صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 119

رباعی شمارهٔ 119

فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں

Though philosophers have shattered countless forms they've sought

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ستند

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
حکیمان گرچه صد پیکر شکستند
مقیم سومنات بود و هستند

فلسفی اگرچہ (تصوّرات کے) صدہا پیکر توڑ چکے ہیں —

لیکن وہ ابھی تک ہست و بود کے سومنات میں پڑے ہیں۔

Though philosophers have shattered countless forms they've sought —

In the Somnath of existence, still they're caught.

22
چسان افرشته و یزدان بگیرند
هنوز آدم به فتراکی نبستند

وہ فرشتے اور خدا کو کیسے اپنے فکر کی گرفت میں لا سکتے ہیں —

جب کہ انہوں نے ابھی تک آدم کو بھی اپنے شکاربند میں نہیں باندھا۔

How can they capture angels and God in their thought —

When even Adam escapes the snares they've wrought?

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرنج از برهمن ای واعظ شهر

گر از ما سجده ئی پیش بتان خواست

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 118

اگلی نظم

جهانها روید از مشت گل من

بیا سرمایه گیر از حاصل من

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 120

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00