اشتراک و ملوکیت
Communism and Monarchy
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
صاحب سرمایه از نسل خلیل
یعنی آن پیغمبری بی جبرئیل
حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی نسل سے ایک آدمی (یہودی کارل مارکس) جو کتاب سرمایہ کا مصنف ہے وہ گویا جبرئیل کے بغیر ایک (جھوٹا) پیغمبر ہے ۔
The author of Das Kapital came of the stock of Abraham, that is to say, that prophet who knew not Gabriel;
زانکه حق در باطل او مضمر است
قلب او مؤمن دماغش کافر است
چونکہ حق اس کے باطل میں چھپا ہوا ہے اس لیے اس کا دل تو مومن ہے لیکن اس کا دماغ کافر ہے ۔
Since truth was implicit even within his error his heart believed, though his brain was an infidel.
غربیان گم کرده اند افلاک را
در شکم جویند جان پاک را
اہلِ مغرب نے افلاک (روحانیت) کو گم کر دیا ہے ۔ وہ پیٹ میں جانِ پاک تلاش کرتے ہیں ۔
The Westerners have lost the vision of heaven, they go hunting for the pure spirit in the belly.
رنگ و بو از تن نگیرد جان پاک
جز به تن کاری ندارد اشتراک
جانِ پاک (روح) بدن سے رنگ و بو حاصل نہیں کرتی ۔ اشتراکیت کا تعلق صرف جسم سے ہے ۔
The pure soul takes not colour and scent from the body, and Communism has nothing to do save with the body.
دین آن پیغمبری حق ناشناس
بر مساوات شکم دارد اساس
اس حق ناشناس یعنی خدا کے منکر پیغمبر (کارل مارکس) کا دین پیٹ کی مساوات کی بنیاد پر قائم ہے ۔
The religion of that prophet who knew not truth is founded upon equality of the belly;
تا اخوت را مقام اندر دل است
بیخ او در دل نه در آب و گل است
چونکہ اخوت کا مقام دل کے اندر ہے اس لیے اس کا بیج دل ہی کے اندر ہے، جسم (شکم) میں نہیں ۔
The abode of fraternity being in the heart, its roots are in the heart, not in water and clay.
هم ملوکیت بدن را فربهی است
سینهٔ بی نور او از دل تهی است
ملوکیت (سرمایہ داری) بھی جسم ہی کے موٹاپے کا نام ہے ۔ اس کا بے نور سینہ دل سے خالی ہے ۔
Capitalism too is a fattening of the body, its unenlightened bosom houses no heart;
مثل زنبوری که بر گل میچرد
برگ را بگذارد و شهدش برد
اس ملوکیت کی کیفیت شہد کی اس مکھی کی سی ہے جو پھول پر چرتی ہے ۔ پتے چھوڑ دیتی ہے اور اس سے شہد لے لیتی ہے ۔
Like the bee that pastures upon the flower it overpasses the petal, and carries off the honey,
شاخ و برگ و رنگ و بوی گل همان
بر جمالش نالهٔ بلبل همان
پھول کی شاخ اور پتیاں اور اس کا رنگ اور خوشبو اپنی اصل حالت ہی میں رہتے ہیں اور اس پھول کے حسن پر بلبل کا نالہ بھی ویسا ہی رہتا ہے ۔
Yet stalk and leaf, colour and scent all make up the rose for whose selfsame beauty the nightingale laments.
از طلسم رنگ و بوی او گذر
ترک صورت گوی و در معنی نگر
تو (اقبال) اس پھول کے رنگ و بو کے طلسم سے گزر جا اس کی صورت چھوڑ اور معنی پر غور کر حقیقت یا باطن پر توجہ کر ۔
Surpass the talisman, the scent and colour, bid farewell to the form, gaze only upon the meaning
مرگ باطن گرچه دیدن مشکل است
گل مخوان او را که در معنی گل است
اگرچہ باطن کی موت کو دیکھنا مشکل ہے تاہم تو پھول کو (جو شہد سے خالی ہو چکا ہے) پھول نہ کہہ اس لیے کہ وہ حقیقت میں مٹی ہے ۔
Though it is difficult to descry the inward death, call not that a rose which in truth is clay.
هر دو را جان ناصبور و ناشکیب
هر دو یزدان ناشناس آدم فریب
اشتراکیت و ملوکیت دونوں ایسے نظام ہیں جن میں روح عدم اطمینان اور بیقراری کی شکار ہے اور یہ دونوں نظام حق ناشناس اور انسانوں کو دھوکے فریب دیتے ہیں ۔
The soul of both is impatient and intolerant, both of them know not God, and deceive mankind.
زندگی این را خروج آن را خراج
در میان این دو سنگ آدم زجاج
زندگی اس (اشتراکیت) کے لیے گویا ملوکیت اور مذہب کے خلاف بغاوت کا نام ہے جبکہ اس (ملوکیت) کے لیے یہ خراج ہے ۔ یعنی لوگوں پر مختلف صورتوں میں (ٹیکس وغیرہ) ستم ڈھا کر خزانے جمع کرنے کا نام ہے جس کے نتیجے میں آدمی ان دو پتھروں کے درمیان گویا شیشہ کی طرح پس رہا ہے ۔
One lives by production, the other by taxation and man is a glass caught between these two stones.
این به علم و دین و فن آرد شکست
آن برد جان را ز تن نان را ز دست
یہ (اشتراکیت) علم و مذہب اور ہنر و فن کے ذریعے معاشرے میں توڑ پھوڑ کرتی ہے جبکہ وہ (ملوکیت) بدن سے روح اڑا لیتی اور ہاتھ سے روٹی لے جاتی یا چھین لیتی ہے ۔
The one puts to rout science, religion, art, the other robs body of soul, the hand of bread.
غرق دیدم هر دو را در آب و گل
هر دو را تن روشن و تاریک دل
میں نے دونوں کو مادیت یا مادہ پرستی میں غرق دیکھا ہے اور دونوں کے جسم تو روشن ہیں لیکن دل تاریک ہیں ۔
I have perceived both drowned in water and clay, both bodily burnished, but utterly dark of heart.
زندگانی سوختن با ساختن
در گلی تخم دلی انداختن
زندگی تو سوز و ساز کا نام ہے (جسے ساختن یعنی موافقت کرنا کے ساتھ سوختن یعنی جلنا، سوز کہا گیا ہے) اور زندگی بدن میں دل کا بیج بونے کا نام ہے ۔
Life means a passionate burning, an urge to make, to cast in the dead clay of the seed of a heart
فارسی متن کا ماخذ: گنجور