حکومت الھی
Divine Government
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
بندهٔ حق بی نیاز از هر مقام
نی غلام او را نه او کس را غلام
بندہَ حق (مردِ حق) ہر مقام سے بے نیاز ہے ۔ نہ وہ کسی کا غلام ہے نہ کوئی اس کا غلام ۔
The servant of God has no need of any station, no man is his slave, and he is the slave of none;
رسم و راه و دین و آئینش ز حق
زشت و خوب و تلخ و نوشینش ز حق
اس کے طور طریقے اور اس کا دین اور اس کا آئین سب خدا کی طرف سے ہیں ۔ اس کا برا اور بھلا اور کڑوا اور میٹھا سب اللہ کی طرف سے ہے ۔
His customs, his way, his faith, his laws are of God, of God his foul and fair, his bitter and sweet.
عقل خود بین غافل از بهبود غیر
سود خود بیند نبیند سود غیر
خودبیں عقل دوسروں کی خیرخواہی سے بے خبر ہے ۔ وہ صرف اپنا مفاد دیکھتی ہے کسی اور کا فائدہ نہیں دیکھتی ۔
The self-seeking mind heeds not another’s welfare, sees only its own benefit, not another’s;
وحی حق بینندهٔ سود همه
در نگاهش سود و بهبود همه
حق تعالیٰ کی وحی سب کے فائدے پر توجہ دیتی ہے ۔ اس کی نگاہ میں سب کا فائدہ اور بھلائی ہوتی ہے ۔
God’s revelation sees the benefit of all, its regard is for the welfare and profit of all.
عادل اندر صلح و هم اندر مصاف
وصل و فصلش لایراعی لایخاف
وحی حق صلح میں بھی اور جنگ میں بھی عدل و انصاف سے کام لیتی ہے ۔ وہ دوستی اور دشمنی میں نہ تو کسی کی رعایت کرتی ہے اور نہ کسی سے خوفزدہ ہوتی ہے ۔
Just alike in peace and in the ranks of war, His joining and parting are without fear and favour;
غیر حق چون ناهی و آمر شود
زور ور بر ناتوان قاهر شود
حق کے سوا جب کوئی اور کسی کام کے کرنے کا یا نہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس سے طاقتور ، کمزور پر قہر کرنے والا بن جاتا ہے ۔
When other than God determines the aye and nay then the strong man tyrannises over the weak;
زیر گردون آمری از قاهری است
آمری از «ما سوی الله» کافری است
آسمان تلے (دنیا) میں آمریت ، ظلم و جور سے قائم ہوتی ہے ۔ جو آمریت خدا کی حکمرانی سے ہٹ کر ہو وہ کافری ہے ۔
In this world command is rooted in naked power; mastery drawn from other than God is pure unbelief.
قاهر آمر که باشد پخته کار
از قوانین گرد خود بندد حصار
قہر و غضب ڈھانے والا مطلق العنان حکمران جو تجربہ کار ہے اپنے ارد گرد قوانین کا قلعہ بنا لیتا ہے ۔
The tyrannical ruler who is well-versed in power builds about himself a fortress made up of edicts;
جره شاهین تیز چنگ و زود گیر
صعوه را در کارها گیرد مشیر
تیز پنجوں اور شکار کو جلد پکڑنے والا نر باز امور حکومت میں ممولوں کو مشیر بنا لیتا ہے ۔
White falcon, sharp of claw and swift to seize, he takes for his counsellor the silly sparrow
قاهری را شرع و دستوری دهد
بی بصیرت سرمه با کوری دهد
وہ قاہری کو شرع اور دستور کی صورت دیتا ہے (جو اس کا فریب ہوتا ہے ) اس کی مثال اس نابینا آدمی کی سی ہے جو کسی اندھے کو سرمہ دیتا ہے ۔
Giving to tyranny its constitution and laws, a sightless man giving collyrium to the blind.
حاصل آئین و دستور ملوک
دهخدایان فربه و دهقان چو دوک
بادشاہوں کے دستور و آئین کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جاگیردار موٹے ہو جاتے ہیں جبکہ کسان بیچارہ (چرخے کے) تکلے کی مانند دبلا اور کمزور ہو جاتا ہے ۔
What results from the laws and constitutions of kings? Fat lords of the manor, peasants lean as spindles!
وای بر دستور جمهور فرنگ
مرده تر شد مرده از صور فرنگ
اہل مغرب کے جمہوری آئین پر افسوس ہے ۔ اہل مغرب (فرنگی) کے صور پھونکنے سے تو مردہ اور زیادہ مردہ ہو جاتا ہے ۔
Woe to the constitution of the democracy of Europe! The sound of that trumpet renders the dead still deader;
حقه بازان چون سپهر گرد گرد
از امم بر تختهٔ خود چیده نرد
جمہوری تماشا دکھانے والے یورپی مداریوں نے گردش کرنے والے آسمان کی مانند اپنی شطرنج کے تختہ قوموں کے مہرے رکھے ہوئے ہیں ۔
Those tricksters, treacherous as the revolving spheres, have played the nations by their own rules, and swept the board!
شاطران این گنج ور آن رنج بر
هر زمان اندر کمین یکدگر
یورپی شاطر (شعبدہ باز) تو خزانے اکٹھے کرنے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے دکھ اٹھا رہے ہیں ۔ یہ ہر لمحہ ایک دوسرے کی گھات میں ہیں ۔
Robbers they, this one wealthy, that one a toiler, all the time lurking in ambush one for another;
فاش باید گفت سر دلبران
ما متاع و این همه سوداگران
مجبوریوں کا راز کھل کر بیان کرنا چاہیے اور وہ راز یہ ہے کہ ہم تو مال و متاع ہیں اور یہ سب سوداگر ہیں ۔
Now is the hour to disclose the secret of those charmers – we are the merchandise, and they take all the profits.
دیده ها بی نم ز حب سیم و زر
مادران را بار دوش آمد پسر
سونے چاندی (مال و دولت) کی محبت نے ان کی آنکھوں سے نمی غائب کر دی ہے ۔ ہمدردی چھین لی ہے ۔ یہاں تک کہ ماؤں کے لیے اولاد گویا کندھوں کا بوجھ بن رہی ہے (مامتا بھی ختم ہو گئی ہے ) ۔
Their eyes are hard out of the love of silver and gold, their sons are a burden upon their mothers’ backs.
وای بر قومی که از بیم ثمر
می برد نم را ز اندام شجر
افسوس اس قوم پر جو پھل کے خوف سے درخت کے تنے کے اندر سے نمی کھینچ لیتی ہے ۔
Woe to a people who, out of fear for the fruit, carries off the very sap from the tree’s trunk.
تا نیارد زخمه از تارش سرود
می کشد نازاده را اندر وجود
تاکہ اس مضراب ، ساز سے کوئی سر پیدا نہ کرے ۔ وہ نہ پیدا ہونے والے بچوں کو وجود کے اندر ختم کر دیتے ہیں ۔
And, that the plectrum wins no melody from its strings, slays the infant yet unborn in its mother’s womb.
گرچه دارد شیوه های رنگ رنگ
من به جز عبرت نگیرم از فرنگ
اگرچہ افرنگ (یورپ) رنگ رنگ کے انداز رکھتا ہے لیکن میں انہیں دیکھ کر صرف عبرت حاصل کرتا ہوں ۔
For all its repertory of varied charms I will take nothing from Europe except-a warning!
ای به تقلیدش اسیر آزاد شو
دامن قرآن بگیر آزاد شو
اے (وہ شخص) تو جو افرنگی کی بے جا قسم کی پیروی کا غلام بنا ہوا ہے اس سے آزاد ہو جا ۔ قرآن کریم کا دامن تھام اور صحیح معنوں میں آزاد ہو جا ۔
You enchained to the imitation of Europe, be free, clutch the skirt of the Koran, and be free!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور