صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک عطارد
  4. »سعید حلیم پاشا: شرق و غرب

سعید حلیم پاشا: شرق و غرب

شرق و غرب

East and West

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

غربیان را زیرکی ساز حیات

شرقیان را عشق راز کائنات

اہل مغرب کے لیے دانش ہی زندگی کا ساز و سامان ہے جبکہ اہل مشرق عشق کو کائنات کا راز سمجھتے ہیں ۔

For Westerners intelligence is the stuff of life, for Easterners love is the mystery of all being;

2

زیرکی از عشق گردد حق شناس

کار عشق از زیرکی محکم اساس

دانش عشق سے حق شناس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ جبکہ عشق کا معاملہ زیر کی سے مضبوط بنیاد والا بن جاتا ہے ۔

Only through love intelligence gets to know God, love’s labours find firm grounding in intelligence;

3

عشق چون با زیرکی همبر شود

نقشبند عالم دیگر شود

عشق جب دانش سے ہم آغوش ہوتا ہے یعنی جب عشق اور دانش دونوں باہم مل جاتے ہیں تو وہ ایک نئی دنیا کا نقش پیدا کرنے والا بن جاتا ہے ۔

When love is companioned by intelligence it has the power to design another world.

4

خیز و نقش عالم دیگر بنه

عشق را با زیرکی آمیز ده

تو اٹھ اور ایک اور ہی دنیا کا نقش ثبت کر یعنی عشق اور زیرکی کو باہم ملا دے ۔

Then rise and draw the design of a new world, mingle together love with intelligence.

5

شعلهٔ افرنگیان نم خورده ایست

چشم شان صاحب نظر دل مرده ایست

افرنگیوں کے شعلے میں نمی آ گئی ہے یعنی بجھنے والا ہے ۔ ان کی آنکھیں تو دیکھتی ہیں لیکن ان کے دل مردہ ہیں ۔

The flame of the Europeans is damped down, their eyes are perceptive, but their hearts are dead;

6

زخمها خوردند از شمشیر خویش

بسمل افتادند چون نخچیر خویش

انھوں نے اپنی ہی تلوار سے خود کو زخمی کر لیا ہے اور اپنے شکار کی طرح زخمی ہو کر گر پڑے ہیں ۔

They have been sore smitten by their own swords, hunted down and slaughtered, themselves the hunters.

7

سوز و مستی را مجو از تاک شان

عصر دیگر نیست در افلاک شان

ان کی انگور کی بیل سے سوز و مستی تلاش نہ کر ۔ ان کے آسمانوں میں کوئی اور زمانہ نہیں ہے ۔

Look not for fire and intoxication in their vine; not into their heavens shall rise a new age.

8

زندگی را سوز و ساز از نار تست

عالم نو آفریدن کار تست

زندگی میں جو سوز و ساز ہے وہ تیری ہی آگ کی وجہ سے ہے ایک نئی دنیا پیدا کرنا تیرا کام ہے ۔

It is from your fire that the glow of life comes, and it is your task to create the new world.

9

مصطفی کو از تجدد می سرود

گفت نقش کهنه را باید زدود

مصطفی کمال کا جو تجدد کا راگ الاپتا رہا کہنا تھا کہ پرانے نقش مٹا دینے چاہیں (اس نے مغربی تہذیب کو رواج دیا) ۔

Mustafa Kemal, who sang of a great renewal, said the old image must be cleansed and polished;

10

نو نگردد کعبه را رخت حیات

گر ز افرنگ آیدش لات و منات

اگر افرنگ (یورپ) سے اس (کعبہ) کے لات و منات (غلط نظریات کے بت ) آ بھی جائیں تو بھی کعبہ کا سامانِ زندگی نیا نہیں ہو جائے گا ۔ مصطفی اتاترک نے مغربی تہذیب کو فروغ دیا لیکن وہ ایک باطل نقش تھا ۔

Yet the vitality of the Kaaba cannot be made new if a new Lat and Manat from Europe enter its shrine.

11

ترک را آهنگ نو در چنگ نیست

تازه اش جز کهنهٔ افرنگ نیست

ترک کے ساز میں کوئی نیا راگ نہیں ہے ۔ اس کی ہر نئی چیز یورپ والوں کی پرانی چیز کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ اتاترک نے ترکی جو جدید بنانے کے لیے یورپ کی جو تقلید کی تھی وہ یورپ کی پرانی چیزیں ہیں ۔

No, the Turks have no new melody in their lute, what they call new is only the old tune of Europe;

12

سینه او را دمی دیگر نبود

در ضمیرش عالمی دیگر نبود

اس (مصطفی کمال) کے سینے میں کوئی نیا سانس نہ تھا اور اس کے ضمیر میں کوئی نیا جہان نہ تھا ۔

No fresh breath has entered into their breast, no design of a new world is in their mind.

13

لا جرم با عالم موجود ساخت

مثل موم از سوز این عالم گداخت

بے شک اس (اتاترک) نے موجودہ عالم کے ساتھ موافقت اختیار کر لی اور وہ اس عالم کی تپش سے موم کی طرح پگھل گیا ۔

Turkey perforce goes along with the existing world, melted like wax in the flame of the world we know.

14

طرفگی ها در نهاد کائنات

نیست از تقلید ، تقویم حیات

کائنات کی فطرت میں جو جدیدیت ہے وہ زندگی کی تقویم کی بے جا قسم کی پیروی کی وجہ سے نہیں ہے ۔

Originality is at the roots of all creation, never by imitation shall life be reformed;

15

زنده دل خلاق اعصار و دهور

جانش از تقلید گردد بی حضور

زندہ دل انسان خود زمانوں اور ادوار پیدا کرتا ہے اس کی جان حقیقت جانے بغیر (دوسروں کی) پیروی سے بے حضور ہو جاتی ہے (اس کی روح تقلید سے مر جاتی ہے) ۔

The living heart, creator of ages and epochs, that soul is little enamoured of imitation:

16

چون مسلمانان اگر داری جگر

در ضمیر خویش و در قرآن نگر

اگر تو مسلمانوں کا سا حوصلہ رکھتا ہے تو پھر ذرا اپنے ضمیر میں جھانک اور قرآن پر نگاہ ڈال ۔

If you possess the spirit of a true Mussulman examine your own conscience, and the Koran;

17

صد جهان تازه در آیات اوست

عصرها پیچیده در آنات اوست

اس کی آیات میں سینکڑوں نئے جہان موجود ہیں ۔ اس مرد مومن کے زمان میں بہت سے ادوار مضمر ہیں ۔

A hundred new worlds he within its verses, whole centuries are involved in its moments;

18

یک جهانش عصر حاضر را بس است

گیر اگر در سینه دل معنی رس است

قرآنِ کریم کی آیات میں موجود جہانوں میں سے دورِ حاضر کے لیے ایک ہی جہان کافی ہے ۔ اگر تیرے سینے میں معنی رس دل ہے تو تو وہ جہان لے لے ۔

One world of it suffices for the present age – seize it, if the heart in your breast grasps truth.

19

بندهٔ مومن ز آیات خداست

هر جهان اندر بر او چون قباست

بندہَ مومن اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور اس بنا پر ہر جہاں اس کے پہلو میں قبا کی مانند ہے ( اس کی قامت پر ہر جہان قبا کی طرح سج جاتا ہے ) ۔

A believing servant himself is a sign of God, every world to his breast is as a garment;

20

چون کهن گردد جهانی در برش

می دهد قرآن جهانی دیگرش

جب کوئی جہان اس کے پہلو میں پرانا ہو جاتا ہے تو قرآن کریم اسے ایک اور نیا جہان عطا کر دیتا ہے ۔

And when one world grows old upon his bosom, The Koran gives him another world!

بند 2
زنده رود

Zinda-Rud

Toggle stanza 2
21

زورق ما خاکیان بی ناخداست

کس نداند عالم قرآن کجاست

ہم خاکیوں یعنی انسانوں کی کشتی ملاح کے بغیر ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ قرآن کریم کا جہان کہاں ہے ۔

The barque of us terrestrials has no helmsman, no one knows where the Koran’s world lies.

بند 3
افغانی
Toggle stanza 3
22

عالمی در سینهٔ ما گم هنوز

عالمی در انتظار قم هنوز

(افغانی جواب دیتے ہیں ) وہ جہان ابھی تک ہمارے سینوں میں گم ہے اور وہ جہان قم کے انتظار میں ہے ۔

Afghani It is a world lost now in our breast, a world awaiting yet the command ‘Arise!’

23

عالمی بی امیتاز خون و رنگ

شام او روشن تر از صبح فرنگ

وہ ایک ایسا جہان ہے جس میں نسل اوررنگ میں کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ اور اس کی شام فرنگ کی صبح سے بھی زیادہ روشن ہے ۔

A world without distinction of race and colour, its evening is brighter than Europe’s dawn;

24

عالمی پاک از سلاطین و عبید

چون دل مؤمن کرانش ناپدید

وہ ایک ایسا جہان ہے جو آقاؤں اور غلاموں سے پاک ہے ۔

A world cleansed of monarchs and of slaves, a world unbounded, like the believer’s heart,

25

عالمی رعنا که فیض یک نظر

تخم او افکند در جان عمر

وہ ایک ایسا جہان ہے جو شاداب و تازہ اور دلکش ہے جس کی (جناب رسول پاک) ایک نظر کے فیض نے حضرت عمر کی جان میں اس کا بیج بو دیا ہے ۔

A world so fair, that the effluence of one glance planted the seed of it in Omar’s soul.

26

لایزال و وارداتش نو به نو

برگ و بار محکماتش نو به نو

وہ جہان لا زوال (ناپذیر) ہے اور اس کی واردات تازہ بتازہ یعنی قرآن کے پیدا کردہ اس جہان میں نت نئے کارنامے ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کی محکمات کے برگ و بار تازہ بتازہ ہیں ۔

Eternal it is, the impact of it ever new, ever new the leaf and fruit of its sure foundations;

27

باطن او از تغیر بی غمی

ظاهر او انقلاب هر دمی

اس جہان کا باطن تغیر و تبدل (تبدیلیوں ) سے بے غم ہے ۔ اس کا ظاہر ہر لمحہ کا انقلاب ہے ۔

Inwardly it is anxious not of change, outwardly, every moment is revolution.

28

اندرون تست آن عالم نگر

می دهم از محکمات او خبر

وہ جہان تیرے اندر ہے تو اسے دیکھ ، میں تمہیں اس کے محکمات کے متعلق بتاتا ہوں ۔

Behold, that world lies within your own heart; now I will tell you of its firm foundations.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

صاحب سرمایه از نسل خلیل

یعنی آن پیغمبری بی جبرئیل

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»اشتراک و ملوکیت

اگلی نظم

منزل و مقصود قرآن دیگر است

رسم و آئین مسلمان دیگر است

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»پیغام افغانی با ملت روسیه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور