حکمت خیر کثیر ہے۔
Wisdom Is Abundant Good
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
گفت حکمت را خدا خیر کثیر
هر کجا این خیر را بینی بگیر
اللہ تعالیٰ نے حکمت کو خیر کثیر کہا ہے ۔ یہ نعمت جہاں کہیں بھی تجھے نظر آئے اپنا لے ۔
God has declared, Wisdom is a great good; wherever you may see this good, seize it.
علم حرف و صوت را شهپر دهد
پاکی گوهر به نا گوهر دهد
علم حرف اور آواز کو بڑ ی پرواز کرنے والے پر عطا کرتا ہے اور اپنی چمک سے محروم ہو جانے والے موتیوں کو چمک کی پاکی عطا کرتا ہے ۔
Science gives pinions to words and sounds, bestows purest substance on things without substance;
علم را بر اوج افلاک است ره
تا ز چشم مهر بر کندد نگه
علم کا راستہ آسمانوں کی بلندی پر ہے اور اس میں وہ قوت ہے کہ وہ سورج کی آنکھ سے نگاہ چھین لیتا ہے ۔
Science finds a way even to heaven’s zenith to pluck the sight out of the sun’s own eye.
نسخهٔ او نسخهٔ تفسیر کل
بستهٔ تدبیر او تقدیر کل
علم کا نسخہ کائنات کی ساری موجودات کے نسخہ کی تفسیر ہے اور تمام موجودات کی تقدیر اس سے وابستہ ہے ۔
Its transcript is the commentary of the cosmos, the fate of the cosmos hangs upon its determining;
دشت را گوید حبابی ده ، دهد
بحر را گوید سرابی ده ، دهد
اگر علم بیابان سے یہ کہے کہ پانی کا بلبلا دے تو وہ دے دیتا ہے اور اگر وہ سمندر سے کہے کہ سراب دے تو وہ دے دیتا ہے ۔
It says to the desert, ‘Bubble up!’ and it bubbles, to the sea, ‘Produce a mirage!’ and it produces it.
چشم او بر واردات کائنات
تا ببیند محکمات کائنات
اس کی آنکھ کائنات کی واردات پر ہوتی ہے تاکہ وہ کائنات کی محکمات دیکھ سکے ۔
Its eye beholds all the events in creation that it may see the sure foundations of creation;
دل اگر بندد به حق پیغمبری است
ور ز حق بیگانه گردد کافری است
اگر علم حق (خدا) سے دل لگائے تو یہ پیغمبری ہے اور اگر وہ حق سے بیگانہ رہے تو یہ گویا کافری ہے ۔
If it attaches its heart to God, it is prophecy, but if it is a stranger to God, it is unbelief.
علم را بی سوز دل خوانی شر است
نور او تاریکی بحر و بر است
اگر تو علم کو سوزِ دل (عشق) کے بغیر پڑھے تو یہ شر ہے اور اس (علم) کا نور بحر و بر کی تاریکی ہے ۔
Science without the heart’s glow is pure evil, for then its light is darkness over sea and land,
عالمی از غاز او کور و کبود
فرودینش برگ ریز هست و بود
اس کی (علم کی) گیس کے دھوئیں سے دنیا میں تاریکی پھیل جاتی ہے اور اس کا موسم بہار کائنات کے پتے اور پھل گرا دیتا ہے ۔
Its rouge renders the whole world black and blind, its springtide scatters the leaves of all being,
بحر و دشت و کوهسار و باغ و راغ
از بم طیارهٔ او داغ داغ
سمندر اور دشت و کوہسار اور باغ و سبزہ زار سب اس کے جہاز کے بم سے داغ داغ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں ۔
Sea, plain and mountain, quiet garden and villa are ravaged by the bombs of its aeroplanes.
سینه افرنگ را ناری ازوست
لذت شبخون و یلغاری ازوست
اسی علم نے افرنگ ، اہل یورپ کے سینے میں آگ بھری ہے اور اسی علم سے انہیں دوسری قوموں پر شب خون مارنے اور ان پر حملے کرنے کی لذت حاصل ہوئی ہے ۔
It is its fire that burns the heart of Europe, from it springs the joy of raiding and robbing;
سیر واژونی دهد ایام را
می برد سرمایهٔ اقوام را
ایسا علم، زمانے کو پیچھے لے جاتا ہے اور اقوام سے ان کا سرمایہ چھین لیتا ہے ۔
It turns topsy-turvy the course of the days, despoils the peoples of their capital.
قوتش ابلیس را یاری شود
نور ، نار از صحبت ناری شود
اس علم سے حاصل شدہ قوّت ابلیس کی مددگار بنتی ہے اور پھر نار یعنی ابلیس کی صحبت سے علم کا نور بھی نار بن جاتا ہے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Its power becomes the faithful ally of Satan; light becomes fire by association with fire.
کشتن ابلیس کاری مشکل است
زانکه او گم اندر اعماق دل است
شیطان کو مارنا مشکل کام ہے کیونکہ وہ دل کی گہرائیوں میں گم ہے ۔
To slay Satan is indeed a difficult task, since he is hidden within the depths of the heart;
خوشتر آن باشد مسلمانش کنی
کشتهٔ شمشیر قرآنش کنی
بہتر یہی ہے کہ تو اسے مسلمان کر لے اور اسے قرآن کریم کی تلوار سے قتل کر دے ۔
Better is it to make him a true Mussulman, better to smite him dead with the sword of the Koran.
از جلال بی جمالی الامان
از فراق بی وصالی الامان
ایسا جلال جمال سے عاری ہے ، اس سے خدا کی پناہ ہے ۔ وصال کے بغیر جو فراق ہے اس سے خدا کی پناہ ۔
God save us from majesty that is without beauty, God save us from separation without union!
علم بی عشق است از طاغوتیان
علم با عشق است از لاهوتیان
جو علم عشق سے خالی ہے وہ شیطانوں کا علم ہے اور عشق والا علم لاہوتیوں کا علم ہے (عارفان الہٰی سے ہے) ۔
Science without love is a demonic thing, science together with love is a thing divine;
بی محبت علم و حکمت مرده ئی
عقل تیری بر هدف ناخورده ئی
محبت کے بغیر جو علم و حکمت ہے وہ مردہ ہے اور عقل ایک ایسا تیر ہے جو نشانے پر نہیں لگتا ۔
Science and wisdom without love are a corpse, reason is an arrow that never pierced the target.
کور را بیننده از دیدار کن
بولهب را حیدر کرار کن
تو اندھے کو دیدار الہٰی سے بینا کر دے اور بولہب کو حیدر کرار بنا دے ۔ یعنی سوزِ دل سے خالی عشق بولہب کی سی خصلت والا اور عشق کا حامل دل حضرت علی حیدر کرار کی مانند ہے ۔
With the vision of God make the blind to see, convert Abu Lahab into an impetuous Haidar!
محکماتش وانمودی از کتاب
هست آن عالم هنوز اندر حجاب
آپ نے قرآن کریم سے اس کی بنیادی تعلیمات کو تو ظاہر کر دیا ہے لیکن ابھی تک آپ کا بیان کردہ جہان پردے میں ہے ۔
You have displayed the foundations of the Book of God, yet is yonder world still veiled in a shroud.
پرده را از چهره نگشاید چرا
از ضمیر ما برون ناید چرا
یہ جہان اپنے چہرے سے پردہ کیوں نہیں اٹھاتا اور ہمارے ضمیر سے باہر کیوں نہیں آتا
Why does it not strip off the veil from its face, why does it not issue yet out of our hearts?
پیش ما یک عالم فرسوده ایست
ملت اندر خاک او آسوده ایست
ہمارے سامنے تو ایک فرسودہ جہان ہے اور ملت اس کی خاک آسودہ ہے ۔
Before us lies a whole world wasting away, a nation quietly reposing in its own dust;
رفت سوز سینهٔ تاتار و کرد
یا مسلمان مرد یا قرآن بمرد
تاتاریوں اور کردوں کے سینوں کا سوز ختم ہو گیا ہے ۔ کیا مسلمان مر گیا یا پھر قرآن مر گیا ہے ۔
The heart’s ardour of Tartar and Kurd is vanished – either the Mussulmans are dead, or the Koran is dead.
دین حق از کافری رسوا تر است
زانکه ملا مؤمن کافر گر است
آج دین حق کافری سے بھی زیادہ رسوا ہو چکا ہے کیونکہ ہمارا ملا کافر گر مومن ہے ۔
The religion of God is more shameful than unbelief, because the mullah is a believer trading in unfaith;
شبنم ما در نگاه ما یم است
از نگاه او یم ما شبنم است
ہماری شبنم ہماری نگاہ میں سمندر ہے جبکہ اس کی نگاہ سے ہمارا سمندر شبنم ہے ۔
In our eyes this dew-drop of ours is an ocean, to his eyes our ocean is a dew-drop.
از شگرفیهای آن قرآن فروش
دیده ام روح الامین را در خروش
اس قرآن فروش کی عجیب و غریب باتوں سے میں نے روح الامین جبرئیل کو واویلا کرتے دیکھا ہے ۔
At the elegant graces of that Koran-vendor I have seen the Trusty Spirit himself cry out!
زانسوی گردون دلش بیگانه ئی
نزد او ام الکتاب افسانه ئی
آج کے ملا کا دل آسمان سے دوسری طرف کی دنیا سے بیگانہ ہے ۔ اسکے نزدیک قرآن پاک محض ایک افسانہ ہے ۔
His heart is a stranger to what lies beyond the sky, for him the Archetype of the Book is but a fable;
بی نصیب از حکمت دین نبی
آسمانش تیره از بی کوکبی
آج کا ملا نبی کریم کے دین کی حکمت سے بے بہرہ ہے ۔ اس کا آسمان ستارے نہ ہونے کی وجہ سے تاریک ہے ۔
Having no share of the wisdom of the Prophet’s religion, his heaven is dark, being without any star.
کم نگاه و کور ذوق و هرزه گرد
ملت از قال و اقولش فرد فرد
وہ کم نگاہ، کور ذوق اور فضول گو ہے؛ اس کی باتوں سے ملت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ہے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Short of vision, blind of taste, an idle gossip, his hairsplitting arguments have fragmented the Community.
مکتب و ملا و اسرار کتاب
کور مادر زاد و نور آفتاب
مدرسہ اور ملا اور قرآن کے اسرار کچھ اس طرح ہیں جیسے کوئی مادر زاد اندھا اور سورج کی روشنی ہو ۔
Seminary and mullah, before the secrets of the Book, are as one blind from birth before the light of the sun.
دین کافر فکر و تدبیر جهاد
دین ملا فی سبیل الله فساد
کافر کا دین تو غور و فکر اور تدبیر جہاد ہے اور ملا کا دین خدا کے واسطے کا فساد ہے ۔
The infidel’s religion is the plotting and planning of Holy War; the mullah’s religion is corruption in the Way of God.
مرد حق جان جهان چار سوی
آن بخلوت رفته را از من بگوی
مردِ حق طرفوں میں گھرے ہوئے اس جہان کی جان ہے ۔ تو اس خلوت اختیار کرنے والے کو میری طرف سے کہو ۔
The man of God is the soul of this dimensionate world; say from me to him, who has gone into solitude;
ای ز افکار تو مؤمن را حیات
از نفسهای تو ملت را ثبات
تیرے افکار سے مومن کی زندگی وابستہ ہے اور تیری سانسوں ہی سے ملت ثبات پاتی ہے ۔
‘You whose thoughts are life itself to the believer, whose breaths are confirmation to the Community;
حفظ قرآن عظیم آئین تست
حرف حق را فاش گفتن دین تست
قرآن کریم کی حفاظت تیرا آئین ہے اور حق بات کو واضح طور پر بیان کرنا تیرا دین ہے ۔
Having the sublime Koran by heart is your rite, your religion the publishing of the Word of God.
تو کلیمی چند باشی سرنگون
دست خویش از آستین آور برون
تو تو کلیم ہے، آخر تو کب تک سر جھکائے بیٹھا رہے گا ۔ اپنا ہاتھ اپنی آستین سے باہر نکال ۔
You with whom God speaks, how long will you hang your head? Come, bring forth your hand out of your sleeve!
سر گذشت ملت بیضا بگوی
با غزال از وسعت صحرا بگوی
تو روشن ملت کی سرگزشت بیان کر اور ہرن کو صحرا کی وسعت سے آگاہ کر یعنی بات کر ۔
Speak of the history of the ‘white’ people, speak to the gazelle of the vastness of the desert.
فطرت تو مستنیر از مصطفی است
باز گو آخر مقام ما کجاست
تیری (مردِ حق کی) فطرت رسول اللہ کے نور سے روشن ہے ۔ تو پھر یہ بتا کہ آخر ہمارا (مسلمانوں کا) مقام کہاں ہے
Your nature is illumined by the Chosen One, so declare now, where is our station?
مرد حق از کس نگیرد رنگ و بو
مرد حق از حق پذیرد رنگ و بو
مردِ حق کسی اور سے رنگ و بو حاصل نہیں کرتا یعنی وہ صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے رنگ میں اپنی زندگی ڈھالتا ہے ۔
The man of God takes not Colour and scent from anyone, the man of God receives colour and scent from God;
هر زمان اندر تنش جانی دگر
هر زمان او را چو حق شانی دگر
ہر لمحہ اس (مردِ حق) کے بدن میں ایک نئی جان ہوتی ہے اور ہر لحظہ حق کی طرح اس کی ایک نئی شان ہوتی ہے ۔
Every moment there is in his body a fresh soul, every moment he has, like God, a new labour.
رازها با مرد مؤمن باز گوی
شرح رمز «کل یوم» باز گوی
تو (اے مردِ حق) مردِ مومن مسلمانوں کو ان کے بھولے ہوئے راز سے پھر آگاہ کر اور ان سے کل یوم کی رمز کی شرح بھی بیان کر ۔
Declare the secrets to the believer, declare the exposition of the mystery of Every day.
جز حرم منزل ندارد کاروان
غیر حق در دل ندارد کاروان
ملت اسلامیہ کے قافلے کی منزل کعبہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے ۔ اور اس قافلے کے دل میں حق کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
The carvaan has no halting-place but the Sanctuary, the caravan has naught but God in its heart;
من نمی گویم که راهش دیگر است
کاروان دیگر نگاهش دیگر است
میں یہ نہیں کہتا کہ ملت کا راستہ کوئی اور ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ اب قافلہ وہ نہیں رہا او اس کی نگاہ بھی اور ہو گئی ہے ۔
I do not say that its road is different – it is the caravan that is different, different its regard.
از حدیث مصطفی داری نصیب
دین حق اندر جهان آمد غریب
کیا تجھے رسول اللہ کی یہ حدیث معلوم ہے کہ دین حق دنیا میں اجنبی(غریب ) صورت میں آیا تھا ۔
Have yon any acquaintance with the Traditions of the Chosen One? ‘God’s religion came a stranger into the world.’
با تو گویم معنی این حرف بکر
غربت دین نیست فقر اهل ذکر
میں تیرے سامنے سے اس اچھوتے لفظ (غریب) کے معنی بیان کرتا ہوں ۔ دین کی غربت (اجنبیت) سے مراد اہل ذکر کا فقر (مفلسی) نہیں ہے ۔
I will tell you the meaning of this virgin saying. The ‘strangerhood’ of religion is not the poverty of God’s remembrancers;
بهر آن مردی که صاحب جستجوست
غربت دین ندرت آیات اوست
جو شخص جو تحقیق و تلاش کرنے والا ہے اس کے لیے غربت دین سے مراد اس کی آیات کی ندرت ہے ۔
For the man who is truly a researcher‘strangerhood’ of religion refers to the scarceness of its verses.
غربت دین هر زمان نوع دگر
نکته را دریاب اگر داری نظر
غربت دین ہر دور میں ایک نئے انداز کی ہوتی ہے ۔ اگر تو عقل رکھتا ہے تو اس گہری بات کو سمجھ ۔
The ‘strangerhood’ of religion every time is Of a different kind; ponder well this subtelty, if you have eyes to see.
دل به آیات مبین دیگر ببند
تا بگیری عصر نو را در کمند
تو قرآن کریم کی روشن آیات سے دوبارہ دل لگا تاکہ تو عصرِ حاضر کو کمند میں گرفتار کر سکے ۔
Fasten your heart again to the perspicuous Verses that you may seize a new age in your lasso.
کس نمی داند ز اسرار کتاب
شرقیان هم غربیان در پیچ و تاب
کوئی بھی کتاب (قرآن کریم) کے رازوں سے آگاہ نہیں ہے ۔ اسی لیے کیا اہل مشرق اور کیا اہل مغرب سبھی الجھاوَ میں پڑے ہوئے ہیں ، گمراہ ہیں ۔
No man knows the inner secrets of the Book; Easterners and Westerners alike twist and turn this way and that.
روسیان نقش نوی انداختند
آب و نان بردند و دین در باختند
اہل روس نیا انقلاب لائے ہیں ۔ انھوں نے روٹی اور پانی تو پا لیا ہے لیکن دین ہاتھ سے دے بیٹھے یا ہار گئے ہیں ۔
The Russians have laid down a new design; they have taken bread and water, and jettisoned religion.
حق ببین حق گوی و غیر از حق مجوی
یک دو حرف از من به آن ملت بگوی
تو حق کو دیکھ، حق کہہ اور حق کے سوا اور کسی چیز کی جستجو نہ کر تو میری (افغانی کی) طرف سے روسی قوم کو یہ دو ایک باتیں سنا دے، ان تک پہنچا دے ۔
Behold truth, speak truth, seek only truth; speak one or two words from me to the people.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور