صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک عطارد
  4. »زیارت ارواح جمال‌الدین افغانی و سعید حلیم پاشا

زیارت ارواح جمال‌الدین افغانی و سعید حلیم پاشا

اروح جمال الدین افغانی و سعید حلیم پاشا کی زیارت۔

Visitation to the Spirits of Jamal al-Din Afghani and Sa'id Halim Pasha

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

مشت خاکی کار خود را برده پیش

در تماشای تجلی های خویش

اس خاک کی مٹھی (اقبال) نے اپنی تجلیوں کے تماشا میں اپنے کام کو آگے بڑھایا (یعنی چاند سے فلک عطارد کا رخ کیا ) ۔

A handful of dust so carried forward its task to the contemplation of its own manifestations:

2

یا من افتادم بدام هست و بود

یا بدام من اسیر آمد وجود

یا تو یہ کیفیت تھی کہ میں (اقبال) زمان و مکان کے جال میں گرفتار تھا اور اب یہ حالت ہے کہ وجود میرے جال میں گرفتار ہے ۔

Either I fell into the net of being and existence or existence became a prisoner in my net!

3

اندرین نیلی تتق چاک از من است

من ز افلاکم که افلاک از من است

کیا میں نے اس نیلے آسمان کے پردے کو چاک کر دیا کیا میں افلاک سے ہوں یا افلاک مجھ سے ہیں ۔

Have I made a chink in yon azure curtains? Am I of the skies, or are the skies of me?

4

یا ضمیرم را فلک در بر گرفت

یا ضمیر من فلک را در گرفت

یا تو یہ بات ہے کہ فلک نے میرے ضمیر کو اپنے پہلو میں لیا ہے یا پھر میرے ضمیر نے فلک کو اپنے اندر سمو لیا ہے ۔

Either heaven has taken my heart into its breast or it is my heart that has seized heaven.

5

اندرونست این که بیرون است چیست؟

آنچه می بیند نگه چون است چیست؟

جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا یہ خود میرے اندر کا منظر ہے یا میرے باہر ہے، کیا ہے ۔ میری نگاہیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں وہ کیسا ہے اور کیا ہے

Is this external then internal? What is it? What manner of thing is it the eye sees? What is it?

6

پر زنم بر آسمانی دیگری

پیش خود بینم جهانی دیگری

اب میں ایک اور آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا ہوں ۔ میں اپنے سامنے ایک اور جہان دیکھ رہا ہوں ۔

I beat my wings towards another heaven, I see another world rising before me.

7

عالمی با کوه و دشت و بحر و بر

عالمی از خاک ما دیرینه تر

مطلب یہ جہان (جہاں میں اب جا رہا ہوں ) ایک ایسا عالم ہے جس میں پہاڑ، جنگل، سمندر اور خشکی یعنی سب کچھ موجود ہے اور یہ ایک ایسا عالم ہے جو ہماری زمین سے بہت قدیم ہے ۔

A world of mountains and plains, seas and dry land, a world far more ancient than our earth.

8

عالمی از ابرکی بالیده ئی

دستبرد آدمی نادیده ئی

یہ عالم ایک چھوٹے سے بادل سے ابھرا ہوا ہے اور جس نے انسان کی لوٹ مار نہیں دیکھی ۔

A world grown out of a little cloud that has never known the conquest of man.

9

نقشها نابسته بر لوح وجود

خرده گیر فطرت آنجا کس نبود

اس عالم کے وجود کی تختی پر ابھی کوئی نقش ثبت نہیں ہوا اور وہاں ابھی کوئی بھی انسان فطرت تنقید کرنے والا نہ تھا ۔

Images as yet unlimned on the tablet of existence where no critic of nature has yet been born.

10

من به رومی گفتم این صحرا خوش است

در کهستان شورش دریا خوش است

یہاں آ کر میں نے رومی سے کہا کہ یہ صحرا بہت اچھا ہے اور اسکے پہاڑوں میں سمندر کا شور دل کو بھاتا ہے ۔

I said to Rumi, ‘This wasteland is very fair, very fair the tumult of the waters in the mountains.

11

من نیابم از حیات اینجا نشان

از کجا می آید آواز اذان

میں یہاں زندگی کا کوئی نام و نشان نہیں دیکھتا پھر یہ اذان کی آواز کہاں سے آ رہی ہے

I find no sign here of any living thing, so whence comes the sound of the call to prayer?’

12

گفت رومی این مقام اولیاست

آشنا این خاکدان با خاک ماست

رومی بولے یہ اولیا (اللہ کے دوستوں ) کا مقام ہے ۔ یہ زمین ہماری خاک سے آشنا ہے ۔

Rumi said, ‘This is the station of the saints, this heap of earth is familiar with our dust.

13

بوالبشر چون رخت از فردوس بست

یک دو روزی اندرین عالم نشست

جب بوالبشر آدم نے فردوس سے اپنا سامانِ سفر باندھا تو انھوں نے دو ایک روز یہاں بھی قیام کیا تھا ۔

When the father of mankind departed out of Eden he dwelt in this world for one or two days;

14

این فضاها سوز آهش دیده است

ناله های صبحگاهش دیده است

یہاں کی فضاؤں نے آدم کی آہوں کا سوز دیکھا ہے اور ان کے صبح کے نالے بھی سنے ہیں ۔

These expanses have felt the burning of his sighs, heard his lamentations in the hour of dawn.

15

زائران این مقام ارجمند

پاک مردان از مقامات بلند

اس مقامِ ارجمند کی زیارت کرنے والے بلند مقامات والے پاک مرد لوگ ہیں ۔

The visitors to this honourable station are themselves pious men of lofty stations,

16

پاک مردان چون فضیل و بوسعید

عارفان مثل جنید و با یزید

وہ پاک مرد فضیل اور بوسعید جیسے ہیں اور جنید اور بایزید جیسے عارف ہیں ۔

Pious men such as Fudail and Bu Sa‘id, true gnostics like Junaid and Ba Yazid.

17

خیز تا ما را نماز آید بدست

یک دو دم سوز و گداز آید بدست

تو (اقبال) اب جلدی سے اٹھ تاکہ ہمیں ان کے ساتھ نماز پڑھنے کا شرف حاصل ہو اور یوں کچھ دیر کے لیے ہم بھی سوز درد کی نعمت سے بہرہ ور ہو سکیں ۔

Rise up now, and let us pray together, devote a moment or two to burning and melting.’

18

رفتم و دیدم دو مرد اندر قیام

مقتدی تاتار و افغانی امام

میں آگے بڑھا اور ایک جگہ دو آدمیوں کو نماز میں کھڑے دیکھا ۔ مقتدی تو تاتار تھے جبکہ امامت افغانی کر رہے تھے ۔

I went on, and saw two men engaged in prayer, the acolyte a Turk, the leader an Afghan

19

پیر رومی هر زمان اندر حضور

طلعتش برتافت از ذوق و سرور

پیر رومی جو ہر وقت محبوب حقیقی کی حضوری میں رہتے ہیں ان کا چہرہ ذوق و سرور کی تجلی سے چمک اٹھا ۔

The Sage of Rum, in rapture continually, his face radiant with an ecstasy of joy,

20

گفت «مشرق زین دو کس بهتر نزاد

ناخن‌شان عقده‌های ما گشود

مطلب رومی نے کہا کہ سرزمین مشرق نے ان دو ہستیوں سے بہتر اور کوئی ہستی پیدا نہیں کی ۔ ان ہستیوں کے ناخنوں نے ہماری گتھیاں سلجھائیں ۔

Said, ‘The East never gave birth to two better sons – the plucking of their nails unravelled our knots:

21

سیدالسادات مولانا جمال

زنده از گفتار او سنگ و سفال

ایک تو سید السادات مولانا جمال (جمال الدین افغانی) ہیں جن کی گفتگو سے مٹی اور پتھر جیسے لوگ زندہ ہو گئے ۔

Maulana Jamal, Sayyid of all Sayyids, whose eloquence gave life to stone and sherd;

22

ترک سالار آن حلیم دردمند

فکر او مثل مقام او بلند

دوسری ہستی ترک سالار (ترک قوم کے لیڈر ) وہ درد مند حلیم ہیں جن کی فکر ان کے مقام و رتبہ کی طرح بلند ہے ۔

And passionate Halim, commander of the Turks whose thoughts matched the loftiness of his station.

23

با چنین مردان دو رکعت طاعت است

ورنه آن کاری که مزدش جنت است»

ایسی عظیم ہستیوں کیساتھ ملکر دو رکعت نماز ادا کرنا صحیح معنوں میں عبادت ہے ورنہ یہ وہ کام ہے جسکی مزدوری جنت ہے ۔

To offer prayer with such men is true devotion, a labour else whose hoped-for wage is Paradise.

24

قرأت آن پیر مرد سخت کوش

سوره والنجم و آن دشت خموش

اس سخت کوش پیر مرد کی قرات ، سورہ والنجم اور وہ خاموش دشت گویا افغانی نماز میں بطور امام سورہ والنجم پڑھ رہے تھے اور اس خاموش فضا میں ان کی پر تاثیر آواز کچھ اس طرح گونج رہی تھی کہ الفاظ میں اسے بیان کرنا ممکن نہیں ۔

The recitation of that vigorous elder, the Chapter of the Star in that silent plain;

25

قرأتی کز وی خلیل آید به وجد

روح پاک جبرئیل آید به وجد

افغانی کی قرات کچھ اس انداز کی تھی کی اس سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ جیسے پیغمبر بھی وجد میں آ جائیں اور جبرئیل کی پاک روح بھی وجد میں آنے لگے ۔

A recital that to move Abraham to ecstasy, to enrapture the pure spirit of Gabriel;

26

دل ازو در سینه گردد ناصبور

شور الا الله خیزد از قبور

ان کی ایسی قرات تھی جس سے دل سینے میں بیقرار ہو گیا اور قبروں سے الا اللہ کا شور اٹھ کھڑا ہوا ۔

The heedful heart becomes restless in the breast, the cry ‘No god but God’ rises from the tombs;

27

اضطراب شعله بخشد دود را

سوز و مستی میدهد داؤد را

یہ قرات دھوئیں کو شعلے کی بیقراری بخشتی اور حضرت داوَد کو سوز و مستی عطا کرتی ہے ۔

It imparts to smoke the quivering of the flame, bestows on David ardour and intoxication;

28

آشکارا هر غیاب از قرأتش

بی حجاب ام الکتاب از قرأتش

ان کی ایسی قرات سے ہر غیب ، ظاہر ہو رہا تھا اور اس کی قرات سے ام الکتاب بے حجاب ہو رہی تھی ۔

At his recital every mystery was revealed, the Heavenly Archetype appeared unveiled.

29

من ز جا بر خاستم بعد از نماز

دست او بوسیدم از راه نیاز

میں (اقبال) نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھا اور نیازمندی کے ساتھ اس (افغانی) کے ہاتھ پر بوسہ دیا ۔

After prayer I rose up from my place and kissed his hand in all humility.

30

گفت رومی «ذرهٔ گردون نورد

در دل او یک جهان سوز و درد

رومی (میرا تعارف کراتے ہوئے افغانی سے) کہنے لگے کہ یہ ایک ذرہ ہے جو آسمان کے سفر میں ہے اس کے دل میں سوز و درد کی ایک دنیا سمائی ہوئی ہے ۔

Rumi said, ‘A mote that travels the skies, in its heart a whole world of fire and passion!

31

چشم جز بر خویشتن نگشاده ئی

دل بکس ناداده ئی آزاده ئی

اس نے اپنے سوا کسی اور پر نظر نہیں ڈالی ۔ اس نے کسی اور کو اپنا دل نہیں دیا (یہ ایک آزاد انسان ہے) ۔

Only upon himself he has opened his eyes, yielded his heart to no man, is utterly free;

32

تند سیر اندر فراخای وجود

من ز شوخی گویم او را زنده رود»

وہ کائنات کی وسعت میں سیر میں سرگرم ہے ۔ میں (رومی) اسے شوخی سے اقبال کہنے کی بجائے زندہ رود کہتا ہوں ۔

Swiftly he paces through the expanse of Being – jestingly, I call him Zinda-Rud.’

بند 2
افغانی
Toggle stanza 2
33

زنده رود از خاکدان ما بگوی

از زمین و آسمان ما بگوی

(افغانی بولے کہ) اے زندہ رود تو ہماری دنیا کے بارے میں کچھ بتا، ہمارے زمین و آسمان کے بارے میں کچھ بتا ۔

Zinda-Rud, tell us of our terrestrial world, speak to us of our earth and sky.

34

خاکی و چون قدسیان روشن بصر

از مسلمانان بده ما را خبر

تو ہے تو مٹی سے تخلیق شدہ لیکن فرشتوں کی طرح روشن بصر ہے ۔ تو ہمیں مسلمانوں کے بارے میں کچھ بتا ۔

A thing of dust, you are clear-eyed as the Holy Ones – give us some tidings of the Mussulmans!

بند 3
زنده رود
Toggle stanza 3
35

در ضمیر ملت گیتی شکن

دیده ام آویزش دین و وطن

گیتی شکن ملت کے ضمیر کے اندر میں میں دین اور وطن کی کشمکش دیکھتا ہوں ۔

In the heart of a people that once shattered the world I have seen a conflict between religion and country.

36

روح در تن مرده از ضعف یقین

ناامید از قوت دین مبین

ایمان کی کمزوری سے اس کی روح بدن میں مر چکی ہے اور وہ دینِ مبین اسلام کی قوت سے نا امید ہے ۔

The spirit is dead in the body through weakness of faith, despairs of the strength of the manifest religion;

37

ترک و ایران و عرب مست فرنگ

هر کسی را در گلو شست فرنگ

ترک ہو یا ایران یا عرب سب مسلم ممالک فرنگیوں کے افکار سے بری طرح سے سرمست ہیں ۔ ہر ایک کے گلے میں فرنگیوں کا پھندا پڑا ہوا ہے ۔

Turk, Persian, Arab intoxicated with Europe and in the throat of each the fish-hook of Europe;

38

مشرق از سلطانی مغرب خراب

اشتراک از دین و ملت برده تاب

مشرق اہلِ مغرب کی حکومت سے برباد ہو چکا ہے ۔ اشتراکیت نے دین و ملت کی چمک دمک ختم کر دی ہے ۔

And East wasted by the West’s imperialism, Communism taken the lustre from religion and community.

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

لرد مغرب آن سراپا مکر و فن

اهل دین را داد تعلیم وطن

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»افغانی: دین و وطن

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور