صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »تمهید زمینی: آشکارا می‌شود روح حضرت رومی و شرح می‌دهد اسرار معراج را

تمهید زمینی: آشکارا می‌شود روح حضرت رومی و شرح می‌دهد اسرار معراج را

تمہید زمینی: مولانا رومی کی روح ظاہر ہوتی ہے اور معراج کے اسرار کی شرح بیان کرتی ہے

Prelude on Earth: The Spirit of Rumi Appears and Explains the Mystery of the Ascension

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

عشق شور انگیز بی پروای شهر

شعلهٔ او میرد از غوغای شهر

شور انگیز عشق شہر سے بے نیازی ہے ۔ اس کا شعلہ شہر کے شور و غوغا سے بجھ جاتا ہے (عشق آبادی کے شور و غل میں برقرار نہیں رہتا) ۔

Tumulutous love, indifferent to the city; for in the city’s clangour its flame dies.

2

خلوتی جوید بدشت و کوهسار

یا لب دریای ناپیدا کنار

وہ عشق دشت و کہسار میں تنہائی تلاش کرتا ہے یا پھر کسی بے حد وسیع سمندر کے کنارے کی تلاش میں رہتا ہے ۔

Seeks solitude in desert and mountain-range or on the shore of an unbounded sea.

3

من که در یاران ندیدم محرمی

بر لب دریا بیاسودم دمی

جب میں نے دوستوں میں کوئی محرم نہ دیکھا تو میں تھوڑی دیر کے لیے ذہنی سکون کے لیے دریا کے کنارے پر چلا گیا ۔

I, who saw among my friends none to confide in, rested a moment on the shore of the sea:

4

بحر و هنگام غروب آفتاب

نیلگون آب از شفق لعل مذاب

سمندر ہے اور سورج غروب ہونے کا وقت ہے، شفق کے باعث نیلے رنگ کا پانی لعل سیال بنا ہوا ہے ۔

The sea, and the hour of the setting sun; the blue water was a liquid ruby in the gloaming.

5

کور را ذوق نظر بخشد غروب

شام را رنگ سحر بخشد غروب

سورج کے غروب ہونے کا منظر ایک اندھے کو بھی ذوقِ نظر بخشتا ہے اور یہ غروب شام کو صبح کا رنگ بخشتا ہے ۔

Sunset gives to the blind man the joy of sight, sunset gives to evening the hue of dawn.

6

با دل خود گفتگوها داشتم

آرزوها جستجوها داشتم

میں اپنے دل سے باتیں کر رہا تھا اور میرے دل میں آرزوئیں اور امنگیں مچل رہی تھیں ۔

I held conversation with my heart; I had many desires, many requests.

7

آنی و از جاودانی بی نصیب

زنده و از زندگانی بی نصیب

میں اس خیال میں کھویا ہوا تھا کہ میری زندگی پل بھر کی ہے مجھے حیات جاودانی نصیب نہیں ۔ زندہ ہوتے ہوئے بھی زندگانی یعنی حقیقی زندگی سے محروم ہوں ۔

A thing of the moment, unsharing immortality, a thing living, unsharing life itself,

8

تشنه و دور از کنار چشمه سار

می سرودم این غزل بی اختیار

میں پیاسا تھا اور چشمہ سار (آب حیات) کے کنارے سے دور تھا ۔ میں نے بے اختیار یہ غزل گانا شروع کر دی (چنانچہ علامہ اقبال نے مولانا رومی کی یہ غزل دی ہے) ۔

Thirsty, and yet far from the rim or the fountain, involuntarily I chanted this song.

بند 2
غزل

GHAZAL

Toggle stanza 2
9

بگشای لب که قند فراوانم آرزوست

بنمای رخ که باغ و گلستانم آرزوست

اے محبوب اپنے ہونٹ کھول کر مجھے بہت زیادہ شیرینی یا مصوری کی آرزو ہے ۔ مجھے اپنا چہرہ دکھا کہ مجھے باغ اور گلستان دیکھنے کی آرزو ہے ۔

Open your lips, for abundant sugar-candy is my desire; show your cheek, for the garden and rosebed are my desire.

10

یک دست جام باده و یک دست زلف یار

رقصی چنین میانهٔ میدانم آرزوست

ایک ہاتھ میں جام شراب ہو اور ایک ہاتھ میں محبوب کی زلفیں ہوں ۔ میری خواہش ہے کہ میں اس حال میں یا اس قسم کا رقص میدان کے درمیان کروں ۔

In one hand a flask of wine, in the other the beloved’s tress; such a dance in the midst of the maidan is my desire.

11

گفتی ز ناز بیش مرنجان مرا ، برو

آن گفتنت که بیش مرنجانم آرزوست

اے محبوب تو نے ناز سے کہا کہ مجھے تو زیادہ تنگ نہ کر اور چلا جا ۔ تیرا یہ کہنا کہ مجھے زیادہ تنگ نہ کر تو میری آرزو ہے کہ میں یہی بات تجھ سے سنوں ۔

You said, ‘Torment me no more with your coquetry: begone!’ That saying of yours, ‘Torment me no more, ‘ is my desire.

12

ای عقل تو ز شوق پراکنده گوی شو

ای عشق نکته های پریشانم آرزوست

اے عقل تو عشق کی بنا پر بہکی بہکی باتیں کرنے والی بن جا ۔ اے عشق مجھے اس بات کی خواہش ہے کہ تو منتشر قسم کی کہی باتیں بیان کرتا رہے ۔

O reason, become out of yearning a babbler of words confused; O love, distracted subtleties are my desire.

13

این آب و نان چرخ چو سیل است بیوفا

من ماهیم نهنگم و عمانم آرزوست

آسمان کا دیا ہوا یہ رزق سیلاب کی طرح بے وفا ہے ۔ میں تو مچھلی ہوں مجھے مگر مچھ اور سمندر کی خواہش ہے (کہ میں وہاں سے اپنا رزق خود تلاش کروں ) جس طرح مچھلی سمندر کے تھپیڑوں اور مگر مچھوں میں رہتے ہوئے اپنا رزق خود تلاش کرتی ہے ۔

This bread and water of heaven are fickle as a torrent; I am a fish, , a leviathan-Oman is my desire.

14

جانم ملول گشت ز فرعون و ظلم او

آن نور جیب موسی عمرانم آرزوست

میرا دل فرعون اور اس کے ظلم و ستم سے ملول ہے ۔ مجھے عمران کے بیٹے موسیٰ اور ان کے یدِ بیضا کی آرزو ہے ۔

My soul has grown aweary of Pharaoh and his tyranny; that light in the breast of Moses, Imran’s son, is my desire.

15

دی شیخ با چراغ همی گشت گرد شهر

کز دیو و دد ملولم و انسانم آرزوست

کل رات شیخ ہاتھ میں چراغ لیے سارے شہر میں گھوما اور یہ کہہ رہا تھا کہ میں شیطانوں اور درندوں سے اذیت و مصیبت میں ہوں َ مجھے کسی انسان کی آرزو ہے (ظالم حکمرانوں کو شیطانوں اور درندوں سے تشبیہ دی ہے) ۔

Last night the Elder wandered about the city with a lantern saying, ‘I am weary of demon and monster: man is my desire.’

16

زین همرهان سست عناصر دلم گرفت

شیر خدا و رستم دستانم آرزوست

ان کمزور منش ہمراہیوں سے میں دل گرفتہ ہو گیا ہوں ۔ مجھے حضرت علی شیر خدا اور رستم دستن کی سی عظیم اور دلیر شخصیتوں کی آرزو ہے (مجھے ایسے ہمراہیوں کی خواہش ہے جو ان کی طرح دلیر اور بلند حوصلہ ہوں ) ۔

My heart is sick of these feeble-spirited fellow-travellers; the Lion of God and Rustam-i Dastan, are my desire.

17

گفتم که یافت می نشود جسته ایم ما

گفت آنکه یافت می نشود آنم آرزوست

میں نے کہا کہ ایسا انسان نہیں ملتا، ہم نے بھی بہت تلاش کی ۔ اس پر شیخ بولا کہ وہ جو نہیں مل رہا اسی کی مجھے خواہش ہے ۔

I said, ‘The thing we quested after is never attained.’ He said, ‘The unattainable – that thing is my desire!’

بند 3
Toggle stanza 3
18

موج مضطر خفت بر سنجاب آب

شد افق تار از زیان آفتاب

بیقرار موج پانی کے بستر پر سو گئی اور سورج کے غروب ہونے پر افق تاریک ہو گیا ۔ ہر طرف تاریکی چھا گئی ۔

The restless wave slept on the grey water, the sun vanished, dark grew the horizon:

19

از متاعش پاره ئی دزدید شام

کوکبی چون شاهدی بالای بام

شام نے سورج کے سرمایہ سے ایک ٹکڑا چرا لیا، یہ ٹکڑا ایک ستارہ تھا جو چھت پر کھڑے محبوب کی طرح جلوہ گر تھا ۔

Evening stole a portion of its capital and a star stood like a witness above the roof.

20

روح رومی پرده ها را بر درید

از پس که پاره ئی آمد پدید

مولانا رومی کی روح آسمان کا پردہ چاک کر کے ایک پہاڑی کے پیچھے سے نمودار ہوئی ۔

The spirit of Rumi rent the veils asunder; from behind a mountain mass he became visible;

21

طلعتش رخشنده مثل آفتاب

شیب او فرخنده چون عهد شباب

ان کا چہرہ سورج کی مانند روشن تھا اور ان کا بڑھاپا عہدِ جوانی کی طرح آب و تاب رکھتا تھا ۔

His face shining like the sun in splendour, his white hairs radiant as the season of youth.

22

پیکری روشن ز نور سرمدی

در سراپایش سرور سرمدی

ان کا پیکر نورِ سرمدی سے منور تھا اور ان کے سراپا (سر سے پاؤں تک ) سرمدی سرور تھا ۔

A figure bright in a light immortal, robed from head to foot in everlasting joy.

23

بر لب او سر پنهان وجود

بند های حرف و صوت از خود گشود

ان کے ہونٹوں پر وجود کے خفیہ راز تھے ۔ انھوں نے الفاظ اور آوازوں کی زنجیریں اپنے اوپر کھول رکھی تھیں ۔

Upon his lips the hidden secret of Being; loosed from itself the chains of speech and sound:

24

حرف او آئینه ئی آویخته

علم با سوز درون آمیخته

ان کے الفاظ یوں بیان ہو رہے تھے جیسے سامنے آئینہ لٹک رہا ہو ۔ ان کے علم میں ان کے باطن کا سوز ملا ہوا تھا ۔ (نہ الفاظ تھے نہ آواز مگر معانی سامنے نظر آ رہے تھے)

His speech was as a suspended mirror, knowledge commingled with an inward fire.

25

گفتمش موجود و ناموجود چیست

معنی محمود و نامحمود چیست

میں نے ان (رومی) سے پوچھا کہ موجود اور ناموجود کیا ہے اور محمود اور نامحمود کے معانی کیا ہیں

I asked him, ‘What is the existent, the non-existent? What is the meaning of praiseworthy and unpraiseworthy?’

26

گفت موجود آنکه می خواهد نمود

آشکارائی تقاضای وجود

انھوں نے فرمایا کہ موجود وہ ہے جو اپنی نمود (ظہور یا ظاہر ہونا) چاہتا ہے ۔ اس لیے کہ اپنے آپ کو ظاہر کرنا وجود کا تقاضا ہے ۔

He said, ‘The existent is that which wills to appear: manifestation is all the impulse of Being.

27

زندگی خود را بخویش آراستن

بر وجود خود شهادت خواستن

زندگی اپنے آپ کو اپنی نظروں میں آراستہ کرنے کا نام ہے اور اپنے وجود پر گواہی کا طالب ہونا ہے ۔

Life means to adorn oneself in one’s self, to desire to bear witness to one’s own being;

28

انجمن روز الست آراستند

بر وجود خود شهادت خواستند

خدا تعالیٰ نے روز الست انجمن آراستہ کی یا سجائی اور اپنے وجود پر گواہی (شہادت) طلب کی ۔

The concourse on the day primordial arrayed desired to bear witness to their own being.

29

زنده ئی یا مرده ئی یا جان بلب

از سه شاهد کن شهادت را طلب

تو زندہ ہے یا مردہ ہے یا جان بلب ہے؛ تین شاہدوں سے شہادت طلب کر۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Whether you be alive, or dead, or dying – for this seek witness from three witnesses.

30

شاهد اول شعور خویشتن

خویش را دیدن بنور خویشتن

پہلا گواہ اپنا شعور ہے یعنی اسے اپنے آپ کو اپنے نور سے دیکھنا ہے ۔

The first witness is self-consciousness, to behold oneself in one’s own light;

31

شاهد ثانی شعور دیگری

خویش را دیدن بنور دیگری

دوسرا گواہ دوسروں کا شعور ہے یعنی دوسروں کے نور سے اپنے آپ کو دیکھنا ہے ۔

The second witness is the consciousness of another, to behold oneself in another’s light;

32

شاهد ثالث شعور ذات حق

خویش را دیدن بنور ذات حق

اور تیسرا گواہ حق تعالیٰ کا شعور ہے یعنی نورِ حق سے اپنے آپ کو دیکھنا ہے ۔

The third witness is the consciousness of God’s essence, to behold oneself in the light of God’s essence.

33

پیش این نور ار بمانی استوار

حی و قائم چون خدا خود را شمار

اگر تو اللہ تعالیٰ کے نور کے سامنے قائم و برقرار رہے یا رہ جائے تو اس صورت میں تو خود کو خدا کی طرح حیی و قیوم سمجھ ۔

If you remain fast before this light, count yourself living and abiding as God!

34

بر مقام خود رسیدن زندگی است

ذات را بی پرده دیدن زندگی است

اپنے مقام پر پہنچنا ہی حقیقی زندگی ہے اور ذات حق کو بے پردہ دیکھنا ہی صحیح زندگی ہے ۔

Life is to attain one’s own station, life is to see the Essence without a veil;

35

مرد مؤمن در نسازد با صفات

مصطفی راضی نشد الا به ذات

مردِ مومن صفات یعنی صفات الہٰی سے موافقت نہیں کرتا (ان پر قناعت نہیں کرتا ) چنانچہ رسول اللہ ﷺ ذات کے سوا صفات پر راضی نہ ہوئے یعنی حضور دیدارِ خداوندی کیے بغیر راضی نہ ہوئے ۔

The true believer will not make do with Attributes – the Prophet was not content save with the Essence.

36

چیست معراج آرزوی شاهدی

امتحانی روبروی شاهدی

معراج کیا ہے کسی شاہد، گواہ کی آرزو ہے کہ اس کے روبرو اپنا امتحان کیا جائے ۔

What is Ascension? The desire for a witness, an examination face-to-face of a witness.

37

شاهد عادل که بی تصدیق او

زندگی ما را چو گل را رنگ و بو

ایسا شاہدِ عادل کہ جس کی تصدیق کے بغیر ہماری زندگی ایسے ہی ہے جیسے پھول کا رنگ اور خوشبو ہو (یہ رنگ و بو عارضی اور وقتی ہیں ، ناپائیدار ہیں ) ۔

A competent witness without whose confirmation life to us is like colour and scent to a rose.

38

در حضورش کس نماند استوار

ور بماند هست او کامل عیار

اس گواہ کے سامنے کوئی بھی استوار نہیں رہتا اور اگر رہ جاتا ہے تو وہ معیار پر پورا اترنے والا ہے یعنی وہ مردِ مومن یا مردِ کامل ہے ۔

In that Presence no man remains firm, or if he remains, he is of perfect assay.

39

ذره ئی از کف مده تابی که هست

پخته گیر اندر گره تابی که هست

اگر تو ذرہ ہے تو اپنی چمک کو ہاتھ سے نہ دے بلکہ اس چمک کو اپنی گرہ میں مضبوطی سے باندھ کے رکھ ۔

Give not away one particle of the glow you have, knot tightly together the glow within you;

40

تاب خود را بر فزودن خوشتر است

پیش خورشید آزمودن خوشتر است

(اے ذرے) اپنی چمک کو بڑھاتے رہنا ایک اچھی بات ہے اور خود کو سورج کے سامنے آزمانا اچھی بات ہے ۔

Fairer it is to increase one’s glow, fairer it is to increase one’s glow, fairer it is to test oneself before the sun;

41

پیکر فرسوده را دیگر تراش

امتحان خویش کن موجود باش

تو اپنے فرسودہ پیکر کو نئے سرے سے تراش خراش کر اور اپنی آزمائش کر کے صاحب ِ وجود بن جا ۔

Then chisel anew the crumbled form; make proof of yourself; be a true being!

42

این چنین موجود محمود است و بس

ورنه نار زندگی دود است و بس

صرف ایسا موجود ہی محمود ہے اور بس ۔ ورنہ زندگی کی آگ محض دھواں ہے اور بس ۔

Only such an existent is praiseworthy, otherwise the fire of life is mere smoke.’

43

باز گفتم پیش حق رفتن چسان

کوه خاک و آب را گفتن چسان

میں نے پھر ان سے پوچھا کہ خدا کے سامنے کیونکر یا کس طرح جانا ممکن ہے ۔ اور اس مٹی کے پہاڑ اور پانی کو کیسے توڑا جا سکتا ہے ۔

I asked again, ‘How shall one go before God? How may one split the mountain of clay and water?

44

آمر و خالق برون از امر و خلق

ما ز شست روزگاران خسته حلق

آمر و خالق (اللہ) تو امر اور خالق سے باہر ہے جبکہ زمانے کے کانٹے نے ہمارا حلق زخمی کر رکھا ہے ۔ (ہم زمان و مکان کی قید میں ہیں ) ۔

The Orderer and Creator is outside Order and Creation; we \- our throats are strangled by the noose of Fate.’

45

گفت اگر سلطان ترا آید بدست

می توان افلاک را از هم شکست

(مولانا رومی نے جواب میں فرمایا) اگر سلطان تیرے ہاتھ آ جائے تو آسمانوں کو توڑا جا سکتا ہے ۔

He said, ‘If you obtain the Authority you can break through the heavens easily.

46

باش تا عریان شود این کائنات

شوید از دامان خود گرد جهات

تو انتظار کر یہاں تک کہ یہ کائنات تیرے سامنے بے پردہ ہو جائے اور اپنے دامن سے اطراف کی گرد دھو ڈالے ۔

Wait till the day creation all is naked and has washed from its skirt the dust of dimension;

47

در وجود او نه کم بینی نه بیش

خویش را بینی ازو ، او را ز خویش

اور تو اس کے وجود میں نہ کوئی کمی دیکھے گا اورنہ زیادتی ۔ تو خود کو اس سے دیکھے گا اور اس کو خود سے دیکھے گا ۔ مطلب یہ کہ کائنات کی حقیقت واضح ہونے پر تجھے معلوم ہو گا کہ زمان و مکان وغیرہ کچھ نہیں سب اللہ ہی اللہ ہے (لا الہ الا اللہ) یوں تیرے اور مولانا کے درمیان حائل پردے اٹھ جائیں گے ۔

Then you will see neither waxing nor waning in its being, you will see yourself as of it, and it of you.

48

نکتهٔ «الا بسلطان» یاد گیر

ورنه چون مور و ملخ در گل بمیر

تو الا بسلطان کا نکتہ یاد رکھ ، ورنہ چیونٹی اور ٹڈی کی طرح مٹی کے اندر ہی مر جا ۔

Recall the subtlety Except with an authority or die in the mire like an ant or a locust!

49

از طریق زادن ای مرد نکو

آمدی اندر جهان چار سو

اے نیک آدمی تو پیدائش کے عام طریقے (ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا) کی بنا پر اس حدود کی دنیا میں آیا ہے (یہ زمان و مکان کی دنیا ) ۔

It was by way of birth, excellent man, that you came into this dimensioned world;

50

هم برون جستن بزادن میتوان

بندها از خود گشادن میتوان

(جس طرح تو ماں کے پیٹ سے باہر آیا ہے) اسی طرح تو دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے یعنی خود کو کائنات کے پیٹ سے باہر نکال سکتا ہے ۔ اور اس نئی پیدائش سے تو کائنات یا زمان و مکان کی خود پر بندھی ہوئی زنجیریں کھول سکتا ہے ۔

By birth it is possible also to escape, it is possible to loosen all fetters from oneself;

51

لیکن این زادن نه از آب و گل است

داند آن مردی که او صاحبدل است

لیکن یہ نئی پیدائش آب و گل سے نہیں ہے ۔ صاحب دل مرد اس نکتے کو اچھی طرح جانتا ہے ۔

But such a birth is not of clay and water – that is known to the man who has a living heart.

52

آن ز مجبوری است ، این از اختیار

آن نهان در پرده ها این آشکار

وہ پہلی پیدائش (یعنی ماں کے پیٹ والی) مجبوری ہے اور یہ دوسری پیدائش اختیاری ہے ۔ پہلی پیدائش پردوں میں نہاں ہوتی ہے ۔ جبکہ یہ ارادی پیدائش آشکارا (اعلانیہ) ہوتی ہے ۔

The first birth is by constraint, the second by choice; the first is hidden in veils, the second is manifest;

53

آن یکی با گریه ، این با خنده ایست

یعنی آن جوینده ، این یابنده ایست

پہلی پیدائش تو روتے ہوئے ہوتی ہے اور دوسری ہنستے مسکراتے ہوئے ہوتی ہے ۔ یعنی پہلا ولادت والا بچہ روتا ہے کہ وہ کہاں آ گیا جبکہ دوسری ولادت والا انسان مقصد زندگی پا لینے کے باعث خوش ہوتا ہے ۔

The first happens with weeping, the second with laughter, for the first is a seeking, the second a finding;

54

آن سکون و سیر اندر کائنات

این سراپا سیر بیرون از جهات

وہ پہلی پیدائش کائنات کے اندر سیر و سکون یعنی چلنے پھرنے کا نام ہے جبکہ یہ دوسری ولادت تمام اطراف سے باہر سیر کرنا ہے ۔ یعنی پہلی پیدائش والا تو زمان و مکان ہی کی حدود میں رہتا ہے جبکہ دوسرا اس زمان و مکان سے بے تعلق یا بے نیاز ہو جاتا ہے ۔

The first is to dwell and journey amidst creation, the second is utterly outside all dimensions;

55

آن یکی محتاج روز و شب است

وان دگر روز و شب او را مرکب است

پہلی میں روز و شب کی محتاجی ہے اور دوسری پیدائش والے کے لیے روز و شب سواری ہے ۔ (پہلے پر کائنات سوار ہے، جبکہ دوسرا کائنات پر سوار ہے ) ۔

The first is in need of day and night, the second-day and night are but its vehicle.

56

زادن طفل از شکست اشکم است

زادن مرد از شکست عالم است

بچے کا پیدا ہونا ماں کا پیٹ چاک ہونے سے ہے جبکہ مرد یعنی مرد کامل کا پیدا ہونا جہان کے ٹوٹنے سے ہے ۔ بچہ شکست شکم سے وجود میں آتا ہے جبکہ مرد شکست عالم سے پیدا ہوتا ہے ۔

A child is born through the rending of the womb, a man is born through the rending of the world;

57

هر دو زادن را دلیل آمد اذان

آن بلب گویند و این از عین جان

دونوں کی طرح کی پیدائش پر اذان دلیل ٹھہری ہے ۔ وہ پہلی پیدائش والی اذان ہونٹوں سے اور یہ سراسر جان سے کہی جاتی ہے ۔ گویا دوسری پیدائش والے کی پوری زندگی میں اذان کی روح سما جاتی ہے یہ گویا جانِ بیدار ہے ۔

The call to prayer signalizes both kinds of birth, the first is uttered by the lips, the second of the very soul.

58

جان بیداری چو زاید در بدن

لرزه ها افتد درین دیر کهن»

جب کسی بدن میں جان بیدار پیدا ہوتی ہے تو اس سے اس پرانے بتخانہ پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے ۔

Whenever a watchful soul is born in a body this ancient inn the world trembles to its foundations!’

59

گفتم این زادن نمیدانم که چیست

گفت شأنی از شؤن زندگی است

میں نے کہا کہ مجھے علم نہیں کہ یہ دوسری پیدائش کیا ہے جواب میں رومی نے فرمایا کہ یہ زندگی کی مختلف شانوں میں ایک شان ہے ۔ گویا قرآنی تلمیح کے مطابق ذاتِ حق ہر لمحہ ایک نئی شان سے جلوہ گر ہے ۔

I said, ‘I know not what manner of birth this is.’ He said, ‘It is one of the high estates of life.

60

شیوه های زندگی غیب و حضور

آن یکی اندر ثبات آن در مرور

زندگی کے اندر (طور طریقے) غیب و حضور ہیں ۔ گویا یہ زندگی کے دو رخ ہیں ۔ اس کا ایک رخ غیب (خلوت) ثبات ہے تو دوسرا (جلوت) میں حرکت و گردش ہے ۔

Life plays at vanishing and then reappearing – one role is constant, the other transitory;

61

گه بجلوت می گدازد خویش را

گه بخلوت جمع سازد خویش را

کبھی تو وہ (زندگی )خود کو جلوت میں گدازکرتی ہے اور کبھی خلوت میں خود کو جمع کرتی ہے ۔

Now life dissolves itself in manifestation, anon it concentrates itself in solitude.

62

جلوت او روشن از نور صفات

خلوت او مستنیر از نور ذات

اس کی جلوت صفات کے نور سے روشن ہے جبکہ اس کی خلوت نورِ ذات سے روشن ہے ۔

Its manifestation shines with the light of the Attributes, its solitude is lit up by the light of the Essence.

63

عقل او را سوی جلوت می کشد

عشق او را سوی خلوت می کشد

عقل اسے جلوت کی طرف کھینچتی ہے اور عشق اسے (آدمی کو) خلوت کی طرف کھینچتا ہے ۔

Reason draws life towards manifestation, love draws life towards solitude.

64

عقل هم خود را بدین عالم زند

تا طلسم آب و گل را بشکند

عقل بھی خود کو اس عالم (کائنات) سے نبردآزما ہوتی ہے تاکہ وہ مادی دنیا کے جادو کو توڑ دے (گویا انسانی عقل دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے مسخر کرنے میں لگی رہتی ہے لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب اس میں جذبہ عشق شامل ہو) ۔

Reason likewise hurls itself against the world to shatter the talisman of water and clay;

65

می شود هر سنگ ره او را ادیب

می شود برق و سحاب او را خطیب

(عقل جب کائنات کی حقیقت کی آگاہی کے لیے نکلتی ہے تو ) اس کے راستے کا ہر پتھر اس کا نیا سبق بن جاتا ہے اور آسمانی بجلی اور بادل اس سے خطاب کرنے لگتے ہیں ۔ (گویا کائنات کی ہر شے اس کی اسیر ہو جاتی ہے) ۔

Every stone on the road becomes its preceptor, lightning and cloud preach sermons to it.

66

چشمش از ذوق نگه بیگانه نیست

لیکن او را جرأت رندانه نیست

اس (عقل) کی آنکھ ذوقِ نگاہ سے محروم نہیں ہے لیکن اس میں وہ عشق کی سی جرات رندانہ نہیں ہے ۔

Its eye is no stranger to the joy of seeing, but it possesses not the drunkard’s boldness;

67

پس ز ترس راه چون کوری رود

نرم نرمک صورت موری رود

چنانچہ وہ (عقل) راستے کے خوف سے اندھے کی طرح چلتی ہے ۔ اس کی رفتار چیونٹی کی طرح بہت آہستہ آہستہ ہوتی ہے ۔

Therefore, fearing the road, it gropes like a blind man, softly, gently it creeps along, just like an ant.

68

تا خرد پیچیده تر بر رنگ و بوست

میرود آهسته اندر راه دوست

عقل چونکہ رنگ و بو یعنی دنیا میں زیادہ الجھی رہتی ہے اس لیے دوست (اللہ تعالیٰ) کے راستے میں آہستہ آہستہ چلتی ہے ۔

So long as reason is involved with colour and scent showly it proceeds upon the path to the Beloved;

69

کارش از تدریج می یابد نظام

من ندانم کی شود کارش تمام

اس کا کام بتدریج سے نظام پاتا ہے ۔ میں نہیں جانتا اسکا کام انجام کو کیونکر پہنچے گا(وہ اپنے مقصد کو کب پائے گا) ۔

Its affairs achieve some order gradually – I do not know when they will ever be completed!

70

می نداند عشق سال و ماه را

دیر و زود و نزد و دور راه را

عشق سال و ماہ کو نہیں جانتا ۔ وہ راستے کے دیر و زود اور نزدیک و دور کو نہیں جانتا ۔

Love knows nothing of months and years, late and soon, near and far upon the road.

71

عقل در کوهی شکافی میکند

یا بگرد او طوافی می کند

عقل پہاڑ میں شگاف ڈال دیتی ہے ۔ یا اس کے گرد طواف کرتی رہتی ہے ۔

Reason drives a fissure through a mountain, or else makes a circuit around it;

72

کوه پیش عشق چون کاهی بود

دل سریع السیر چون ماهی بود

پہاڑ عشق کے سامنے تنکے کی مانند ہے اور عشق سے دل چاند کی طرح تیز رفتار ہوتا ہے ۔ وہ جلدی سے راستے طے کر کے منزلِ مقصود تک پہنچتا ہے ۔ )

Before love the mountain is like a straw, the heart darts as swiftly as a fish.

73

عشق ، شبخونی زدن بر لامکان

گور را نادیده رفتن از جهان

عشق لامکان پر شب خون مارنے کا نام ہے ۔ اور قبر دیکھے بغیر رخصت ہونا ہے ۔ مطلب یہ کہ عشق اگرچہ جسمانی طور پر مر بھی جائے تو قبر میں بھی زندہ رہتا ہے یعنی عشق پر موت طاری نہیں ہوتی ۔

Love means, to make assault upon the Infinite, without seeing the grave to flee the world.

74

زور عشق از باد و خاک و آب نیست

قوتش از سختی اعصاب نیست

عشق کا زور و قوت ہوا اور خاک پانی نہیں ہے اور اس کی قوت اعصاب کی سختی سے نہیں ہے ۔ (اس کی قوت کا تعلق جسمانی طاقت کے حوالے سے نہیں ہے) ۔

Love’s strength is not of air and earth and water, its might derives not from toughness of sinew;

75

عشق با نان جوین خیبر گشاد

عشق در اندام مه چاکی نهاد

عشق نے جو کی روٹی کھا کر قلعہ خیبر فتح کیا ۔ عشق نے چاند کے جسم میں چاک ڈال دیا، اسے دو ٹکڑے کر دیا ۔ پہلے مصرعے میں حضرت علی کے واقعہ فتح خیبر کی طرف اشارہ ہے ان کی خوراک جو کی روٹی ہوتی تھی ۔ علامہ اقبال نے بال جبریل میں اسی خیال کو یوں پیش کیا ہے : ۔ جسے نانِ جویں بخشی ہے تو نے اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر دوسرے مصرعے میں رسول اللہ ﷺ کے چاند کے دو ٹکڑے کرنے کے معجز ے کی طرف اشارہ ہے ۔ ان کا تعلق جسمانی قوت سے نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ عشق حقیقی کے جذبہ سے ہی ہوا ۔

love conquered Khaibar on a loaf of barley, love clove asunder the body of the moon,

76

کله نمرود بی ضربی شکست

لشکر فرعون بی حربی شکست

اس عشق نے نمرود کا جبڑا کسی ضرب کے بغیر توڑ دیا اور جنگ کے بغیر فرعون کے لشکر کو شکست دی(پہلے مصرعے میں حضرت ابراہیم کے حوالے سے اور دوسرے مصرعے میں حضرت موسیٰ کے حوالے سے عشق کی باطنی قوت کی بات کی ہے ) ۔

Broke Nimrod’s cranium without a blow, without a battle shattered Pharaoh’s hosts.

77

عشق در جان چون بچشم اندر نظر

هم درون خانه هم بیرون در

عشق جان روح میں اسی طرح ہے جیسے آنکھ ہوتی ہے جو گھر کے اندر بھی ہے اور گھر کے باہر بھی ۔

Love in the soul is like sight it in the eye, be it within the house or without the door;

78

عشق هم خاکستر و هم اخگر است

کار او از دین و دانش برتر است

عشق راکھ بھی ہے اور شعلہ بھی ہے اس کا کام دین اور عقل و دانش سے بڑھ کر ہے ۔

Love is at once both ashes and spark, its work is loftier than religion and science.

79

عشق سلطان است و برهان مبین

هر دو عالم عشق را زیر نگین

عشق سلطان (قوت) بھی ہے اور روشن دلیل بھی ۔ دونوں جہان عشق کے زیر نگیں ہیں (عشق کائنات کو مسخر کر لیتا ہے اور لامکان تک جا پہنچتا ہے ۔ اس کی دلیل کے لیے انبیا کے تصرفات دیکھے جا سکتے ہیں ) ۔

Love is authority and manifest proof, both worlds are subject to the seal – ring of love;

80

لا زمان و دوش فردائی ازو

لامکان و زیر و بالائی ازو

اگرچہ عشق کا کوئی زمانہ نہیں ہے مگر ماضی و مستقبل اسی سے ہیں ۔ وہ لامکان ہے لیکن پستی و بلندی اسی سے ہے ۔ گویا عشق اس عالم کے وجود میں آنے کا باعث ہے ۔ قرآنی تلمیح کے حوالے سے مراد یہ ہے کہ خدا نے خود کو دیکھنا چاہا تو اس حسن حقیقی نے اپنا عاشق اس کائنات کی صورت میں پیدا کر دیا ۔ اگر یہ نہ ہوتا تو کائنات بھی نہ ہوتی ۔

Timeless it is, and yesterday and tomorrow spring from it, placeless it is, and under and over spring from it;

81

چون خودی را از خدا طالب شود

جمله عالم مرکب او راکب شود

جب عشق خدا سے خودی کا طالب ہوتا ہے تو تمام عالم سواری بن جاتی ہے اور وہ اس کا سوا ر بن جاتا ہے (وہ کائنات کو مسخر کر لیتا ہے ) ۔

When it supplicates God for selfhood all the world becomes a mount, itself the rider.

82

آشکارا تر مقام دل ازو

جذب این دیر کهن باطل ازو

دل کا مقام عشق سے اور زیادہ آشکارا ہو جاتا ہے اور اس قدیم بت خانہ کی کشش اس سے باطل ہو جاتی ہے ۔

Through love, the heart’s status becomes clearer; through love, the draw of this ancient inn becomes void.

83

عاشقان خود را به یزدان میدهند

عقل تأویلی به قربان میدهند

عاشق خود کو خدا کے سپرد کر دیتے ہیں اور تاویلیں کرنے والی عقل کو قربان کر دیتے ہیں ۔

Lovers yield themselves up to God, give interpretative reason as an offering.

84

عاشقی از سو به بی سوئی خرام

مرگ را بر خویشتن گردان حرام

کیا تو عاشق ہے اگر ایسا ہے تو اطراف ہے ۔ لامکان کی طرف چل اور موت کو اپنے اوپر حرام کر لے ، یعنی اس جہان سے بے نیاز ہو کر لامکانی بن جا ۔ اس طرح تو مر کر بھی زندہ یعنی جاودانی رہے گا ۔

Are you a lover? Proceed from direction to directionlessness; make death a thing prohibited to yourself.

85

ای مثال مرده در صندوق گور

می توان برخاستن بی بانگ صور

اے کہ تو قبر کے صندوق میں مردے کی طرح بند ہے ۔ یہ جان لے کہ قبر سے صور کی آواز کے بغیر بھی اٹھا جا سکتا ہے ۔

You who are like a dead man in the grave’s coffer, resurrection is possible without the sound of the Trumpet!

86

در گلو داری نواها خوب و نغز

چند اندر گل بنالی مثل چغز

تیرے گلے میں تو عمدہ اور خوب یا دلکش نغمے موجود ہیں ۔ تو کب تک مینڈک کی طرح مٹی میں روتا رہے گا ۔ یعنی تو افضل مخلوقات ہے ، تیرے لیے یہ حیوانوں کی سی زندگی بسر کرنا مناسب نہیں ہے ۔

You have in your throat melodies sweet and delicate; how long will you croak like a frog in the mud?

87

بر مکان و بر زمان اسوار شو

فارغ از پیچاک این زنار شو

تو زمان ومکان پر سوار ہو جا اور یوں اس زنار کی گرفت سے آزاد ہو جا یعنی تو اس کائنات کو مسخر کر کے اس سے آزاد ہو جا تا کہ تو اپنی خودی کو پہچان سکے ۔

Boldly ride upon space and time, break free of the convolutions of this girdle;

88

تیز تر کن این دو چشم و این دو گوش

هر چه می بینی نیوش از راه هوش

تو اپنی ان دو آنکھوں اور ان دو کانوں کو زیادہ تیز کر ، جو کچھ بھی تو دیکھے اس پر ہوش سے غور و فکر کر ۔

Sharpen your two eyes and your two ears – whatever you see, digest by way of the understanding.

89

آن کسی کو بانگ موران بشنود

هم ز دوران سر دوران بشنود

جو شخص چیونٹیوں کی آواز سن لیتا ہے وہ زمانے سے اس کا بھید بھی سن سکتا ہے ۔ قرآنی تلمیح کے حوالے سے حضرت سلیمان کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے انھوں نے چیونٹیوں کی آواز سن لی تھی ۔ صاحبِ خودی میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ مشاہدہ کی جانے والی ہر شے کی بات سن لیتا ہے ۔

‘The man who hears the voice of the ants also hears from Time the secret of Fate.’

90

آن نگاه پرده سوز از من بگیر

کو بچشم اندر نمیگردد اسیر

تو مجھ (رومی) سے پردوں کو جلانے والی وہ نگاہ حاصل کر جو آنکھوں میں قید نہیں رہتی ۔ (راز ہائے درون پر وہ دیکھ لیتی ہے ) ۔

Take from me the glance that burns the veil, the glance that becomes not the eye’s prisoner.

91

«آدمی دید است باقی پوست است

دید آن باشد که دید دوست است

آدمی فقط نظر ہے باقی جو کچھ ہے وہ اس کا چھلکا ہے اور نگاہ ہے جو دوست (حق تعالیٰ) کا دیدار کرے ۔

‘Man is but sight, the rest is mere skin; true sight signifies seeing the Beloved.

92

جمله تن را در گداز اندر بصر

در نظر رو ، در نظر رو ، در نظر»

تو اپنے سارے بدن کو نگاہ میں پگھلا دے ۔ تو نظر میں چل یعنی نظر پیدا کر تو نظر پیدا کر ، نظر پیدا کر ۔ گویا تو اپنے سارے جسم کو بصیرت میں تبدیل کر لے ۔ وہ اس لیے کہ انسان سراپا نظر یا بصر ہے ۔ باقی جو کچھ ہے وہ کھال کی مانند ہے ۔

Dissolve the whole body into sight – go to gazing, go to gazing, go to gaze!’

93

تو ازین نه آسمان ترسی ، مترس

از فراخای جهان ترسی مترس

کیا تو ان نو آسمانوں سے ڈرتا ہے نہ ڈر ۔ کیا تو دنیا کی وسعت سے ڈرتا ہے نہ ڈر ۔ یعنی اگر تو سراپا نظر بن جائے تو ان کو مسخر کیا جا سکتا ہے ۔ اس لیے ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

Are you afraid of these nine heavens? Fear not; are you afraid of the world’s immensity? Fear not.

94

چشم بگشا بر زمان و بر مکان

این دو یک حال است از احوال جان

تو زمان پر اور مکان پر نظر ڈال ۔ یہ دونوں جان کے حالات میں سے ایک حال ہیں ۔

Open wide your eyes upon Time and Space, for these two are but a state of the soul.

95

تا نگه از جلوه پیش افتاده است

اختلاف دوش و فردا زاده است

چونکہ نگاہ جلوے کی تاب نہ لانے کی قوت نہیں رکھتی اسی باعث اس نے گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل کا اختلاف پیدا کر رکھا ہے ۔ علامہ ہی کے لفظوں میں حقیقت حال یہ ہے ۔ نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ زمان و مکان کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہے ۔ صرف اور صرف اس ذات باری تعالیٰ کا وجود ہے جو کائنات کی ہر شے میں سمایا ہوا ہے ۔

Since first the gaze advanced on manifestation the alternation of yesterday and tomorrow was born.

96

دانه اندر گل به ظلمت خانه ئی

از فضای آسمان بیگانه ئی

مٹی کے اندر دانہ زمین کی تاریکی میں ہونے کے باعث آسمان کی فضا سے بیگانہ و بے خبر ہوتا ہے ۔ اسے کچھ خبر نہیں ہوتی کہ زمین کے باہر کیا کچھ ہے ۔

The seed lying in the soil’s house of darkness a stranger to the vast expanse of the sky.

97

هیچ میداند که در جای فراخ

می توان خود را نمودن شاخ شاخ

کیا وہ دانہ، مذکورہ حالت میں کچھ جانتا ہے کہ مٹی سے باہر وسیع جگہ پر خود کو درخت کی شکل میں یا شاخ در شاخ نمودار کیا جا سکتا ہے یعنی وہ اگ کر زمین سے باہر آ جائے تو وہ درخت کی صورت اختیار کر سکتا ہے ۔

Does it not know that in an ample space it can display itself, branch by branch.

98

جوهر او چیست یک ذوق نموست

هم مقام اوست این جوهر هم اوست

اس دانے کا جوہر کیا ہے خود کو نمودار کرنے کا ایک ذوق ہے ۔ یہی جوہر اس کا مقام بھی ہے اور یہی وہ خود ہے ۔

What is its substance? A delight in growing; this substance is both its station and itself.

99

ایکه گوئی محمل جان است تن

سر جان را در نگر بر تن متن

تو جو یہ کہتا ہے کہ جسم، روح کا محمل ہے ۔ تو تو ذرا روح کے بھید کو دیکھ (اس پر غور کر اور خواہ مخواہ ) تن پر مت اکڑ ۔

You who say that the body is the soul’s vehicle, consider the soul’s secret; tangle not with the body.

100

محملی نی ، حالی از احوال اوست

محملش خواندن فریب گفتگوست

جسم، روح کا محمل نہیں ہے بلکہ اس روح کے احوال میں سے ایک حال ہے ۔ یا اس کی شانوں میں سے ایک شان ہے ۔ اسے اس کا محمل کہنا محض فریب گفتگو ہے ۔ (یہ نظریہ اہل عقل کا ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے ) ارتباط حرف و معنی ، اختلاطِ جان و تن ۔

It is not a vehicle, it is a state of the soul; to call it its vehicle is a confusion of terms.

101

چیست جان جذب و سرور و سوز و درد

ذوق تسخیر سپهر گرد گرد

جان (روح) کیا ہے جذب و سرور اور سوز و درد کا نام ہے ۔ اور یہ روح گردش کرنے والے آسمان کو مسخر کرنے کا ذوق ہے ۔ آسمان سے مراد پوری کائنات کی قوتیں ہیں ۔

What is the soul? Rapture, joy, burning and anguish, delight in mastering the revolving sphere.

102

چیست تن با رنگ و بو خو کردن است

با مقام چار سو خو کردن است

جسم (بدن ) کیا ہے یہ رنگ و بو کی دنیا سے موافقت کرنے کا نام ہے ۔ اور یہ (جسم) چار اطراف والے جہان سے بنا کر رکھنے کا نام ہے ۔

What is the body? Habit of colour and scent, habit of dwelling in the world’s dimensions.

103

از شعور است این که گوئی نزد و دور

چیست معراج؟ انقلاب اندر شعور

یہ جو تو نزدیک اور دور کی بات کرتا ہے تو اس کا تعلق شعور سے ہے ۔ معراج کیا ہے معراج شعور میں انقلاب پیدا ہونے کا نام ہے ۔

Your near and far spring out of the senses; what is Ascension? A revolution in sense,

104

انقلاب اندر شعور از جذب و شوق

وارهاند جذب و شوق از تحت و فوق

شعور کے اندر انقلاب جذب و شوق عشق سے پیدا ہوتا ہے ۔ جذب و شوق انسان کو پستی و بلندی سے آزاد کر دیتا ہے ۔ اگر عشق کے نتیجے میں شعور انقلاب پذیر ہو جائے تو یہ نزد و دور کا تصور ختم ہو جائے ۔ اسی انقلاب کا نام معراج ہے ۔ اس میں بالواسطہ حضور اکرم کے معراج کو جانے کا ذکر ہے ۔ حضور انسان تھے لیکن اسی انقلاب کے نتیجے میں آپ عالم لاہوت میں پہنچ کر محبوب حقیقی کے دیدار سے مشرف ہو کر زمین پر لوٹ آئے ۔

A revolution in sense born of rapture and yearning; rapture and yearning liberate from under and over.

105

این بدن با جان ما انباز نیست

مشت خاکی مانع پرواز نیست»

یہ بدن ہماری روح کے ساتھ شریک نہیں ہے ۔ یہ مٹی کی مٹھی انسانی بدن روح کی پرواز میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔

This body is not the associate of the soul; a handful of earth is no impediment to flight.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

فروغ مشت خاک از نوریان افزون شود روزی

زمین ازکوکب تقدیر او گردون شود روزی

علامہ اقبال»جاویدنامه»نغمهٔ ملائک

اگلی نظم

از کلامش جان من بیتاب شد

در تنم هر ذره چون سیماب شد

علامہ اقبال»جاویدنامه»زروان که روح زمان و مکان است مسافر را به سیاحت عالم علوی می‌برد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور