صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 75

رباعی شمارهٔ 75

ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے

From one star to another, hundreds of worlds unfold

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: انبود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
ز انجم تا به انجم صد جهان بود
خرد هر جا که پر زد آسمان بود

ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں جہان تھے —

عقل جہاں تک پرواز کرسکی، وہاں ایک آسمان موجود تھا ۔

From one star to another, hundreds of worlds unfold —

Wherever wisdom soared, a sky it beheld, so bold.

22
ولیکن چون بخود نگریستم من
کران بیکران در من نهان بود

لیکن جب میں نے اپنے اندر دیکھا —

تو میرے اندر ایک جہان کیا لا محدود جہان مخفی تھے۔

But when I gazed within, a revelation to be seen —

Infinite universes concealed, in my being, serene.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

صنوبر بندهٔ آزادهٔ او

فروغ روی گل از بادهٔ او

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 74

اگلی نظم

بپای خود مزن زنجیر تقدیر

ته این گنبد گردان رهی هست

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 76

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چو در جنت خرامیدم پس از مرگ

به چشمم این زمین و آسمان بود

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 100

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00