صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک عطارد
  4. »محکمات عالم قرآنی
  5. »بخش 1 - خلافت آدم

بخش 1 - خلافت آدم

محکمات عالم قرانی: خلافت آدم

The Vicegerency of Adam

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

در دو عالم هر کجا آثار عشق

ابن آدم سری از اسرار عشق

دونوں جہانوں میں جہاں کہیں بھی عشق کے آثار ہیں وہاں ابن آدم عشق کے رازوں میں سے ایک راز ہے ۔

In both worlds, everywhere are the marks of love; man himself is a mystery of love.

22

سر عشق از عالم ارحام نیست

او ز سام و حام و روم و شام نیست

عشق کے راز کا تعلق ارحام سے نہیں ہے ۔ اس کا یعنی رازِ عشق کا سام اور حام اور روم و شام سے کوئی تعلق نہیں (عشق حسب و نسب اور رنگ و نسل کی قید سے آزاد ہے) ۔

Love’s secret belongs not to the world of wombs, not to Shem or Ham, Greece or Syria:

33

کوکب بی شرق و غرب و بی غروب

در مدارش نی شمال و نی جنوب

وہ ایک ایسا ستارہ ہے جس کا مشرق و مغرب اور غروب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وہ کبھی غروب نہیں ہوتا اور اس کے مدار میں نہ شمال ہے اور نہ جنوب ہے ۔

A star without East and West, a star unsetting in whose orbit is neither North nor South.

44

حرف انی جاعل تقدیر او

از زمین تا آسمان تفسیر او

اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ انی جاعل کے الفاظ اس کی تقدیر ہے اور زمین سے آسمان تک ہر شے کی تسخیر اس کی تفسیر ہے ۔ مطلب یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کا نائب اور اس لحاظ سے اس ذات کی صفات کا مظہر ہے ۔

The words I am setting tell his destiny, their exegesis reaches from earth to heaven.

55

مرگ و قبر و حشر و نشر احوال اوست

نور و نار آن جهان اعمال اوست

موت اور قبر اور حشر و نشر اس (مردِ کامل) کے احوال ہیں اور اس جہان کا نور یعنی جنت اور آگ یعنی دوزخ اس کے اعمال ہیں ۔

Death, grave, uprising, judgment are his estates, the light and fire of the other world are his works;

66

او امام و او صلوت و او حرم

او مداد و او کتاب و او قلم

وہ امام اور وہ نماز اور وہ کعبہ ہے وہ سیاہی ہے اور وہ کتاب ہے اور وہ قلم ہے ۔

Himself is Imam, prayer and sanctuary, himself the Ink, himself the Book and the Pen.

77

خرده خرده غیب او گردد حضور

نی حدود او را نه ملکش را ثغور

اس کا غیب آہستہ آہستہ کے لیے ظہور بن جاتا ہے نہ اس کی اپنی کوئی حدود ہیں اور نہ اس کے ملک کی سرحدیں ہیں ۔

Little by little what is hidden in him becomes visible; it has no boundaries, its kingdom no frontiers.

88

از وجودش اعتبار ممکنات

اعتدال او عیار ممکنات

اس کے وجود ہی سے ممکنات کا اندازہ ہوتا ہے اس کا اعتدال ممکنات کی کسوٹی ہے ۔

His being gives value to contingent things, his equilibrium is the touchstone of contingent things.

99

من چه گویم از یم بی ساحلش

غرق اعصار و دهور اندر دلش

میں اس کے ناپیدا کنار (بے کراں ) سمندر کے بارے میں کیا بات کروں ۔ اس کے دل میں زمانے اور نئے ادوار پوشیدہ ہیں (مردِ کامل کے دل کو بے کنار سمندر سے تشبیہ دی ہے ) ۔

What shall I declare of his sea without a shore? All ages and all times are drowned in his heart.

1010

آنچه در آدم بگنجد عالم است

آنچه در عالم نگنجد آدم است

وہ چیز جو آدم میں سما جاتی ہے وہ عالم ہے اور جو عالم میں نہیں سما سکتا وہ آدم ہے ۔

That which is contained within man is the world, that which is not contained within the world is man.

1111

آشکارا مهر و مه از جلوتش

نیست ره جبریل را در خلوتش

سورج اور چاند اس کی جلوت ہی سے نمایاں ہیں ۔ اس کی خلوت میں جبریل کا بھی گذر نہیں ہے ۔

Sun and moon are manifest through his self-display; even Gabriel cannot penetrate his privacy.

1212

برتر از گردون مقام آدم است

اصل تهذیب احترام آدم است

آدم کا مقام آسمان سے بھی بلند تر ہے ۔ تہذیب کی اصل آدم کا احترام ہے ۔

Loftier than the heavens is the station of man, and the beginning of education is respect for man.

1313

زندگی ای زنده دل دانی که چیست

عشق یک بین در تماشای دوئی است

اے زندہ و بیدار دل کیا تو جانتا ہے کہ زندگی کیا ہے حقیقی زندگی دوئی میں ایک کو دیکھنے یعنی کثرت میں وحدت دیکھنے کا نام ہے ۔

Man alive in heart, do you know what thing life is? One-seeing love that is contemplating duality:

1414

مرد و زن وابستهٔ یکدیگرند

کائنات شوق را صورتگرند

مرد اور عورت ایک دوسرے سے وابستہ ہیں ۔ دونوں شوق کی کائنات کے صورت گر ہیں ۔

Man and woman are bound one to the other, they are the fashioners of the creatures of desire.

1515

زن نگهدارندهٔ نار حیات

فطرت او لوح اسرار حیات

عورت زندگی کی آگ کی حفاظت کرنے والی ہے ۔ اس کی فطرت زندگی کے رازوں کی تختی ہے ۔

Woman is the guardian of the fire of life, her nature is the tablet of life’s mysteries;

1616

آتش ما را بجان خود زند

جوهر او خاک را آدم کند

عورت ہماری آگ کو اپنی جان پر لگاتی ہے ۔ اس کا جوہر خاک کو آدم یعنی آدمی بنا دیتا ہے ۔

She strikes our fire against her own soul and it is her substance that makes of the dust a man.

1717

در ضمیرش ممکنات زندگی

از تب و تابش ثبات زندگی

اس کے ضمیر میں زندگی کے ممکنات ہیں ۔ اس کی تب و تاب سے زندگی ثبات پاتی ہے ۔

In her heart lurk life’s potentialities, from her glow and flame life derives stability;

1818

شعله ئی کز وی شرر ها در گسست

جان و تن بی سوز او صورت نبست

وہ عورت ایک ایسا شعلہ ہے جس سے بہت سی چنگاریاں نکلتی ہیں اس کے سوز کے بغیر جسم و جان صورت پذیر نہیں ہوتے ۔

She is a fire from which the sparks break forth, body and soul, lacking her glow, cannot take shape.

1919

ارج ما از ارجمندیهای او

ما همه از نقشبندیهای او

ہماری توقیر عورت ہی کی سربلندی سے ہے ۔ ہم سب اس (ماں ) کی نقشبندی سے وجود میں آئے ہیں ۔

What worth we possess derives from her values for we are all images of her fashioning;

2020

حق ترا داد است اگر تاب نظر

پاک شو قدسیت او را نگر

اگر حق تعالیٰ نے تجھے دیکھنے کی صلاحیت دی ہے تو تو پہلے خود پاک ہو اور پھر اس (ماں ) کی قدسیت کو دیکھ ۔ یعنی عورت کا وجود انسانوں کے لیے بڑا ہی لائق احترام و محبت ہے ۔

If God has bestowed on you a glance aflame cleanse yourself, and behold her sanctity.

2121

ای ز دینت عصر حاضر برده تاب

فاش گویم با تو اسرار حجاب

(اے جدید دور کے مسلمان ) تجھ سے عصر حاضر نے دین کی روشنی چھین لی ہے ۔ میں تجھ پر پردے کے رازوں کی بات واضح کرتا ہوں ۔

You from whose faith the present age has taken all fire, now I will tell you openly the secrets of the veil.

2222

ذوق تخلیق آتشی اندر بدن

از فروغ او فروغ انجمن

تخلیق کا ذوق بدن میں آگ کا ہونا ہے ۔ اس کی روشنی سے انجمن کی روشنی ہے ۔

The joy of creation is a fire in the body and society is lightened by that light;

2323

هر که بردارد ازین آتش نصیب

سوز و ساز خویش را گردد رقیب

جو کوئی بھی اس آگ سے حصہ پاتا ہے وہ اپنے سوز و ساز کا محافظ بن جاتا ہے ۔

And whosoever takes any portion of that fire watches jealously over his private passion;

2424

هر زمان بر نقش خود بندد نظر

تا نگیرد لوح او نقش دگر

وہ ہر وقت اپنے نقش پر نظر رکھتا ہے تاکہ اس کی تختی کوئی اور نقش اختیار نہ کر لے ۔

All the time he fixes his gaze on his own image lest his tablet should receive any other image.

2525

مصطفی اندر حرا خلوت گزید

مدتی جز خویشتن کس را ندید

رسول اللہ ﷺ نے غارِ حرا میں خلوت اختیار فرمائی اور ایک مدت تک اپنے سوا کسی اور کو نہ دیکھا ۔

Mohammed chose solitude upon Mount Hira and for a space saw no other beside himself;

2626

نقش ما را در دل او ریختند

ملتی از خلوتش انگیختند

ہمارانقش قدرت کی طرف سے رسول اللہ کے دل میں ڈالا گیا آپکی خلوت کے اندر سے ایک نئی ملت ابھری ۔

Our image was then poured into his heart and out of his solitude a nation arose.

2727

می توانی منکر یزدان شدن

منکر از شأن نبی نتوان شدن

تو خدا کا منکر تو ہو سکتا ہے لیکن رسول اللہ کی عظمت شان سے انکار ممکن نہیں ۔

Though you may be an unbeliever in God, yet you cannot gainsay the Prophet’s glory.

2828

گرچه داری جان روشن چون کلیم

هست افکار تو بی خلوت عقیم

خواہ تجھ میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی سی روشن جان کیوں نہ ہو پھر بھی خلوت کے بغیر تیرے افکار بانجھ رہیں گے ۔

Though you possess a soul illumined as Moses, yet without solitude your thoughts remain barren;

2929

از کم آمیزی تخیل زنده تر

زنده تر جوینده تر یابنده تر

کم آمیزی سے تخیل بہت زندہ ہو جاتا ہے ، پہلے سے بھی زیادہ زندہ ، زیادہ تلاش کرنے والا اور اپنی تلاش کے مقصد کو زیادہ پانے والا بن جاتا ہے ۔

By isolation the imagination becomes more vivid, more vivid, more questing, more finding.

3030

علم و هم شوق از مقامات حیات

هر دو می گیرد نصیب از واردات

علم اور شوق دونوں زندگی کے مقامات میں سے ہیں ۔ ہر دو کا تعلق مشاہدات اور تجربات سے ہے ۔

Science and passion are both stations of life both take a share of the impact of events.

3131

علم از تحقیق لذت می برد

عشق از تخلیق لذت می برد

علم تحقیق سے لذت حاصل کرتا ہے اور عشق تخلیق سے ۔

Science derives pleasure from verification, love derives pleasure from creativeness.

3232

صاحب تحقیق را جلوت عزیز

صاحب تخلیق را خلوت عزیز

تحقیق کرنے والے (صاحب علم) کو جلوت (انجمن) پیاری ہے اور صاحب تخلیق کو خلوت عزیز ہے ۔

Display is very precious to the verifier, to the creator solitude is very precious.

3333

چشم موسی خواست دیدار وجود

این همه از لذت تحقیق بود

حضرت موسیٰ کی آنکھ نے اس ذات باری کے دیدار کی خواہش کی ۔ ان کی یہ خواہش سب تخلیق کی لذت کا کرشمہ تھا ۔

The eye of Moses desired to behold Being – that was all part of the pleasure of verification;

3434

لن ترانی نکته ها دارد رقیق

اندکی گم شو درین بحر عمیق

لن ترانی (تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا، خدا کا جواب) میں بڑی گہری باتیں ہیں ۔ ذرا اس گہرے سمندر میں گم ہو جا ۔

Thou shalt not see Me contains many subtleties – lose yourself a little while in this sea profound.

3535

هر کجا بی پرده آثار حیات

چشمه زارش در ضمیر کائنات

جہاں کہیں بھی زندگی کے آثار بے پردہ ہیں ان کا سرچشمہ کائنات کے ضمیر کے اندر ہے ۔

On all sides life’s traces appear unveiled, its fountain wells up in the heart of creation.

3636

در نگر هنگامهٔ آفاق را

زحمت جلوت مده خلاق را

تو آفاق کے ہنگاموں پر نظر ڈال اور خالق کائنات کو ظاہر ہونے کی زحمت نہ دے ۔

Consider the tumult that rages through all horizons; inflict not on the Creator the trouble of display;

3737

حفظ هر نقش آفرین از خلوت است

خاتم او را نگین از خلوت است

ہر نقش آفریں کی حفاظت خلوت سے ہے اس کی انگوٹھی کا نگینہ خلوت ہی ہے ۔

Solitude is the protection of every artist, solitude is the bezel in the artist’s ring.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

بندهٔ حق بی نیاز از هر مقام

نی غلام او را نه او کس را غلام

علامہ اقبال»جاویدنامه»محکمات عالم قرآنی»بخش 2 - حکومت الهی

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور