صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 38

رباعی شمارهٔ 38

کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے

You ask me what is this heart in your breast

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: لشد

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
1

کیا پوچھتا ہے کہ سینے کے اندر دل کیا ہے —

جب عقل نے سوز پیدا کیا تو وہ دل بن گیا ۔

You ask me what is this heart in your breast —

It is your intellect that has been blessed with feeling.

2

دل اس حرارت کی لذت سے ہی دل تھا لیکن —

جو دم بھر بھی اس سے محروم ہوا تو مٹی ہو گیا ۔

While it feels, it is alive —

But when it ceases to feel, it is dust

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

چو ذوق نغمه ام در جلوت آرد

قیامت افکنم در محفل خویش

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 37

اگلی نظم

خرد گفت او بچشم اندر نگنجد

نگاه شوق در امید و بیم است

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 39

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00