محکمات عالم قرانی: خلافت آدم
The Vicegerency of Adam
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
در دو عالم هر کجا آثار عشق
ابن آدم سری از اسرار عشق
دونوں جہانوں میں جہاں کہیں بھی عشق کے آثار ہیں وہاں ابن آدم عشق کے رازوں میں سے ایک راز ہے ۔
In both worlds, everywhere are the marks of love; man himself is a mystery of love.
سر عشق از عالم ارحام نیست
او ز سام و حام و روم و شام نیست
عشق کے راز کا تعلق ارحام سے نہیں ہے ۔ اس کا یعنی رازِ عشق کا سام اور حام اور روم و شام سے کوئی تعلق نہیں (عشق حسب و نسب اور رنگ و نسل کی قید سے آزاد ہے) ۔
Love’s secret belongs not to the world of wombs, not to Shem or Ham, Greece or Syria:
کوکب بی شرق و غرب و بی غروب
در مدارش نی شمال و نی جنوب
وہ ایک ایسا ستارہ ہے جس کا مشرق و مغرب اور غروب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وہ کبھی غروب نہیں ہوتا اور اس کے مدار میں نہ شمال ہے اور نہ جنوب ہے ۔
A star without East and West, a star unsetting in whose orbit is neither North nor South.
حرف انی جاعل تقدیر او
از زمین تا آسمان تفسیر او
اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ انی جاعل کے الفاظ اس کی تقدیر ہے اور زمین سے آسمان تک ہر شے کی تسخیر اس کی تفسیر ہے ۔ مطلب یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کا نائب اور اس لحاظ سے اس ذات کی صفات کا مظہر ہے ۔
The words I am setting tell his destiny, their exegesis reaches from earth to heaven.
مرگ و قبر و حشر و نشر احوال اوست
نور و نار آن جهان اعمال اوست
موت اور قبر اور حشر و نشر اس (مردِ کامل) کے احوال ہیں اور اس جہان کا نور یعنی جنت اور آگ یعنی دوزخ اس کے اعمال ہیں ۔
Death, grave, uprising, judgment are his estates, the light and fire of the other world are his works;
او امام و او صلوت و او حرم
او مداد و او کتاب و او قلم
وہ امام اور وہ نماز اور وہ کعبہ ہے وہ سیاہی ہے اور وہ کتاب ہے اور وہ قلم ہے ۔
Himself is Imam, prayer and sanctuary, himself the Ink, himself the Book and the Pen.
خرده خرده غیب او گردد حضور
نی حدود او را نه ملکش را ثغور
اس کا غیب آہستہ آہستہ کے لیے ظہور بن جاتا ہے نہ اس کی اپنی کوئی حدود ہیں اور نہ اس کے ملک کی سرحدیں ہیں ۔
Little by little what is hidden in him becomes visible; it has no boundaries, its kingdom no frontiers.
از وجودش اعتبار ممکنات
اعتدال او عیار ممکنات
اس کے وجود ہی سے ممکنات کا اندازہ ہوتا ہے اس کا اعتدال ممکنات کی کسوٹی ہے ۔
His being gives value to contingent things, his equilibrium is the touchstone of contingent things.
من چه گویم از یم بی ساحلش
غرق اعصار و دهور اندر دلش
میں اس کے ناپیدا کنار (بے کراں ) سمندر کے بارے میں کیا بات کروں ۔ اس کے دل میں زمانے اور نئے ادوار پوشیدہ ہیں (مردِ کامل کے دل کو بے کنار سمندر سے تشبیہ دی ہے ) ۔
What shall I declare of his sea without a shore? All ages and all times are drowned in his heart.
آنچه در آدم بگنجد عالم است
آنچه در عالم نگنجد آدم است
وہ چیز جو آدم میں سما جاتی ہے وہ عالم ہے اور جو عالم میں نہیں سما سکتا وہ آدم ہے ۔
That which is contained within man is the world, that which is not contained within the world is man.
آشکارا مهر و مه از جلوتش
نیست ره جبریل را در خلوتش
سورج اور چاند اس کی جلوت ہی سے نمایاں ہیں ۔ اس کی خلوت میں جبریل کا بھی گذر نہیں ہے ۔
Sun and moon are manifest through his self-display; even Gabriel cannot penetrate his privacy.
برتر از گردون مقام آدم است
اصل تهذیب احترام آدم است
آدم کا مقام آسمان سے بھی بلند تر ہے ۔ تہذیب کی اصل آدم کا احترام ہے ۔
Loftier than the heavens is the station of man, and the beginning of education is respect for man.
زندگی ای زنده دل دانی که چیست
عشق یک بین در تماشای دوئی است
اے زندہ و بیدار دل کیا تو جانتا ہے کہ زندگی کیا ہے حقیقی زندگی دوئی میں ایک کو دیکھنے یعنی کثرت میں وحدت دیکھنے کا نام ہے ۔
Man alive in heart, do you know what thing life is? One-seeing love that is contemplating duality:
مرد و زن وابستهٔ یکدیگرند
کائنات شوق را صورتگرند
مرد اور عورت ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ۔ دونوں شوق کی کائنات کے صورت گر ہیں ۔
Man and woman are bound one to the other, they are the fashioners of the creatures of desire.
زن نگهدارندهٔ نار حیات
فطرت او لوح اسرار حیات
عورت زندگی کی آگ کی حفاظت کرنے والی ہے ۔ اس کی فطرت زندگی کے رازوں کی تختی ہے ۔
Woman is the guardian of the fire of life, her nature is the tablet of life’s mysteries;
آتش ما را بجان خود زند
جوهر او خاک را آدم کند
عورت ہماری آگ کو اپنی جان پر لگاتی ہے ۔ اس کا جوہر خاک کو آدم یعنی آدمی بنا دیتا ہے ۔
She strikes our fire against her own soul and it is her substance that makes of the dust a man.
در ضمیرش ممکنات زندگی
از تب و تابش ثبات زندگی
اس کے ضمیر میں زندگی کے ممکنات ہیں ۔ اس کی تب و تاب سے زندگی ثبات پاتی ہے ۔
In her heart lurk life’s potentialities, from her glow and flame life derives stability;
شعله ئی کز وی شرر ها در گسست
جان و تن بی سوز او صورت نبست
وہ عورت ایک ایسا شعلہ ہے جس سے بہت سی چنگاریاں نکلتی ہیں اس کے سوز کے بغیر جسم و جان صورت پذیر نہیں ہوتے ۔
She is a fire from which the sparks break forth, body and soul, lacking her glow, cannot take shape.
ارج ما از ارجمندیهای او
ما همه از نقشبندیهای او
ہماری توقیر عورت ہی کی سربلندی سے ہے ۔ ہم سب اس (ماں ) کی نقشبندی سے وجود میں آئے ہیں ۔
What worth we possess derives from her values for we are all images of her fashioning;
حق ترا داد است اگر تاب نظر
پاک شو قدسیت او را نگر
اگر حق تعالیٰ نے تجھے دیکھنے کی صلاحیت دی ہے تو تو پہلے خود پاک ہو اور پھر اس (ماں ) کی قدسیت کو دیکھ ۔ یعنی عورت کا وجود انسانوں کے لیے بڑا ہی لائق احترام و محبت ہے ۔
If God has bestowed on you a glance aflame cleanse yourself, and behold her sanctity.
ای ز دینت عصر حاضر برده تاب
فاش گویم با تو اسرار حجاب
(اے جدید دور کے مسلمان ) تجھ سے عصر حاضر نے دین کی روشنی چھین لی ہے ۔ میں تجھ پر پردے کے رازوں کی بات واضح کرتا ہوں ۔
You from whose faith the present age has taken all fire, now I will tell you openly the secrets of the veil.
ذوق تخلیق آتشی اندر بدن
از فروغ او فروغ انجمن
تخلیق کا ذوق بدن میں آگ کا ہونا ہے ۔ اس کی روشنی سے انجمن کی روشنی ہے ۔
The joy of creation is a fire in the body and society is lightened by that light;
هر که بردارد ازین آتش نصیب
سوز و ساز خویش را گردد رقیب
جو کوئی بھی اس آگ سے حصہ پاتا ہے وہ اپنے سوز و ساز کا محافظ بن جاتا ہے ۔
And whosoever takes any portion of that fire watches jealously over his private passion;
هر زمان بر نقش خود بندد نظر
تا نگیرد لوح او نقش دگر
وہ ہر وقت اپنے نقش پر نظر رکھتا ہے تاکہ اس کی تختی کوئی اور نقش اختیار نہ کر لے ۔
All the time he fixes his gaze on his own image lest his tablet should receive any other image.
مصطفی اندر حرا خلوت گزید
مدتی جز خویشتن کس را ندید
رسول اللہ ﷺ نے غارِ حرا میں خلوت اختیار فرمائی اور ایک مدت تک اپنے سوا کسی اور کو نہ دیکھا ۔
Mohammed chose solitude upon Mount Hira and for a space saw no other beside himself;
نقش ما را در دل او ریختند
ملتی از خلوتش انگیختند
ہمارانقش قدرت کی طرف سے رسول اللہ کے دل میں ڈالا گیا آپکی خلوت کے اندر سے ایک نئی ملت ابھری ۔
Our image was then poured into his heart and out of his solitude a nation arose.
می توانی منکر یزدان شدن
منکر از شأن نبی نتوان شدن
تو خدا کا منکر تو ہو سکتا ہے لیکن رسول اللہ کی عظمت شان سے انکار ممکن نہیں ۔
Though you may be an unbeliever in God, yet you cannot gainsay the Prophet’s glory.
گرچه داری جان روشن چون کلیم
هست افکار تو بی خلوت عقیم
خواہ تجھ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی سی روشن جان کیوں نہ ہو پھر بھی خلوت کے بغیر تیرے افکار بانجھ رہیں گے ۔
Though you possess a soul illumined as Moses, yet without solitude your thoughts remain barren;
از کم آمیزی تخیل زنده تر
زنده تر جوینده تر یابنده تر
کم آمیزی سے تخیل بہت زندہ ہو جاتا ہے ، پہلے سے بھی زیادہ زندہ ، زیادہ تلاش کرنے والا اور اپنی تلاش کے مقصد کو زیادہ پانے والا بن جاتا ہے ۔
By isolation the imagination becomes more vivid, more vivid, more questing, more finding.
علم و هم شوق از مقامات حیات
هر دو می گیرد نصیب از واردات
علم اور شوق دونوں زندگی کے مقامات میں سے ہیں ۔ ہر دو کا تعلق مشاہدات اور تجربات سے ہے ۔
Science and passion are both stations of life both take a share of the impact of events.
علم از تحقیق لذت می برد
عشق از تخلیق لذت می برد
علم تحقیق سے لذت حاصل کرتا ہے اور عشق تخلیق سے ۔
Science derives pleasure from verification, love derives pleasure from creativeness.
صاحب تحقیق را جلوت عزیز
صاحب تخلیق را خلوت عزیز
تحقیق کرنے والے (صاحب علم) کو جلوت (انجمن) پیاری ہے اور صاحب تخلیق کو خلوت عزیز ہے ۔
Display is very precious to the verifier, to the creator solitude is very precious.
چشم موسی خواست دیدار وجود
این همه از لذت تحقیق بود
حضرت موسیٰ کی آنکھ نے اس ذات باری کے دیدار کی خواہش کی ۔ ان کی یہ خواہش سب تخلیق کی لذت کا کرشمہ تھا ۔
The eye of Moses desired to behold Being – that was all part of the pleasure of verification;
لن ترانی نکته ها دارد رقیق
اندکی گم شو درین بحر عمیق
لن ترانی (تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا، خدا کا جواب) میں بڑی گہری باتیں ہیں ۔ ذرا اس گہرے سمندر میں گم ہو جا ۔
Thou shalt not see Me contains many subtleties – lose yourself a little while in this sea profound.
هر کجا بی پرده آثار حیات
چشمه زارش در ضمیر کائنات
جہاں کہیں بھی زندگی کے آثار بے پردہ ہیں ان کا سرچشمہ کائنات کے ضمیر کے اندر ہے ۔
On all sides life’s traces appear unveiled, its fountain wells up in the heart of creation.
در نگر هنگامهٔ آفاق را
زحمت جلوت مده خلاق را
تو آفاق کے ہنگاموں پر نظر ڈال اور خالق کائنات کو ظاہر ہونے کی زحمت نہ دے ۔
Consider the tumult that rages through all horizons; inflict not on the Creator the trouble of display;
حفظ هر نقش آفرین از خلوت است
خاتم او را نگین از خلوت است
ہر نقش آفریں کی حفاظت خلوت سے ہے اس کی انگوٹھی کا نگینہ خلوت ہی ہے ۔
Solitude is the protection of every artist, solitude is the bezel in the artist’s ring.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور