صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 46

رباعی شمارهٔ 46

تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا

You went to Mount Sinai, a beggar for the Divine Light

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: میهست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

تو گدائے جلوہ بن کر طور پر گیا —

کیونکہ تیری جان اپنے آپ سے نا آشنا تھی۔

You went to Mount Sinai, a beggar for the Divine Light —

For your soul was a stranger to its own sight.

2

آدم (انسان کامل) کی تلاش میں نکل —

خدا بھی اسی کی تلاش میں ہے۔

Set forth in search of a (Perfect) Man —

For even God seeks him across the span.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خرد اندر سر هر کس نهادند

تنم چون دیگران از خاک و خون است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 45

اگلی نظم

بگو جبریل را از من پیامی

مرا آن پیکر نوری ندادند

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 47

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

نهان در سینهٔ ما عالمی هست

بخاک ما دلی در دل غمی هست

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 84

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00