صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 133

رباعی شمارهٔ 133

جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں

The secret of creation, none but you can claim

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: انغیرازتوکسنیست

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

جہان ہست و بود (کی تخلیق) کا راز تیرے سوائے اور کوئی نہیں —

صرف تو ہی اس بے نشاں (اللہ تعالیٰ ) کا نشان ہے۔

The secret of creation, none but you can claim —

You alone are the sign of the Unmarked Being's name.

2

راہ حیات میں دلیرانہ قدم رکھ —

اس جہان کی وسعتوں میں تیرے سوائے اور کوئی نہیں۔

Tread boldly on life's path, with fearless stride —

In the vast expanse of the world, none but you abide.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زمین را رازدان آسمان گیر

مکان را شرح رمز لامکان گیر

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 132

اگلی نظم

زمین خاک در میخانهٔ ما

فلک یک گردش پیمانهٔ ما

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 134

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00