صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »زروان که روح زمان و مکان است مسافر را به سیاحت عالم علوی می‌برد

زروان که روح زمان و مکان است مسافر را به سیاحت عالم علوی می‌برد

زروان جو روح زمان و مکان ہے مسافر (اقبال) کو عالم بالا کی سیاحت کے لیے ساتھ لے جاتا ہے۔

Zarvan, the Spirit of Time and Space, Conducts the Traveller on a Journey through the Upper World

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

از کلامش جان من بیتاب شد

در تنم هر ذره چون سیماب شد

مولانا رومی کے کلام سے میری جان بے چین ہو گئی اور میرے جسم کا ہر ذرہ پارے کی طرح ہو گیا (تڑپنے لگا) ۔

My soul was convulsed by the words that he spoke, every atom of my body trembled like quicksilver.

22

ناگهان دیدم میان غرب و شرق

آسمان در یک سحاب نور غرق

اچانک میں نے دیکھا کہ مغرب اور مشرق کے درمیان آسمان نور کے ایک بادل میں ڈوبا ہوا ہے ۔

Suddenly I saw, between the West and the East, heaven immersed in a single cloud of light;

33

زان سحاب افرشته ئی آمد فرود

با دو طلعت این چو آتش آن چو دود

اس بادل میں سے ایک فرشتہ نیچے اترا ۔ اس کے دو چہرے تھے ایک آگ کی مانند ، دوسرا دھوئیں کی مانند ۔

Out of that cloud an angel descended having two faces, one like fire, one like smoke.

44

آن چو شب تاریک و این روشن شهاب

چشم این بیدار و چشم آن بخواب

دھوئیں والا چہرہ رات کی طرح تاریک اور آگ والا چہرہ ستارہ شہاب کی طرح روشن تھا ۔ آگ والے چہرے کی آنکھ بیدار اور دھوئیں کے چہرے والی آنکھ سوئی ہوئی تھی یا نیند میں تھی ۔

One dark as night, the other bright as a meteor, the eyes of one watchful, the other’s eyes asleep.

55

بال او را رنگهای سرخ و زرد

سبز و سیمین و کبود و لاجورد

اس کے بال سرخ اور زرد رنگ کے، نیز سبز و سفید اور نیلے اور لاجوردی تھے ۔

The hues of his wings were of crimson and gold, emerald and silver, azure and lapis-lazuli;

66

چون خیال اندر مزاج او رمی

از زمین تا کهکشان او را دمی

اس کے مزاج میں خیال کی سی تیز رفتاری تھی اور زمین سے کہکشاں تک کا سفر اس کے لیے ایک پل کا سفر تھا ۔ (ایک لمحہ میں طے کر لیتا تھا ) ۔

His temper had the fleetness even of a phantom, he sped from earth to the Milky Way in an instant;

77

هر زمان او را هوای دیگری

پر گشادن در فضای دیگری

ہر زمان اس میں ایک نئی خواہش پیدا ہوتی تھی اور ہر پل ایک نئی فضا میں پرواز کرتا تھا ۔

Every moment he was seized by another desire, to spread his wings in yet another sky.

88

گفت «زروانم جهان را قاهرم

هم نهانم از نگه هم ظاهرم

وہ کہنے لگا میں زروان ہوں اور اس جہان پر میرا تسلط ہے ۔ میں نگاہ سے پنہاں بھی ہوں اور ظاہر بھی ہوں ۔

He said, ‘I am Zarvan, I am the world-subduer, alike hidden from sight and manifest am I.

99

بسته هر تدبیر با تقدیر من

ناطق و صامت همه نخچیر من

ہر تدبیر میری تقدیر سے وابستہ (بندھی ہوئی ) ہے ۔ بولنے والے اور نہ بولنے والے سبھی میرے شکار ہیں ۔

Every plan is bound up with my determining; voiced and voiceless-all alike are my prey.

1010

غنچه اندر شاخ می بالد ز من

مرغک اندر آشیان نالد ز من

شاخ کے اندر غنچہ میری وجہ سے پھوٹتا ہے اور پرندہ آشیانے میں میری وجہ سے فریادی ہے ۔

Through me the bud swells upon the branch, through me the birdie bewails in the nest;

1111

دانه از پرواز من گردد نهال

هر فراق از فیض من گردد وصال

دانہ میری ہی پرواز سے درخت بنتا ہے اور ہر فراق میرے فیض سے وصل بنتا ہے ۔ تبدیل ہوتا ہے ۔

Through my flight the seed becomes a stalk, through my effluence every parting turns to union.

1212

هم عتابی هم خطابی آورم

تشنه سازم تا شرابی آورم

میں عتاب بھی لاتا ہوں اور خطاب بھی اور میں ہی کسی کو پیاسا بناتا ہوں تا کہ اس کے لیے پینے کی چیز لاؤں ۔

I pronounce both reproach and exhortation; I render athirst, that I may offer wine.

1313

من حیاتم من مماتم من نشور

من حساب و دوزخ و فردوس و حور

میں ہی زندگی ہوں ، میں ہی موت ہوں ، میں ہی قیامت ہوں ۔ میں ہی حسابِ حشر ہوں ، میں ہی دوزخ ہوں اور میں ہی فردوس اور میں ہی حور ہوں ۔

I am life, I am death, I am resurrection, I am the Judgment, Hell, Heaven and Houri.

1414

آدم و افرشته در بند من است

عالم شش روزه فرزند من است

آدمی اور فرشتہ دونوں میرے اسیر یا قیدی ہیں ۔ یہ چھ روزہ جہان میری اولاد ہے ۔

Man and angel are both in bondage to me, this transitory world is my own child;

1515

هر گلی کز شاخ می چینی منم

ام هر چیزی که می بینی منم

ہر وہ پھول جو تو شاخ سے توڑتا ہے وہ میں ہوں اور ہر وہ چیز جو تو دیکھتا ہے اس کی ماں میں ہوں ۔

I am every rose that you pluck from the branch, I am the matrix of every thing that you see.

1616

در طلسم من اسیر است این جهان

از دمم هر لحظه پیر است این جهان

یہ جہان میرے طلسم میں اسیر ہے اور میرے دم یا میری سانس سے یہ جہان ہر لمحہ بوڑھا ہو رہا ہے ۔

This world is a prisoner in my talisman, every moment it ages through my breath.

1717

لی مع الله هر که را در دل نشست

آن جوانمردی طلسم من شکست

جس کسی کے بھی دل میں لی مع اللہ کا نقش بیٹھ گیا اس جواں مرد آدمی نے میرا جادو توڑ دیا (لی مع اللہ کی رمز سے واقف انسان وقت پر قابو پا لیتا ہے اور زمانہ اس کی غلامی میں آ جاتا ہے ) ۔

But he who has in his heart I have a time with God, that doughty hero has broken my talisman;

1818

گر تو خواهی من نباشم در میان

لی مع الله باز خوان از عین جان»

اگر تو یہ چاہتا ہے کہ میں درمیان میں نہ رہوں تو پھر تو لی مع اللہ کو دوبارہ دل و جان سے پڑھ ۔

If you wish that I should not be in the midst, recite from the depths of your soul I have a time with God.’

1919

در نگاه او نمیدانم چه بود

از نگاهم این کهن عالم ربود

میں نہیں جانتا اس کی نگاہ میں کیا تھا کہ اس نے میری نگاہ سے یہ پرانا جہان اڑا لیا (اوجھل ہو گیا) ۔

I know not what it was that was in his glance, it snatched away from my sight this ancient world;

2020

یا نگاهم بر دگر عالم گشود

یا دگرگون شد همان عالم که بود

یا تو میری نگاہ کسی اور جہان پر کھل گئی یا پھر وہی پرانا جہان سارا تبدیل ہو گیا ۔

Either my sight opened on another world or this same world took on another form.

2121

مردم اندر کائنات رنگ و بو

زادم اندر عالم بی های و هو

میں اس رنگ و بو کی کائنات میں تو مر گیا اور ایک ہنگاموں اور شور و غوغا سے خالی جہان میں پیدا ہو گیا ۔ (عالم سفلی سے عالم علوی پہنچنا مراد ہے ) ۔

I died in the universe of colour and scent, I was born in a world without tumult and clamour;

2222

رشتهٔ من زان کهن عالم گسست

یک جهان تازه ئی آمد بدست

میرا تعلق اس پرانے جہان سے ختم ہو گیا اور ایک نئی دنیا میرے ہاتھ لگی ۔

My thread snapped from that ancient world, a whole new world came into my hands.

2323

از زیان عالمی جانم تپید

تا دگر عالم ز خاکم بر دمید

ایک جہان کے نقصان سے میری جان تڑپ اٹھی ۔ یہاں تک کی میری خاک سے ایک نئے جہان نے جنم لیا ۔

My soul trembled at the loss of a world until another world blossomed out of my dust;

2424

تن سبک تر گشت و جان سیار تر

چشم دل بیننده و بیدار تر

میرا جسم پہلے سے زیادہ ہلکا ہو گیا اور جان (روح) پہلے سے زیادہ تیز رفتار ہو گئی جبکہ میرے دل کی آنکھ پہلے سے زیادہ دیکھنے والی اور پہلے سے زیادہ بیدار ہو گئی ۔

My body became nimbler, my soul more adventurous. the eye of my heart was keener and more wakeful;

2525

پردگی ها بی حجاب آمد پدید

نغمهٔ انجم بگوش من رسید

چھٹی ہوئی اشیا بے پردہ ہو کر ظاہر ہو گئیں اور میرے کانوں نے ستاروں کا یہ گیت سنا ۔

Veiled things became manifest uncurtained, the melody of the stars reached my ears.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عشق شور انگیز بی پروای شهر

شعلهٔ او میرد از غوغای شهر

علامہ اقبال»جاویدنامه»تمهید زمینی: آشکارا می‌شود روح حضرت رومی و شرح می‌دهد اسرار معراج را

اگلی نظم

عقل تو حاصل حیات ، عشق تو سر کائنات

پیکر خاک خوش بیا ، این سوی عالم جهات

علامہ اقبال»جاویدنامه»زمزمهٔ انجم

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور