زمزمۂ انجم
Chant of the Stars
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن (رجز مثمن مطوی مخبون)
صنف: ترکیب بند
عقل تو حاصل حیات ، عشق تو سر کائنات
پیکر خاک خوش بیا ، این سوی عالم جهات
تیری عقل زندگی کا حاصل ہے اور تیرا عشق کائنات کا راز ہے ۔ اے مٹی کے پیکر یعنی اے خاکی انسان (اقبال) تو اس عالم جہات سے اس طرف خوشی خوشی آ (اس طرف آنا تجھے مبارک ہو) ۔
Your reason is the fruit of life, your love is creation’s mystery; O form of dust, welcome to this side of the world of dimensions!
زهره و ماه و مشتری از تو رقیب یکدگر
از پی یک نگاه تو کشمکش تجلیات
زہرہ اور چاند اور مشتری تیری وجہ سے ایک دوسرے کے رقیب بن گئے ہیں ۔
Venus and Moon and Jupiter are rivals on your account, for one glance from you there’s a great jostle of manifestations.
در ره دوست جلوههاست تازه به تازه نو به نو
صاحب شوق و آرزو دل ندهد به کلیات
محبوب حقیقی کی راہ میں نت نئے اور تازہ جلوے ہیں ۔ جو کوئی صاحب شوق اور آرزو والا ہے وہ کلیات ہی کو دل نہیں دیتا یا اس سے ہی دل نہیں لگاتا ۔
On the road to the Beloved there are revelations ever fresh and new; the man of true yearning and desire yields not his heart to the All.
صدق و صفاست زندگی نشو و نماست زندگی
«تا ابد از ازل بتاز ملک خداست زندگی»
زندگی صدق و صفا کا نام ہے ۔ زندگی نشوونما کا نام ہے ۔ تو ازل سے ابد تک گھوڑا دوڑا (تگ و تاز جاری رکھ) زندگی تیرے خدا کا ختم نہ ہونے والا ملک ہے ۔
Life is truth and purity, life is quickening and surging; gallop from eternity to eternity; life is the Kingdom of God.
شوق غزل سرای را رخصت های و هو بده
باز به رند و محتسب باده سبو سبو بده
تو اپنے غزل سرائی کے شوق کو ہائے و ہو (نالہ و فریاد کرنے) کی اجازت دے ۔ ایک بار پھر رند اور محتسب کو مٹکے بھر بھر کے شراب دے ۔
Unto the passion of minstrelsy give leave to clamour and riot, give wine again to profligate and censor, wine pitcher on pitcher.
شام و عراق و هند و پارس خو به نبات کردهاند
خو به نبات کرده را تلخی آرزو بده
شام اور عراق اور ہند اور ایران کے مسلمان مصری شیرینی کے عادی ہو چکے ہیں ۔ ان مصری کھانے کے عادیوں میں آرزو کی تلخی پیدا کر ۔ ان میں بڑھنے کا جذبہ پیدا کر ۔
Syria and Iraq, India and Persia are accustomed to the sugarcane; give to the sugar-cane’s habituate the bitterness of desire!
تا به یم بلند موج معرکهای بنا کند
لذت سیل تند رو با دل آب جو بده
اس خاطر کہ وہ بلند موجوں والے سمندر سے معرکہ آرائی کا آغاز کرے تو ندی کے دل کو تیز رفتار سیلاب کی لذت عطا کر ۔
That it may enter upon battle with the high-billowed ocean give to the heart of the rivulet the joy of the swift torrent.
مرد فقیر آتش است میری و قیصری خس است
فال و فر ملوک را حرف برهنهای بس است
مردِ درویش، فقیر آدمی آگ ہے جبکہ امیری اور شہنشاہی تنکا ہیں ۔ بادشاہوں کی شان وشوکت کو مٹانے کے لیے حق و صداقت پر مبنی ایک صاف اور بے باک بات کافی ہے ۔
The poor man is a fire, rulership and power imperial are straw; a naked sword is ample enough for the august pomp of kings.
دبدبهٔ قلندری ، طنطنهٔ سکندری
آن همه جذبهٔ کلیم این همه سحر و سامری
قلندری دبدبہ سارے کا سارا حضرت موسیٰ کلیم اللہ کا جذبہ ہے ۔ جبکہ طنطنہ سکندری سراسر سحر سامری ہے ۔ (سامری کے جادو کا توڑ حضرت موسیٰ نے کیا تھا ۔ کلیمی یا قلندری صاحب بقا ہے جبکہ سکندری و سامریت کو فنا ہے ) ۔
The drumming of the dervish, Alexander’s clamorous vanity – the one is the rapture of Moses, the other the Samiri’s conjuring.
آن به نگاه میکشد این به سپاه میکشد
آن همه صلح و آشتی این همه جنگ و داوری
قلندر تو نگاہ سے مارتا ہے جبکہ بادشاہ فوج کے ذریعے قتل و غارت کرتا ہے ۔ یعنی قلندر اپنی نگاہِ فیض اثر سے دلوں پر قابو پا لیتا ہے ۔ اور یوں کسی قتل و غارت گری کے بغیر اور انسانوں کی آزادی چھینے بغیر انہیں اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے ۔
The one slays with a glance, the other slays with an army; the one is all peace and amity, the other is all war and wrangling.
هر دو جهانگشاستند هر دو دوام خواستند
این به دلیل قاهری ، آن به دلیل دلبری
یہ دونوں قلندر اور بادشاہ دنیا کو فتح کرتے ہیں اور دونوں بقا کے آرزومند ہیں دوام چاہتے ہیں ۔ بادشاہ تو قہر و غضب اور ظلم و ستم کی دلیل سے ایسا چاہتا ہے جبکہ قلندر دلبری کی دلیل سے ایسا کرتا ہے ۔
Both were conquerors of the world, both sought immortality, the one by the guidance of violence, the other guided by love.
ضرب قلندری بیار سد سکندری شکن
رسم کلیم تازه کن رونق ساحری شکن
ضرب قلندری پیدا کر (اور اس سے) سدّ سکندری توڑ ڈال؛ حضرت موسیؑ کی روایت تازہ کر، سامری کی رونق ختم کر دے۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Bring the hammer-blow of the dervish, break the rampart of Alexander; renew the ancient wont of Moses, break the glamour of wizardry!
فارسی متن کا ماخذ: گنجور