زمین اللہ کی ملکیت ہے۔
The Earth Is God's Kingdom
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
سر گذشت آدم اندر شرق و غرب
بهر خاکی فتنه های حرب و ضرب
مشرق و مغرب کے حالات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان میں زمین کی خاطر لڑائی جھگڑوں کے فتنے پیدا ہوئے ہیں ۔
The history of the East and West tells that all wars and bloodshed has been for the land.
یک عروس و شوهر او ما همه
آن فسونگر بی همه هم با همه
یہ ایک دلہن ہے اور ہم سب اس کے شوہر ہیں ۔ یہ ایک جادوگر ہے جو ہم سب کے ساتھ بھی ہے اور ہم سب کے بغیر بھی ۔
Land (Earth) is the bride and and we are her husbands; this witch is with all of us and at the same time with none of us.
عشوه های او همه مکر و فن است
نی از آن تو نه از آن من است
اس کے سارے ناز نخرے مکر و فریب ہیں نہ یہ تیری ہے اور نہ میری ہے ۔
All of its actions are mere pretentions; otherwise she is neither yours nor mine.
در نسازد با تو این سنگ و حجر
این ز اسباب حضر تو در سفر
یہ دوڑے اور پتھر تجھ سے موافقت نہیں رکھتے ۔ اس لیے کہ یہ تو آبادی کے اسباب ہیں ایک جگہ ٹکے ہوئے ہیں اور تو سفر میں ہے ۔
These rocks and stones do not suite you; you are a wayfarer and these are stationary.
اختلاط خفته و بیدار چیست
ثابتی را کار با سیار چیست
سوئے ہوئے اور بیدار میں باہمی میل جول کیسا کسی ساکن کو حرکت و گردش میں رہنے والے سے کیا سروکار
Who is awake and who is asleep? What has a wayfarer to do with static!
حق زمین را جز متاع ما نگفت
این متاع بی بها مفت است مفت
اللہ تعالیٰ نے زمین کو صرف ہماری متاع فرمایا ہے ۔ یہ بے بہا زمین مفت ہے مفت ۔
God has termed the land only as our asset and that asset has been given free of cost.
ده خدایا نکته ئی از من پذیر
رزق و گور از وی بگیر او را مگیر
اے جاگیردار، زمیندار تو مجھ سے ایک گہری بات سمجھ ۔ تو اس زمین سے رزق اور قبر حاصل کر اس پر قبضہ نہ کر ۔
Listen and understand this point O landlord: Seek livelihood and space for grave; do not grab the land.
صحبتش تا کی تو بود و او نبود
تو وجود و او نمود بی وجود
تیری اس کی محبت کب تک، تو تو بود (وجود) ہے اور وہ نبود (نابود، مردہ) ہے ۔
How long is its co-existence with you! You were there when it did not exist; you exist today whereas it is perceived to be existing.
تو عقابی طایف افلاک شو
بال و پر بگشا و پاک از خاک شو
تو تو ایک عقاب ہے، تو آسمانوں کا طواف کرنے والا بن، بال و پر کھول یعنی اڑ اور خاک سے پاک ہو جا ۔
You are an eagle rise to the sky; and even fly beyond the limits of the skies.
باطن «الارض ﷲ» ظاهر است
هر که این ظاهر نبیند کافر است
الارض للہ (زمین اللہ کی ہے ) کا باطن ظاہر ہے جو کوئی یہ ظاہر نہیں دیکھتا وہ کافر ہے ۔
The meanings of ‘the earth is the Lord’s’ are obvious; one who does not understand this clear message is a kaafir.
من نگویم در گذر از کاخ و کوی
دولت تست این جهان رنگ و بوی
میں تجھے یہ تو نہیں کہتا کہ تو مکان اور آبادی کو چھوڑ دے، یہ جہان رنگ و بو تو تیری بدولت ہے ۔
I do not urge you to give up this world, because it is your precious asset.
دانه دانه گوهر از خاکش بگیر
صید چون شاهین ز افلاکش بگیر
تو زمین سے دانوں کے موتی حاصل کر (اس کی کاشت سے زیادہ پیداوار حاصل کر) تو اس کے آسمانوں سے شاہین کی طرح شکار حاصل کر ۔
Pick the grains from dust like the pearls but also prey from the sky like a hawk.
تیشهٔ خود را به کهسارش بزن
نوری از خود گیر و بر نارش بزن
تو اپنی کلہاڑی اس کے کوہسار پر چلا ۔ اپنے اندر سے نور حاصل کر کے اس کی آگ پر لگا ۔
Use your pick (and shovel) at its mountains; marshal your spiritual power to invade its material being.
از طریق آزری بیگانه باش
بر مراد خود جهان نو تراش
آزری طریقے سے بیگانہ ہو جا اور اپنی خواہش کے مطابق ایک نیا جہان تراش ۔
Give up the habit of carving new idols and instead create a new world commensurating your ideas.
دل به رنگ و بوی و کاخ و کو مده
دل حریم اوست جز با او مده
تو دنیا کی دل کشیوں اور دلچسپیوں اور محل اور آبادی سے دل نہ لگا ۔ اس لیے کہ دل تو اس ذاتِ اقدس کا گھر ہے ۔ اسے تو اس ذات کے سوا اور کسی کو نہ دے ۔
Do not tie-up your heart with material world; heart is God’s abode, let no one enter that.
مردن بی برگ و بی گور و کفن
گم شدن در نقره و فرزند و زن
بے سروسامانی کی حالت میں اور گور و کفن کے بغیر مرنا کیا ہے سونے چاندی اور فرزندوں میں خود کو کھونا یا محو کرنا ہے ۔
What dying broke having nothing for grave or coffin? It is to get engrossed in accumulating wealth and lost in the company of wife and the son.
هر که حرف لااله از بر کند
عالمی را گم بخویش اندر کند
جو کوئی لا الہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ) کے الفاظ حفظ کر لیتا ہے وہ سارے جہان کو اپنے اندر سمو لیتا ہے ۔
One who memorized (practiced) ‘la ilah’ he virtually possessed the entire world.
فقر جوع و رقص و عریانی کجاست؟
فقر سلطانی است رهبانی کجاست؟
بھوک اور رقص اور عریانی یہ فقر کہاں ہے (یہ کہاں کا فقر ہے) فقر تو بادشاہت ہے اس میں ترکِ دنیا کہاں ہے (نہیں ہے) ۔
Faqr is not to starve and dance (half) naked; but it is to rule the world, not to stay away from it.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور