صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک عطارد
  4. »افغانی: دین و وطن

افغانی: دین و وطن

دین و وطن

Religion and Country

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

لرد مغرب آن سراپا مکر و فن

اهل دین را داد تعلیم وطن

(افغانی کہتا ہے) مغرب کے لارڈ نے جو سراسر مکر و فریب ہے اہل دین کو وطن کی تعلیم (نیشنلزم) دی ہے ۔

The Lord of the West, cunning from head to toe, taught the people of religion the concept of Country.

22

او بفکر مرکز و تو در نفاق

بگذر از شام و فلسطین و عراق

یورپ نے مسلمانوں کو تو نظریہ دین سے دور کیا ہے لیکن وہ خود تو مرکز کی فکر میں ہے اور تو نفاق میں پڑا ہوا ہے ۔ تو بھی شام اور فلسطین و عراق کی علیحدگی کی باتیں چھوڑ ۔

He thinks of the centre, while you are at discord – give up this talk of Syria, Palestine, Iraq!

33

تو اگر داری تمیز خوب و زشت

دل نبندی با کلوخ و سنگ و خشت

اگر تو اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے تو پھر اپنا دل مٹی، پتھر اور اینٹ سے نہ لگا ۔

If you can discriminate between good and evil you will not bind your hearts to clods, stones, bricks.

44

چیست دین برخاستن از روی خاک

تا ز خود آگاه گردد جان پاک

دین کیا ہے خاک پر سے اوپر اٹھنے کا نام ہے تاکہ جان پاک اپنے آپ سے آگاہ ہو جائے ۔

What is religion? To rise up from the face of the dust so that the pure soul may become aware of itself!

55

می نگنجد آنکه گفت الله هو

در حدود این نظام چار سو

جو کوئی اللہ ھو کہتا ہے وہ اس چار طرفوں والے نظام کی حدود میں نہیں سماتا ۔

He who has said ‘God is He’ is not contained within the confines of this dimensioned order.

66

پر که از خاک و برخیزد ز خاک

حیف اگر در خاک میرد جان پاک

گھاس کا تنکا اگرچہ خاک سے ہے لیکن وہ خاک سے اوپر اٹھتا ہے ۔ افسوس ہے کہ اگر جان پاک خاک میں ہی مر جائے ۔

A grass-blade is of the earth, and yet rises from the earth; alas, if the pure soul should die in the dust!

77

گرچه آدم بردمید از آب و گل

رنگ و نم چون گل کشید از آب و گل

اگرچہ آدمی کی پیدائش پانی اور مٹی یعنی عناصر سے ہوئی ہے لیکن اس نے اس سے پھول کی طرح رنگ اور نمی حاصل کی ہے ۔

Although man sprang out of water and clay, from water and clay rose-like drew colour and sap,

88

حیف اگر در آب و گل غلطد مدام

حیف اگر برتر نپرد زین مقام

لیکن یہ جائے افسوس ہے کہ اگر وہ ہمیشہ مٹی اور پانی ہی میں لوٹتا رہے اور وہ اس مقام سے بلند پروازی نہ کرے ۔

Alas, if he wanders forever in water and clay, alas, if he soars not higher than this station!

99

گفت تن در شو بخاک رهگذر

گفت جان پهنای عالم را نگر

جسم نے تو یہ کہا کہ تو راستے کی خاک میں مل جا جبکہ جان نے کہا کہ تو کائنات کی وسعت کی طرف دیکھ ۔

The body says, ‘Go into the dust of the roadway’; the soul says, ‘Look upon the expanse of the world!’

1010

جان نگنجد در جهات ای هوشمند

مرد حر بیگانه از هر قید و بند

اے صاحب ہوش و خرد جان اطراف یعنی زمان و مکان کی حدود میں نہیں سماتی ۔ آزاد مرد ہر طرح کی قید و بند سے آزاد ہوتا ہے ۔

Man of reason, the soul is not contained in dimensions; the free man is a stranger to every fetter and chain,

1111

حر ز خاک تیره آید در خروش

زانکه از بازان نیاید کار موش

آزاد مرد سیاہ مٹی کے خلاف احتجاج کرتا ہے اس لیے کہ بازوں سے چوہوں کا کام نہیں ہوتا ۔

The free man rails against the dark earth for it beseems not the falcon to act like a mouse.

1212

آن کف خاکی که نامیدی وطن

اینکه گوئی مصر و ایران و یمن

وہ مٹی کی مٹھی جسے تو وطن کا نام دیتا ہے، یہ کہ جسے تو مصر اور ایران اور یمن کہتا ہے ۔

This handful of earth to which you give the name ‘country’, this so-called Egypt, and Iran, and Yemen.

1313

با وطن اهل وطن را نسبتی است

زانکه از خاکش طلوع ملتی است

اگرچہ اہل وطن کو وطن سے تعلق ہے اس لیے کہ اس کی خاک سے ایک قوم وجود میں آتی ہے ۔

There is a relationship between a country and its people in that it is out of its soil that a nation rises;

1414

اندرین نسبت اگر داری نظر

نکته ئی بینی ز مو باریک تر

اگر تو(اقبال) تعلق و نسبت پر نظر کرے تو پھر تجھے اس میں بال سے بھی زیادہ باریک نکتہ نظر آئے گا ۔

But if you look carefully at this relationship you will descry a subtlety finer than a hair.

1515

گرچه از مشرق برآید آفتاب

با تجلی های شوخ و بی حجاب

آفتاب اگرچہ مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور اس میں شوخ اور بے حجاب تجلیات ہوتی ہیں ۔

Though it is out of the East that the sun rises showing itself bold and bright, without a veil,

1616

در تب و تاب است از سوز درون

تا ز قید شرق و غرب آید برون

وہ اپنے اندرونی سوز کی وجہ سے کشمکش میں رہتا ہے تا کہ وہ مشرق اور مغرب کی قید سے باہر نکل آئے ۔

Only then it burns and blazes with inward fire when it escapes from the shackles of East and West;

1717

بر دمد از مشرق خود جلوه مست

تا همه آفاق را آرد بدست

لیکن وہ اپنے مشرق سے جلوہ میں مست ہو کر نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ تمام کائنات کو ہاتھ میں لے لیتا ہے ۔

Drunk with splendour it springs up out of its East that it may subject all horizons to its mastery;

1818

فطرتش از مشرق و مغرب بری است

گرچه او از روی نسبت خاوری است

اس کی فطرت مشرق اور مغرب سے آزاد ہے، اگرچہ وہ نسبت کے لحاظ سے مشرقی ہے ۔

Its nature is innocent of both East and West, though relationship-wise, true, it is an Easterner.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مشت خاکی کار خود را برده پیش

در تماشای تجلی های خویش

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»زیارت ارواح جمال‌الدین افغانی و سعید حلیم پاشا

اگلی نظم

صاحب سرمایه از نسل خلیل

یعنی آن پیغمبری بی جبرئیل

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»اشتراک و ملوکیت

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور