صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک عطارد
  4. »پیغام افغانی با ملت روسیه

پیغام افغانی با ملت روسیه

جمال الدین افغانی کا پیغام روسیوں کے نام۔

Afghani's Message to the Russian People

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
11

منزل و مقصود قرآن دیگر است

رسم و آئین مسلمان دیگر است

قرآن کی منزل اور اس کا مقصود اور ہے ۔ مسلمان کے رسم و آئین اور ہیں (آج کا مسلمان قرآن کریم اور اس کی تعلیمات سے دور ہوتا جا رہا ہے ) ۔

One thing is the goal and aim of the Koran, other the rite and ritual of the Moslem;

22

در دل او آتش سوزنده نیست

مصطفی در سینه او زنده نیست

اس کے دل میں جلا دینے والی آگ نہیں ہے ۔ اور حضرت محمد مصطفی اس کے سینے میں زندہ نہیں ہیں ۔ اس کے دل میں رسول اللہ کی محبت نہیں رہی ۔

In his heart there is no burning fire, the Chosen One is not living in his breast.

33

بنده مؤمن ز قرآن بر نخورد

در ایاغ او نه می دیدم نه درد

بندہَ مومن نے قرآن سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔ میں نے اس کے پیالے میں نہ تو شراب ہی دیکھی ہے اور نہ تلچھٹ ہی دیکھی ہے ۔

The believer has not eaten the fruit of the Koran, in his cup I have seen neither wine nor beer.

44

خود طلسم قیصر و کسری شکست

خود سر تخت ملوکیت نشست

اس نے خود ہی قیصر و کسریٰ کا طلسم توڑا اور اب خود ہی شاہی تخت پر بیٹھ گیا ۔

He broke the magic spell of Caesar and Chosroes and himself sat on the throne of empire;

55

تا نهال سلطنت قوت گرفت

دین او نقش از ملوکیت گرفت

جوں جوں مسلمانوں کی سلطنت کا درخت قوت پکڑتا گیا اس کے دین نے ملوکیت کا نقش اپنا لیا ۔

When the young shoot of power gathered strength, his religion took on the shape of empire,

66

از ملوکیت نگه گردد دگر

عقل و هوش و رسم و ره گردد دگر

ملوکیت سے نگاہ کا انداز ہی بدل جاتا ہے جس کے نتیجے میں عقل و ہوش اور رسم و رہ سب بدل جاتے ہیں ۔

But empire changes the gaze entirely, reason, understanding, usage and way alike.

77

تو که طرح دیگری انداختی

دل ز دستور کهن پرداختی

اے روسی قوم تو نے جو ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی ہے اور پرانے حیات و سلطنت کے دستور سے دل ہٹا لیا ہے (کمیونزم کی بنیاد رکھ کر شاہی نظام کو ختم کر دیا ) ۔

You who have laid down a new plan, and disengaged your heart from the ancient system,

88

همچو ما اسلامیان اندر جهان

قیصریت را شکستی استخوان

تو نے بھی دنیا میں ہم مسلمانوں کی طرح قیصریت (ملوکیت) کی ہڈی توڑ ڈالی ہے ۔ (شاہی نظام ختم کر دیا ہے ) ۔

Like us Moslems you have broken the bone of imperial rule in this world.

99

تا بر افروزی چراغی در ضمیر

عبرتی از سر گذشت ما بگیر

تو اپنے ضمیر میں کوئی چراغ روشن کر لے یا کر سکے تو ہم مسلمانوں کی سرگزشت سے عبرت حاصل کر ۔

So that you may light a lamp in your heart take a warning from our past history;

1010

پای خود محکم گذار اندر نبرد

گرد این لات و هبل دیگر مگرد

تو اس جنگ میں مضبوطی سے اپنے پاؤں جما لے ۔ اور لات و ہبل کے گرد پھر طواف نہ کر ۔

Set your foot firm in the battle, circle no more about this Lat and Hubal.

1111

ملتی می خواهد این دنیای پیر

آنکه باشد هم بشیر و هم نذیر

اس پرانی دنیا کو اب ایک ایسی ملت کی آرزو ہے جو بشیر بھی اور نذیر بھی ہو ۔

This aged world requires a nation that shall be both bearer of good tidings and warner.

1212

باز می آئی سوی اقوام شرق

بسته ایام تو با ایام شرق

تو پھر سے مشرقی قوموں کی طرف واپس آ جا ۔ اس لیے کہ تیرے زمانے مشرق کے زمانوں سے وابستہ ہیں ۔

Return again to the peoples of the East; your ‘days’ are bound up with the ‘days’ of the East.

1313

تو بجان افکنده ئی سوزی دگر

در ضمیر تو شب و روزی دگر

اب تو نے اپنی جان میں ایک نیا سوز پیدا کیا ہے ۔ تیرے ضمیر میں روز و شب بھی اب نئے ہیں ۔

You have kindled a new flame in the soul, your heart houses a new night and day.

1414

کهنه شد افرنگ را آئین و دین

سوی آن دیر کهن دیگر مبین

افرنگ ، یورپ کے دین و آئین اب پرانے ہو چکے ہیں ۔ تو اس پرانے مندر کی طرف مت دیکھ ۔

The rite and religion of the Franks have grown old; look no more towards that ancient cloister.

1515

کرده ئی کار خداوندان تمام

بگذر از لا جانب الا خرام

تو نے پرانے آقاؤں کا کام تمام کر دیا ہے ۔ اب تو لا کی منزل سے گزر کر الا کی جانب چل ۔

You have finished now with lords; pass on from ‘no’, march onwards to ‘but’;

1616

در گذر از لا اگر جوینده ئی

تا ره اثبات گیری زنده ئی

اگر تجھ میں تلاش و جستجو کا مادہ ہے تو لا کی منزل سے گزر جا کیونکہ جب تو اثبات کی راہ اختیار کرے گا تو تو زندہ و جاوید ہو جائے گا ۔ (اثبات سے مراد ہے خدا تعالیٰ او ر اس کے ابدی نظام کا اقرار اور اس پر ایمان ) ۔

Pass on from ‘no’, if you are a true seeker, that you may take the road of living affirmation.

1717

ای که می خواهی نظام عالمی

جسته ئی او را اساس محکمی؟

اے ملت روسیہ تو جو ایک عالم گیر نظام قائم کرنے کی آرزومند ہے کیا تو نے اس کے لیے کوئی مضبوط بنیاد تلاش کر لی ہے

You who desire a new world-order, have you sought for it a firm foundation?

1818

داستان کهنه شستی باب باب

فکر را روشن کن از ام الکتاب

تو (روسی قوم) نے پرانی داستان کا ایک ایک باب دھو ڈالا ہے ۔ تو اب قرآن کریم سے اپنی فکر روشن کر ۔

You have expunged the ancient tale chapter by chapter; illumine your thoughts from the Archetype of the Book.

1919

با سیه فامان ید بیضا که داد

مژدهٔ لا قیصر و کسری که داد

سیاہ فاموں کو کس نے ید بیضا دیا قیصر و کسریٰ کی نفی کی خوشخبری کس نے دی

Who gave the black man the White Hand? Who gave the good news of no Caesar, no Chosroes?

2020

در گذر از جلوه های رنگ رنگ

خویش را دریاب از ترک فرنگ

فرنگیوں کے رنگا رنگ جلوے ہیں ان پر توجہ نہ دے، ان سے دور رہ اور فرنگ کے دیے ہوئے ان جلووں کو ترک کر کے خود کو پا لے ۔

Transcend the many-coloured splendours, find yourself by abandoning Europe!

2121

گر ز مکر غربیان باشی خبیر

روبهی بگذار و شیری پیشه گیر

اگر تو اہلِ مغرب کے مکر و فریب سے باخبر ہے ۔ تو پھر لومڑی پن چھوڑ دے اور شیر کی سی خصلت پیدا کر لے ۔

If you are apprised by the Westerners’ cunning give up the wolf, take on the lion’s trade.

2222

چیست روباهی تلاش ساز و برگ

شیر مولا جوید آزادی و مرگ

یہ لومڑی پن کیا ہے یہ محض دنیاوی سازوسامان کی تلاش ہے جبکہ اللہ کا شیر آزادی یا موت کی تلاش کرتا ہے ۔

What is wolfishness? The search for food and means; the Lion of the Lord seeks freedom and death

2323

جز به قرآن ضیغمی روباهی است

فقر قرآن اصل شاهنشاهی است

قرآن کے بغیر شیری بھی لومڑی پن ہے اور قرآن کا فقر اصل شہنشاہی ہے ۔

Without the Koran, the lion is a wolf; the poverty of the Koran is the root of empire.

2424

فقر قرآن اختلاط ذکر و فکر

فکر را کامل ندیدم جز به ذکر

قرآن کا فقر ذکر اور فکر کا اختلاط ہے ۔ میں نے ذکر کے بغیر فکر کو کامل نہیں دیکھا ۔

The poverty of the Koran is the mingling of meditation and reason – I have never seen reason perfect without meditation

2525

ذکر ذوق و شوق را دادن ادب

کار جان است این ، کار کام و لب

ذکر کیا ہے ذکر کو ادب سکھانا ہے اور یہ جان (روح) کا کام ہے نہ کہ زبان و لب کا ۔

Meditation? To school pleasure and passion; this is the affair of the soul, not the affair of lip and palate.

2626

خیزد از وی شعله های سینه سوز

با مزاج تو نمی سازد هنوز

(اللہ کے ) ذکر سے سینے کو جلا دینے والے شعلے پیدا ہوتے ہیں اور یہ ابھی تک تیرے مزاج کے ساتھ موافقت نہیں رکھتے ۔

From it arise the flames that burn the breast, it does not accord with your temperament yet.

2727

ای شهید شاهد رعنای فکر

با تو گویم از تجلی های فکر

تو اے فکر کے حسین و جمیل محبوب پر مر مٹنے والے (روسی) میں تجھے فکر کی تجلیوں سے آگاہ کرتا ہوں ۔

Martyr of the delicate beauty of reason, I will tell you of the revelations of reason!

2828

چیست قرآن؟ خواجه را پیغام مرگ

دستگیر بندهٔ بی ساز و برگ

قرآں کیا ہے قرآن آقا کے لیے موت کا پیغام ہے اور بے ساز و سامان یا مفلس غلام کا مددگار ہے ۔

What is the Koran? Sentence of death for the master-man, succour for the slave without food and destitute.

2929

هیچ خیر از مردک زرکش مجو،

«لن تنالوا البر حتی تنفقوا»

تو دولت کے پجاری آدمی سے کسی خیر (بھلائی) کی توقع نہ رکھ ، قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ تم نیکی نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اللہ کی راہ میں اپنی محبوب ترین چیز خرچ نہ کرو ۔

Look not for good from the money-grubbing manikin – You will not attain piety, until you expend

3030

از ربا آخر چه می زاید فتن

کش نداند لذت قرض حسن

سود سے آخر کیا پیدا ہوتا ہے فتنے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ کوئی بھی قرض حسنہ کی لذت سے آشنا نہیں ہے ۔

What pray is born of usury? Tumults! No one knows the pleasure of ‘a good loan’.

3131

از ربا جان تیره دل چون خشت و سنگ

آدمی درنده بی دندان و چنگ

ربا (سود) سے جان سیاہ ہو جاتی ہے اور دل اینٹ پتھر کی مانند ہو جاتا ہے اور انسان دانتوں اور پنجوں کے بغیر درندہ بن جاتا ہے ۔

Usury darkens the soul, hardens the heart like a stone, makes man a ravening beast, without fangs and claws.

3232

رزق خود را از زمین بردن رواست

این متاع بنده و ملک خداست

اپنا رزق زمین سے حاصل کرنا جائز ہے یہ (زمین) بندے کی متاع تو ہے لیکن حقیقی ملکیت اللہ ہی کی ہے ۔

It is lawful to draw one’s sustenance from the soil – this is man’s ‘enjoyment’, the property of God.

3333

بندهٔ مؤمن امین ، حق مالک است

غیر حق هر شی که بینی هالک است

بندہَ مومن اللہ کی زمین کا امین ہے جبکہ مالک اللہ ہی ہے حق کے سوا جو کچھ بھی تجھے نظر آتا ہے وہ ہلاک ہونے والا ہے ۔ قرآنی آیت کا حوالہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ۔

The believer is the trustee, God is the possessor; whatever you see other than God is perishing.

3434

رایت حق از ملوک آمد نگون

قریه ها از دخل شان خوار و زبون

پرچم حق بادشاہوں نے سرنگوں کر دیا ۔ یوں ان کی مداخلت سے بستیاں تباہ و برباد ہو گئیں ۔ بے شک جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل و خوار کر دیتے ہیں ۔

God’s banner has been beaten down by kings, their entry has reduced townships to misery.

3535

آب و نان ماست از یک مائده

دودهٔ آدم «کنفس واحده»

ہمارا رزق ایک دستر خوان سے ہے ۔ آدم کا خاندان گویا ایک نفس ہے ۔

Our bread and water are of one table; the progeny of Adam are as a single soul.

3636

نقش قرآن تا درین عالم نشست

نقشهای کاهن و پاپا شکست

جب قرآن کا نقش اس جہان پر ثبت ہوا تو برہمنوں اور پادریوں کے نقش مٹ گئے ۔

When the Koran’s design descended into this world it shattered the images of priest and pope;

3737

فاش گویم آنچه در دل مضمر است

این کتابی نیست چیزی دیگر است

میرے دل میں جو کچھ پوشیدہ ہے وہ میں واضح طور پر بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ یہ (قرآن) کوئی کتاب نہیں ہے کچھ اور ہی چیز ہے ۔

I speak openly what is hidden in my heart – this is not a book, it is something other!

3838

چون بجان در رفت جان دیگر شود

جان چو دیگر شد جهان دیگر شود

جب یہ (قرآن) روح میں سما جاتا ہے تو جان کچھ اور ہی ہو جاتی ہے اور جب جان کچھ اور ہو جاتی ہے تو دنیا بھی کچھ اور ہو جاتی ہے ۔ یعنی جان بدل جائے تو جہان بدل جاتا ہے ۔

When it has entered the soul, the soul is transformed; when the soul has been transformed, the world is changed.

3939

مثل حق پنهان و هم پیداست این

زنده و پاینده و گویاست این

حق کی مانند یہ (قرآن کریم) چھپا ہوا بھی ہے اور ظاہر بھی ہے ۔ یہ زندہ، ہمیشہ رہنے والا یعنی لافانی اور بولنے والا ہے ۔

Like God, it is at once hidden and manifest, living and enduring, yes, and speaking.

4040

اندرو تقدیر های غرب و شرق

سرعت اندیشه پیدا کن چو برق

اس کے اندر مشرق و مغرب کی تقدیریں پنہاں ہیں ۔ تو انہیں سمجھنے کے لیے خود میں بجلی کی سی تیزی فکر پیدا کر ۔

In it are the destinies of East and West – realise then the lightning-like swiftness of thought!

4141

با مسلمان گفت جان بر کف بنه

هر چه از حاجت فزون داری بده

قرآن کریم مسلمانوں سے یہ کہتا ہے کہ تم اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لو اور جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہے اسے دوسروں یعنی مفلسوں کو دے دو ۔

It told the Moslem, ‘Put Your life in your hands; give whatever you possess beyond your needs.’

4242

آفریدی شرع و آئینی دگر

اندکی با نور قرآنش نگر

تو (روسی قوم) نے اور طرح کا شرع اور آئین بنا لیا ہے تو ان قوانین کو ذرا قر آن کی روشنی میں دیکھ ۔

You have created a new law and order; consider it a little in the light of the Koran.

4343

از بم و زیر حیات آگه شوی

هم ز تقدیر حیات آگه شوی

تاکہ تو زندگی کی اونچ نیچ (اچھائی برائی) سے آگاہ ہو جائے اور زندگی کی تقدیر بھی تجھ پر واضح ہو جائے ۔

And you will understand life’s heights and depths, you will comprehend the destiny of life.

4444

محفل ما بی می و بی ساقی است

ساز قرآن را نواها باقی است

ہماری محفل شراب اور ساقی کے بغیر ہے مگر قرآن کے ساز کے نغمے اپنی جگہ برقرار ہیں ۔

Our assembly is without wine and cupbearer, yet the melodies of the Koran’s instrument are immortal;

4545

زخمهٔ ما بی اثر افتد اگر

آسمان دارد هزاران زخمه ور

اگر ہماری مضراب میں کوئی اثر نہیں رہا تو آسمان کے پاس ہزاروں اور سازندے موجود ہیں ۔

If our plectrum now strikes without effect, Heaven houses thousands of excellent strummers.

4646

ذکر حق از امتان آمد غنی

از زمان و از مکان آمد غنی

خدا تعالیٰ کا ذکر قوموں سے بے نیاز ہے ۔ وہ زمان و مکان دونوں سے بے نیاز ہے ۔

God’s remembrance requires not nations, it transcends the bounds of time and space.

4747

ذکر حق از ذکر هر ذاکر جداست

احتیاج روم و شام او را کجاست

ذکر حق ہر ذاکر کے ذکر کرنے سے الگ (اسکی اپنی الگ حیثیت ہے ) اسے روم اور شام کی کیا حاجت ہے یعنی کوئی ضرورت نہیں ۔

God’s remembrance is apart from the remembrance of every remembrancer – what need has it of Greek or Syrian?

4848

حق اگر از پیش ما برداردش

پیش قومی دیگری بگذاردش

اگر اللہ تعالیٰ اسے (قرآن کو) ہمارے سامنے سے اٹھا لے تو وہ اسے کسی اور قوم کے سامنے رکھ دے گا ۔

If God should remove it from us He can if He will transfer it to another people.

4949

از مسلمان دیده ام تقلید و ظن

هر زمان جانم بلرزد در بدن

میں نے مسلمانوں میں دوسروں کی بلاوجہ کی پیروی اور قیاس کو دیکھا ہے اس سے میری جان ہر لمحہ جسم میں لرزتی رہی ہے ۔

I have seen the blind conformity and opinionatedness of Moslems and every moment my soul trembles in my body;

5050

ترسم از روزی که محرومش کنند

آتش خود بر دل دیگر زنند

میں اس دن سے ڈرتا ہوں کہ مسلمان کو قرآن سے محروم نہ کر دیا جائے ۔ اور مولا کریم اپنے عشق کی آگ کسی اور کے دل پر نہ ڈال دے ۔

I fear for the day when it shall be denied to them and its fire shall be kindled in quite other hearts.

بند 2
پیر رومی به زنده رود می گوید که شعری بیار
Toggle stanza 2
5151

پیر رومی آن سراپا جذب و درد

این سخن دانم که با جانش چه کرد

پیر رومی جو سراپا سوز و درد ہیں ان کی جان پر افغانی کی بات نے کیا اثر کیا میں ہی جانتا ہوں ۔

The Sage of Rum bids Zinda-Rud intone a song The Sage of Rum, that man filled wholly with ecstasy and passion, I know what effect these words had on his soul;

5252

از درون آهی جگر دوزی کشید

اشک او رنگین تر از خون شهید

ان (رومی) کے دل سے ایک جگر سوز آہ نکلی ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو نکلے جو شہید کے خون سے بھی زیادہ رنگین تھے ۔

He drew from his breast a heart-rending sigh, his tears ran redder than the blood of martyrs.

5353

آنکه تیرش جز دل مردان نسفت

سوی افغانی نگاهی کرد و گفت

وہ شخصیت (رومی) جس کی نگاہ کے تیر نے بندگانِ حق کے دلوں کے سوا اور کسی کو نہیں چھیدا ، اس نے افغانی کی طرف دیکھا اور کہا ۔

He, whose arrows pierced only the hearts of heroes, turned his gaze upon Afghani, and spoke:

5454

«دل بخون مثل شفق باید زدن

دست در فتراک حق باید زدن

دل کو شفق کی مانند خون میں رنگ لینا چاہیے اور اپنا ہاتھ اللہ کی فتراک میں دینا چاہیے ۔

‘The heart must throb with blood like the twilight, the hand must be thrust into the saddle-straps of God;

5555

جان ز امید است چون جوئی روان

ترک امید است مرگ جاودان»

جان امید سے ہی بہتی ہوئی ندی کی مانند بنتی ہے ۔ امید ترک کر دینا جان کی ہمیشہ کی موت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔

Hope moves the soul to flow like a running river, the abandonment of hope is eternal death.’

5656

باز در من دید و گفت ای زنده رود

با دو بیتی آتش افکن در وجود

پھر رومی نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ اے زندہ رود دو ایک شعروں سے وجود کے اندر کی آگ لگا یعنی ایسے اشعار سنا جن کو سن کر دل میں سوز جذبہ پیدا ہو جائے ۔

He looked at me again, and said: Zinda-Rud, with a couplet set all being afire.

5757

ناقهٔ ما خسته و محمل گران

تلخ تر باید نوای ساربان

ہماری اونٹنی تھک چکی یا بیمار ہے اور محمل بوجھل ہے (اب) ضروری ہے کہ ساربان کا نغمہ زیادہ تلخ ہو ۔

Our camel is weary and the load is heavy; more bitter must be the song of the caravaneer.

5858

امتحان پاک مردان از بلاست

تشنگان را تشنه تر کردن رواست

اللہ کے پاک بندوں کی آزمائش مصائب سے ہوتی ہے ، پیاسوں کو زیادہ پیاسا کرنا جائز ہے ۔

The proving of holy men is through adversity, it is right to make the thirsty yet more athirst.

5959

در گذر مثل کلیم از رود نیل

سوی آتش گام زن مثل خلیل

حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی طرح تو دریائے نیل سے گزر جا اور خلیل کی طرح آگ کی طرف قدم بڑھا ۔

Like Moses depart from the the River Nile, stride out like Abraham towards the fire.

6060

نغمهٔ مردی که دارد بوی دوست

ملتی را میبرد تا کوی دوست»

ایسا مردانہ نغمہ سنا جس سے دوست (محبوب حقیقی) کی خوشبو آئے تاکہ ملت کو دوست کے کوچے میں لے جائے ۔

A melody of one who catches the scent of the Beloved bears a people onwards even to the Beloved’s street.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

غربیان را زیرکی ساز حیات

شرقیان را عشق راز کائنات

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»سعید حلیم پاشا: شرق و غرب

اگلی نظم

این گل و لاله تو گویی که مقیمند همه

راه‌پیماصفت موج نسیمند همه

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»غزل زنده رود

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور