچه می بایست پیش ما کجاست

حسن کو اپنے سے باہر تلاش کرنا غلطی ہے ، جو کچھ ہونا چاہئیے وہ ہمارے سامنے کہاں؟

Seeking beauty from outside oneself is a mistake; what ought to be is not outside (oneself).

15

نقشگر خود را چو با فطرت سپرد

نقش او افکند و نقش خود سترد

جب کوئی مصوّر اپنے آپ کو فطرت کے سپرد کر دیتا ہے، تو وہ صرف فطرت کی نقّالی کرتا ہے، اپنی طرف سے کوئی نئی چیز پیدا نہیں کرتا ۔

When a painter surrenders oneself to Nature; then he only copies (duplicates), he cannot create new things.

16

یک زمان از خویشتن رنگی نزد

بر زجاج ما گهی سنگی نزد

وہ کبھی نقش کو اپنا رنگ نہیں دیتا، کبھی ہمارے شیشے پر پتھر کی ضرب نہیں لگاتا ۔

He could not manifest his own self (in his works); he did not strike the glass of heart with a stone (he cannot move or touch the hearts of those who see his pictures).

17

فطرت اندر طیلسان هفت رنگ

مانده بر قرطاس او با پای لنگ

وہ کینوس پر اپنے قلم سے، مختلف رنگوں میں فطرت کی ادھوری نقّالی کرتا ہے ۔

Nature wrapped in multicoloured robe remains limping (incomplete) in his works.

18

بی تپش پروانهٔ کم سوز او

عکس فردا نیست در امروز او

اس کا پروانہ کم سوز اور بغیر تپش کے ہے، اس کے حال میں مستقبل کی کوئی جھلک نہیں ۔

His moth lacks (inner) warmth; his today (present) has no reflection (glimpse) of tomorrow (future).

19

از نگاهش رخنه در افلاک نیست

زانکه اندر سینه دل بیباک نیست

اس کی نگاہ افلاک کو نہیں چیر سکتی، کیونکہ اس کے سینے میں دل بے باک نہیں ۔

His sight (vision) cannot penetrate skies; because heart in his chest is not daring.

20

خاکسار و بی حضور و شرمگین

بی نصیب از صحبت روح الامین

وہ (ہر وقت) احساس کمتری میں مبتلا پراگندہ ذہن اور اپنے کیے پر شرمندہ رہتا ہے ، کیونکہ وہ روح الامینؑ کی صحبت (کے فیض) سے محروم ہے ۔

He is earth-rooted, shy and without experience of ecstasy (suffers from inferiority complex and perversion); because he is deprived of company of Rooh-ul-Ameen (contact with the world of spirit).

21

فکر او نادار و بی ذوق ستیز

بانگ اسرافیل او بی رستخیز

اس کا فکر تہی دامن اور جدوجہد کے ذوق کے بغیر ہے، اس کی آواز صور سے قیامت برپا نہیں ہوتی ۔

His thinking is hollow (lacks depth) and has no desire for struggle; his voice cannot bring about any resurrection.

22

خویش را آدم اگر خاکی شمرد

نور یزدان در ضمیر او بمرد

اگر انسان اپنے آپ کو صرف خاکی سمجھے، تو اس کے اندر کا خدائی نور مردہ ہو جاتا ہے ۔

If a human being deems himself earthly; the Divine light (spirit) in him dies.

23

چون کلیمی شد برون از خویشتن

دست او تاریک و چوب او رسن

ایسا کلیم جب اپنے آپ سے باہر آتا ہے تو اس کا یدبیضا تاریک اور عصا محض رسّی ہوتا ہے ۔

When (such a) Moses comes out; his bright hand turns dark and his staff (stick) turns into a (thin) rope.

24

زندگی بی قوت اعجاز نیست

هر کسی دانندهٔ این راز نیست

قوّت اعجاز کے بغیر زندگی نہیں ، مگر ہر کوئی اس راز کو نہیں سجھتا ۔

Life without the capacity for new creations, but everyone does not know this secret.

25

آن هنرمندیکه بر فطرت فزود

راز خود را بر نگاه ما گشود

جو ہنرمند (آرٹسٹ) فطرت کی پر اضافہ کرتا ہے، وہ ہماری نگاہ پر اپنا راز کو نہیں سمجھتا ۔

Artist that adds to (the beauty of) Nature; he reveals his inner secrets of his vision before us.

26

گرچه بحر او ندارد احتیاج

میرسد از جوی ما او را خراج

اگرچہ فطرت کے بحر کو ہماری ضرورت نہیں، لیکن جب ہم اس کے سمندر سے اپنی ندی نکالتے ہیں ، تو وہ اسے خراج (تحسین) پیش کرتی ہے۔

Although his boundless ocean does not need anything; yet our rivulets contribute to it.

27

چین رباید از بساط روزگار

هر نگاه از دست او گیرد عیار

وہ بساط روزگار کے شکن دور کرتا ہے، اس کے ہاتھ کا بنایا ہوا نقش ہر محبوب کے لیے معیار تصوّر ہوتا ہے۔

(Such artist) removes wrinkles (transforms) the old values; his works are (ideals for) true standard of beauty.

28

حور او از حور جنت خوشتر است

منکر لات و مناتش کافر است

اس کی حور ، حور جنت سے بہتر ہے اور اس کے لات و منات کا منکر ( یعنی اس کی بت گری کے معیار کو تسلیم نہ کرنے والا) کافر ہے ۔

His houri is more charming than the houri of paradise; one who does not recognize his Lat and Manat (idols which were kept in Haram have been used as reference) is a non-believer.

29

آفریند کائنات دیگری

قلب را بخشد حیات دیگری

وہ نئی کائنات تخلیق کرتا ہے، وہ قلب کو نئی زندگی بخشتا ہے ۔

He creates new universe; he gives new life to the heart.

30

بحر و موج خویش را بر خود زند

پیش ما موجش گهر می افکند

وہ ایسا سمندر ہے جو اپنی موج سے نبرد آزما ہے، تب اس کی موج ہمارے سامنے موتی لا ڈالتی ہے ۔

He is (like) an ocean that is in encounter with his own waves; then waves throw pearls (on shores) in front of us.

31

زان فراوانی که اندر جان اوست

هر تهی را پر نمودن شأن اوست

اس کی ذات کے اندر جو فراوانی ہے، اسکی وجہ سے ہر خالی کو پر کر دینا اس کی شان ہے ۔

It is because of the bountifulness of its nature that it fills every emptiness (nourishes the impoverished).

32

فطرت پاکش عیار خوب و زشت

صنعتش آئینه دار خوب و زشت

اس کی فطرت پاک خوب و ناخوب کا معیار ہے اور اسکی تخلیق خوب و ناخوب کو واضح کر تی ہے ۔

His pious nature is measure for right and wrong; his works elaborate difference between beautiful and ugly.

33

عین ابراهیم و عین آزر است

دست او هم بت شکن هم بتگر است

وہ ابراہیم بھی ہے اور آزر بھی، اس کا ہاتھ بت شکن بھی ہے اور بت گر بھی ۔ (یعنی وہ آرٹ کے پرانے معیار توڑ کر نئے معیار قائم کرتا ہے)

He is like Abraham as well as Adhar; he is idol-breaker and idol-maker at the same time (he breaks old trends and sets new ones).

34

هر بنای کهنه را بر می کند

جمله موجودات را سوهان زند

وہ ہر پرانی بنیاد کو اکھاڑ پھینکتا ہے، وہ ساری موجودات کو تیز کر دیتا ہے۔ ( موجودات کو نیا رنگ دیتا ہے)

He uproots every old foundation; resets his surroundings (and gives them new colours).

35

در غلامی تن ز جان گردد تهی

از تن بی جان چه امید بهی

غلامی میں بدن، جان سے خالی ہوتا ہے، اور تن بے جان سے بھلائی کی کیا امّید رکھی جا سکتی ہے ۔

In slavery the body is without soul; what good can be expected from soulless body?

36

ذوق ایجاد و نمود از دل رود

آدمی از خویشتن غافل رود

دل میں ایجاد اور اظہار کا ذوق باقی نہیں رہتا، آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتا ہے ۔

His heart is rendered with no creative desire; (such a person) becomes unaware of his self (existence).

37

جبرئیلی را اگر سازی غلام

بر فتد از گنبد آئینه فام

اگر تو جبریلؑ کو غلام بنا لے ، تو وہ بھی ( آسمان کے) گنبد آئینہ فام سے نیچے گر پڑے گا ۔

If you enslave Gabriel; even he would fall on earth from heights of heavens.

38

کیش او تقلید و کارش آزری ست

ندرت اندر مذهب او کافری ست

غلام کا مسلک تقلید اور اس کا کام بت گری ہے، اس کے مذہب میں ندرت ( نئی چیز پیدا کرنا) کافری شمار ہوتی ہے۔

Slave is a follower and he is idol-carver; in his religion creativity is considered infidelity.

39

تازگیها وهم و شک افزایدش

کهنه و فرسوده خوش می آیدش

نئی چیزیں اس کا وہم و شک بڑھا دیتی ہیں، وہ کہنہ اور فرسودہ پر خوش رہتا ہے ۔

Novelties add to his suspicions and apprehensions; he remains happy with old and obsolete.

40

چشم او بر رفته از آینده کور

چون مجاور رزق او از خاک گور

اس کی نظر صرف ماضی پر رہتی ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں اندھا ہوتا ہے، مجاور کی طرح وہ اپنا رزق قبر کی مٹی سے حاصل کرتا ہے ۔ (مردہ روایات کا پجاری بن جاتا ہے)

He remains focused on the past and blind (oblivious) about future; he seeks livelihood from the dust of grave like a majawar (he follows old traditions).

41

گر هنر این است مرگ آرزوست

اندرونش زشت و بیرونش نکوست

اگر یہہی ہنر ہے، تو اس میں آرزو کی موت ہے، ایسے ہنر کا اندرون مکروہ اور بیرون خوبصورت ہے ۔

If this is art, then it is death of hope (aspirations); essence of such art is dark (disgusting) but its appearance is beautiful.

42

طایر دانا نمیگردد اسیر

گرچه باشد دامی از تار حریر

سمجھدار پرندہ اسیر نہیں ہوتا خواہ جال ریشمی ہو، ( سمجھدار لوگ ایسے آرٹ سے متاثر نہیں ہوتے)

Wise bird never gets trapped even if the net is made of silk (deceptively attractive); (wise people are not impressed by such art).

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرگ ها اندر فنون بندگی

من چه گویم از فسون بندگی

علامہ اقبال»زبور عجم»در بیان فنون لطیفهٔ غلامان»بخش 1 - موسیقی

اگلی نظم

در غلامی عشق و مذهب را فراق

انگبین زندگانی بد مذاق

علامہ اقبال»زبور عجم»در بیان فنون لطیفهٔ غلامان»بخش 3 - مذهب غلامان