صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »زبور عجم
  3. »در بیان فنون لطیفهٔ غلامان
  4. »بخش 3 - مذهب غلامان

بخش 3 - مذهب غلامان

RELIGION OF SLAVES

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
Toggle stanza 1
11

در غلامی عشق و مذهب را فراق

انگبین زندگانی بد مذاق

غلامی میں عشق اور مڈہب کو علیحدہ سمجھا جاتا ہے ، ( اس سے) زندگی کے شہد کا ذائقہ بگڑ جاتا ہے ۔

In slavery ishq and religion are separated from each other; this spoils the taste of life’s honey. \[Ishq: True Love that demands total submission, unflinching devotion and unconditional obedience. Allama uses this word exclusively for the love for Allah and His Messenger (PBUH)\]

22

عاشقی ، توحید را بر دل زدن

وانگهی خود را بهر مشکل زدن

عاشقی کیا ہے؟ توحید کو دل میں منقّش کرنا، اور اس طرح ہر مشکل کے مقابلے پر ڈٹ جانا ۔

What is ishq? It means engraving belief of Tawhid (Allah’s Unity, oneness) on the heart; then face all adversaries steadfastly.

33

در غلامی عشق جز گفتار نیست

کار ما گفتار ما را یار نیست

غلامی میں عشق گفتار کے علاوہ اور کچھ نہیں ، غلامی میں عمل گفتار کا ساتھ نہیں دیتا۔

In slavery ishq is mere lip-service; there is no cohesion in words and deeds.

44

کاروان شوق بی ذوق رحیل

بی یقین و بی سبیل و بی دلیل

قافلۂ عشق میں سفر کا ذوق باقی نہیں رہ جاتا، وہ بے یقین، بے راہ اور بغیر راہبر کے رہ جاتا ہے ۔

The caravan lacks motivation for journey; it lacks faith, not sure of way forward and wanders without guide (leaderless).

55

دین و دانش را غلام ارزان دهد

تا بدن را زنده دارد جان دهد

غلام دین و دانش کو سستا بیچ دیتا ہے ، بدن کو زندہ رکھنے کے لیے جان فروخت کر دیتا ہے ۔

Slave under-values both religion and wisdom; he gives away his soul to keep his body alive.

66

گرچه بر لبهای او نام خداست

قبلهٔ او طاعت فرمانرواست

اگرچہ اس کی زبان پر الہّ تعالی کا نام ہوتا ہے مگر اس کا قبلہ حکمران کی طاقت ہے۔

He has word Allah on his lips; but he worships the might of his ruler.

77

طاقتی نامش دروغ با فروغ

از بطون او نزاید جز دروغ

اس کی طاقت مسلسل جھوٹ کا نام ہے اور اس کے اندر سے سواے جھوٹ کے کچھ پیدا نہیں ہوتا ۔

His (ruler’s) power is persistent falsehood; nothing comes out of him except falsehood.

88

این صنم تا سجده اش کردی خداست

چون یکی اندر قیام آئی فناست

اس بت کے سامنے آپ جب تک سجدہ میں پڑے رہیں تو یہ خدا ہے، اگر ایک بار اس کے سامنے اٹھ کھڑے ہوں تو وہ ختم ہے ۔

As long as you prostrate before this idol, this is god; once you rise upright before it, it crumbles.

99

آن خدا نانی دهد جانی دهد

این خدا جانی برد نانی دهد

خداۓ حقیقی روٹی بھی دیتا ہے جان بھی عطا کرتا ہے، یہ (جھوٹا خدا) جان لے کر (اس کے عوض ) روٹی دیتا ہے ۔

Real God gives you bread and life; this (unreal god) gives you bread and (in return) takes life away.

1010

آن خدا یکتا ست این صد پاره ایست

آن همه را چاره این بیچاره ایست

وہ خدا یکتا ہے، یہ ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے، وہ سب کا چارہ ساز ہے، اگر ایک بار اس کے سامنے اٹھ کھڑے ہوں تو وہ ختم ہے ۔

Real God is One, this (god) is divided into hundred pieces; He helps everyone and this is hapless.

1111

آن خدا درمان آزار فراق

این خدا اندر کلام او نفاق

وہ خدا قول و فعل کے تضاد کی بیماری کا علاج ہے، اس خدا کے اپنے کلام کے اندر نفاق ہے ۔

Real God is remedy for ailment of separation; this god’s word sows seeds of separation (disunity).

1212

بنده را با خویشتن خوگر کند

چشم و گوش و هوش را کافر کند

یہ خدا اپنے بندے کو اپنے آپ سے خوگر بنا لیتا ہے ، (وہ اس کی مرضی کے مطابق سوچتا ہے) اور اس کے چشم و گوش کو کافر بنا دیتا ہے ۔ (وہ ان کے تاثرات سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا سکتا)

This god makes the man intimate with himself and (the slave starts thinking according to this god’s wishes); slave loses the ability to use his own eyes, ears and mind.

1313

چون بجان عبد خود راکب شود

جان به تن لیکن ز تن غایب شود

جب وہ اپنے غلام کی روح پر سوار ہوتا ہے، تو غلام کی جان بدن میں رہتے ہوے بھی بدن سے غائب ہو جاتی ہے ۔

When this god captivates slave’s soul; then despite life in his body he becomes lifeless.

1414

زنده و بیجان چه رازست این نگر

با تو گویم معنی رنگین نگر

زندہ اور بے جان یہ کیا راز ہے؟ دیکھ، میں تمہیں اس کے مزیدار معنی بتاتا ہوں۔

Alive and yet lifeless, what is this? I’ll tell you its manifold interesting meanings.

1515

مردن و هم زیستن ای نکته رس

این همه از اعتبارات است و بس

اے نکتہ رس! موت اور زندگی سب اعتباری (اضافی) ہیں۔

O wise man! Life and death are mere perceptions (relative events).

1616

ماهیان را کوه و صحرا بی وجود

بهر مرغان قعر دریا بی وجود

مچھلیوں کے لیے کوہ و صحرا کا کوئی وجود نہیں، پرندوں کے لیے دریا کی تہ موجود نہیں۔

For the fish mountains and deserts do not exist; for the birds the bed of a river does not exist.

1717

مرد کر سوز نوا را مرده ئی

لذت صوت و صدا را مرده ئی

بہرہ شخص سوز نوا کی نسبت سے مردہ ہے ، کیونکہ وہ صوت و صدا کی لذّت سے محروم ہے۔

Deaf is dead in the context of a melody; because he is deprived of the sense of sound (hearing).

1818

پیش چنگی مست و مسرور است کور

پیش رنگی زنده در گور است کور

ساز کے سامنے اندھا شاداں و فرحاں ہے مگر رنگ کے سا منے اندھا زندہ در گور ہے۔

Blind enjoys the ecstasy of the music; but in the world of colours he’s dead despite being alive.

1919

روح با حق زنده و پاینده ایست

ورنه این را مرده آن را زنده ایست

روح ، السّہ تعالی کے ساتھ تعلق ہی سے زندہ و پائندہ ہے، اگر یہ تعلق نہ رہے تو پھر وہی ایک اعتبار سے زندہ ہے اور دوسرے اعتبار سے مردہ ہے۔

Soul is alive as long as it has connection with Allah; when that link is severed man is alive as per one perception and the dead according to other.

2020

آنکه حی لایموت آمد حق است

زیستن باحق حیات مطلق است

صرف السّہ تعالی کی ذات ہی کی زندگی ایسی زندگی ہے ، جسے موت نہیں، اس لیے السّہ تعالی کے ساتھ تعلق قائم کرنے ہی سے حیات جاوداں حاصل ہوتی ہے۔

Only Allah lives forever, He never dies; so, connection with Allah guarantees eternal life.

2121

هر که بی حق زیست جز مردار نیست

گرچه کس در ماتم او زار نیست

جو السّہ تعالی سے تعلق منقطع کر لیتا ہے، وہ مردہ ہے ، اگرچہ کوئی اس کا ماتم گسار نہیں۔

One who loses connection with Allah is dead; though no one mourns his death.

2222

از نگاهش دیدنی ها در حجاب

قلب او بی ذوق و شوق انقلاب

اس کی نگاہ سے قابل دید چیزیں پنہاں رہتی ہیں ، اس کا قلب ذوق و شوق انقلاب سے خالی ہوتا ہے۔

To his eyes, the seeable things remain invisible; his heart is devoid of any earnest desire for revolution (change for better).

2323

سوز مشتاقی به کردارش کجا

نور آفاقی به گفتارش کجا

اس کا کردار (سوزعشق) سے، اور اس کی گفتار خدائی نور سے خالی ہے۔

His conduct lacks fire of devotion; his speech lacks heavenly light (spark of vision).

2424

مذهب او تنگ چون آفاق او

از عشا تاریک تر اشراق او

اس کا مذہب اس کے ذہنی افق کی مانند تنگ ہے، اس کی اشراق (سورج نکلنے کے بعد کا وقت) اس کی عشا ( رات) سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے۔

His religion, like his vision, is narrow (blurred); his forenoon is darker than his night (expressed by referring to prayer timings).

2525

زندگی بار گران بر دوش او

مرگ او پروردهٔ آغوش او

زندگی اس کے کندھوں پر بوجھ ہے، وہ اپنی آغوش میں اپنی موت کی پرورش کرتا ہے۔

Life is a heavy burden on his shoulders; he nourishes his own death in his embrace.

2626

عشق را از صحبتش آزار ها

از دمش افسرده گردد نار ها

اس کی صحبت میں عشق کو کئی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں، اس کی سانس آتش (عشق) کو افسردہ کر دیتی ہے۔

In his company Ishq is afflicted with diseases; his breath extinguishes fire of Ishq.

2727

نزد آن کرمی که از گل بر نخاست

مهر و ماه و گنبد گردان کجاست

وہ کیڑ ا جو مٹی سے باہر نہیں نکلتا، وہ مہر و مہ اور آسمان کو کیا جانے۔

Worm that lives under soil and never comes out; cannot understand what is moon, sun and the sky.

2828

از غلامی ذوق دیداری مجوی

از غلامی جان بیداری مجوی

غلام کے اندر حق تعالی کے جمال کے دیدار کا ذوق تلاش نہ کر ، نہ اس کے اندر جان بیدار کی جستجو کر۔

Do not search in slave the desire for audience with Allah; search not a living being in him.

2929

دیدهٔ او محنت دیدن نبرد

در جهان خورد و گران خوابید و مرد

غلام کی آنکھ (حقیقت کو) دیکھنے کے لیے (کوشش و) محنت نہیں کرتی، دنیا میں اس کا کام کھانا، غفلت کی نیند سونا اور پھر مر جانا ہے۔

Slave’s eyes never strive to see the reality; in this world he only ate, slept deep and died.

3030

حکمران بگشایدش بندی اگر

می نهد بر جان او بندی دگر

اگر اس کا حکمران اس کا ایک بند کھول دیتا ہے تو اسے دوسرے بند میں جکڑ دیتا ہے۔

His master unties one knot; and then ties him in yet another.

3131

سازد آئینی گره اندر گره

گویدش می پوش ازین آئین زره

وہ اس کے لیے ایسا آئین بناتا ہے جس میں کئی پیچ ہوں، پھر وہ اس آئین کو (مزید ظلم کرنے کے لیے ) زرہ (جواز) بناتا ہے۔

Master drafts a charter for slave having numerous knots (impracticalities); then uses that charter to perpetrate more oppression.

3232

ریز پیز قهر و کین بنمایدش

بیم مرگ ناگهان افزایدش

وہ غلام کو قہر و سختی کا جلوہ دکھتا ہے اور اس طرح اس کے اندر جو مرگ ناگہاں کا خطرہ ہوتا ہے اس میں اور اضافہ کر دیتا ہے۔

He shows the slave his brute power so that fear of sudden death in slave causes (shock and awe).

3333

تا غلام از خویش گردد ناامید

آرزو از سینه گردد ناپدید

تا کہ وہ اپنے آپ سے نا امید ہو جاۓ (اسے اپنے آپ پر اعتماد نہ رہے ) اس کے اندر سے (کچھ بننے) کی آرزو ختم ہو جاۓ۔

So that the slave suffers from despair and any desire to be something on his own is extinguished.

3434

گاه او را خلعت زیبا دهد

هم زمام کار در دستش نهد

کبھی اسے ریشم کی خلعت عطا کرتا ہے اور کبھی اس کے ہاتھ پر تھوڑا سا اختیار بھی دے دیتا ہے۔

Sometimes master grants the slave a silk robe (comfort with elegance); at times delegates a bit of power (use of carrot).

3535

مهره را شاطر ز کف بیرون جهاند

بیذق خود را به فرزینی رساند

شاطر (آقا) اپنے مہرے اس طرح پھینکتا ہے کہ اپنے پیادے کو وزیر کس سامنے کر کے (غلام ) کو بے بس کر دیتا ہے۔

(Like) a cunning chessman (the master) moves his pieces in a way that he raises his pawn to the status of queen making (the slave) helpless.

3636

نعمت امروز را شیداش کرد

تا به معنی منکر فرداش کرد

یہاں تک کہ وہ اپنے غلام کو فوری نعمتوں (مفادات) کا شیدا بنا دیتا ہے۔ تا کہ غلام مستقبل کی بہتری کا خیال چھوڑ دے ۔

Master makes the slave addict of easy life; so the slave strives not for better future.

3737

تن ستبر از مستی مهر ملوک

جان پاک از لاغری مانند دوک

غلام کا بدن آقا کی مہربانیوں کی وجہ سے موٹا ہو جاتا ہے اور اس کی روح تکلے کی طرح باریک (کمزور ) ہو جاتی ہے۔

Slave’s body grows (fattens) as master feeds him generously; but slaves soul weakens (becomes) thin like a spindle.

3838

گردد ار زار و زبون یک جان پاک

به که گردد قریهٔ تن ها هلاک

(حلانکہ ) ایک جان کے نحیف و نزار ہونے سے یہ بہتر ہے کہ بدن کی کئی بستیاں (بالکل) نیست و نابود ہو جائیں۔

Whereas, it is better that instead of weakening of soul, several abodes of men are destroyed.

3939

بند بر پا نیست بر جان و دل است

مشکل اندر مشکل اندر مشکل است

زنجیر غلام کے پاؤں میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے دل و جان (سوچ اور ہمت ) پر ہوتی ہے یہی مشکل اندر مشکل اندر مشکل ہے۔

The fetter is not on (slave’s) feet, it is on his heart and mind (on his courage and thinking); this is the difficulty, the real difficulty.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

همچنان دیدم فن صورت گری

نی براهیمی درو نی آزری

علامہ اقبال»زبور عجم»در بیان فنون لطیفهٔ غلامان»بخش 2 - مصوری

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور