صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »پیام مشرق
  3. »لالهٔ طور
  4. »رباعی شمارهٔ 162

رباعی شمارهٔ 162

ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے

The passion for words has bled my core

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: رکرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: مخدوم حسان، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
صداکار: مخدوم حسان لاهوری
Toggle stanza 1
11
مرا ذوق سخن خون در جگر کرد
غبار راه را مشت شرر کرد

ذوق سخن نے میرے جگر کو خون کر دیا ہے —

میں جو غبار راہ تھا اس نے میری خاک کو شرر بنا دیا ہے۔

The passion for words has bled my core —

Transformed this humble dust of path into sparks that soar.

22
به گفتار محبت لب گشودم
بیان این راز را پوشیده تر کرد

محبت کو بیان کرنے کے لیے میں نے اپنے لب کھولے —

مگر بیان نے اس راز کو اور پوشیدہ بنا دیا۔

With words of love, I opened my lips to speak —

Yet the telling made the secret more oblique.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هنوز از بند آب و گل نرستی

تو گوئی رومی و افغانیم من

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 161

اگلی نظم

گریز آخر ز عقل ذوفنون کرد

دل خودکام را از عشق خون کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 163

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بهر دل عشق رنگ تازه بر کرد

گهی با سنگ گه با شیشه سر کرد

علامہ اقبال»پیام مشرق»لالهٔ طور»رباعی شمارهٔ 160

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

تصاویر

◆

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00