صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک عطارد
  4. »پیغام افغانی با ملت روسیه

پیغام افغانی با ملت روسیه

جمال الدین افغانی کا پیغام روسیوں کے نام۔

Afghani's Message to the Russian People

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
1

منزل و مقصود قرآن دیگر است

رسم و آئین مسلمان دیگر است

قرآن کی منزل اور اس کا مقصود اور ہے ۔ مسلمان کے رسم و آئین اور ہیں (آج کا مسلمان قرآن کریم اور اس کی تعلیمات سے دور ہوتا جا رہا ہے ) ۔

One thing is the goal and aim of the Koran, other the rite and ritual of the Moslem;

2

در دل او آتش سوزنده نیست

مصطفی در سینه او زنده نیست

اس کے دل میں جلا دینے والی آگ نہیں ہے ۔ اور حضرت محمد مصطفی اس کے سینے میں زندہ نہیں ہیں ۔ اس کے دل میں رسول اللہ کی محبت نہیں رہی ۔

In his heart there is no burning fire, the Chosen One is not living in his breast.

3

بنده مؤمن ز قرآن بر نخورد

در ایاغ او نه می دیدم نه درد

بندہَ مومن نے قرآن سے فائدہ نہیں اٹھایا ۔ میں نے اس کے پیالے میں نہ تو شراب ہی دیکھی ہے اور نہ تلچھٹ ہی دیکھی ہے ۔

The believer has not eaten the fruit of the Koran, in his cup I have seen neither wine nor beer.

4

خود طلسم قیصر و کسری شکست

خود سر تخت ملوکیت نشست

اس نے خود ہی قیصر و کسریٰ کا طلسم توڑا اور اب خود ہی شاہی تخت پر بیٹھ گیا ۔

He broke the magic spell of Caesar and Chosroes and himself sat on the throne of empire;

5

تا نهال سلطنت قوت گرفت

دین او نقش از ملوکیت گرفت

جوں جوں مسلمانوں کی سلطنت کا درخت قوت پکڑتا گیا اس کے دین نے ملوکیت کا نقش اپنا لیا ۔

When the young shoot of power gathered strength, his religion took on the shape of empire,

6

از ملوکیت نگه گردد دگر

عقل و هوش و رسم و ره گردد دگر

ملوکیت سے نگاہ کا انداز ہی بدل جاتا ہے جس کے نتیجے میں عقل و ہوش اور رسم و رہ سب بدل جاتے ہیں ۔

But empire changes the gaze entirely, reason, understanding, usage and way alike.

7

تو که طرح دیگری انداختی

دل ز دستور کهن پرداختی

اے روسی قوم تو نے جو ایک نئے نظام کی بنیاد رکھی ہے اور پرانے حیات و سلطنت کے دستور سے دل ہٹا لیا ہے (کمیونزم کی بنیاد رکھ کر شاہی نظام کو ختم کر دیا ) ۔

You who have laid down a new plan, and disengaged your heart from the ancient system,

8

همچو ما اسلامیان اندر جهان

قیصریت را شکستی استخوان

تو نے بھی دنیا میں ہم مسلمانوں کی طرح قیصریت (ملوکیت) کی ہڈی توڑ ڈالی ہے ۔ (شاہی نظام ختم کر دیا ہے ) ۔

Like us Moslems you have broken the bone of imperial rule in this world.

9

تا بر افروزی چراغی در ضمیر

عبرتی از سر گذشت ما بگیر

تو اپنے ضمیر میں کوئی چراغ روشن کر لے یا کر سکے تو ہم مسلمانوں کی سرگزشت سے عبرت حاصل کر ۔

So that you may light a lamp in your heart take a warning from our past history;

10

پای خود محکم گذار اندر نبرد

گرد این لات و هبل دیگر مگرد

تو اس جنگ میں مضبوطی سے اپنے پاؤں جما لے ۔ اور لات و ہبل کے گرد پھر طواف نہ کر ۔

Set your foot firm in the battle, circle no more about this Lat and Hubal.

11

ملتی می خواهد این دنیای پیر

آنکه باشد هم بشیر و هم نذیر

اس پرانی دنیا کو اب ایک ایسی ملت کی آرزو ہے جو بشیر بھی اور نذیر بھی ہو ۔

This aged world requires a nation that shall be both bearer of good tidings and warner.

12

باز می آئی سوی اقوام شرق

بسته ایام تو با ایام شرق

تو پھر سے مشرقی قوموں کی طرف واپس آ جا ۔ اس لیے کہ تیرے زمانے مشرق کے زمانوں سے وابستہ ہیں ۔

Return again to the peoples of the East; your ‘days’ are bound up with the ‘days’ of the East.

13

تو بجان افکنده ئی سوزی دگر

در ضمیر تو شب و روزی دگر

اب تو نے اپنی جان میں ایک نیا سوز پیدا کیا ہے ۔ تیرے ضمیر میں روز و شب بھی اب نئے ہیں ۔

You have kindled a new flame in the soul, your heart houses a new night and day.

14

کهنه شد افرنگ را آئین و دین

سوی آن دیر کهن دیگر مبین

افرنگ ، یورپ کے دین و آئین اب پرانے ہو چکے ہیں ۔ تو اس پرانے مندر کی طرف مت دیکھ ۔

The rite and religion of the Franks have grown old; look no more towards that ancient cloister.

15

کرده ئی کار خداوندان تمام

بگذر از لا جانب الا خرام

تو نے پرانے آقاؤں کا کام تمام کر دیا ہے ۔ اب تو لا کی منزل سے گزر کر الا کی جانب چل ۔

You have finished now with lords; pass on from ‘no’, march onwards to ‘but’;

16

در گذر از لا اگر جوینده ئی

تا ره اثبات گیری زنده ئی

اگر تجھ میں تلاش و جستجو کا مادہ ہے تو لا کی منزل سے گزر جا کیونکہ جب تو اثبات کی راہ اختیار کرے گا تو تو زندہ و جاوید ہو جائے گا ۔ (اثبات سے مراد ہے خدا تعالیٰ او ر اس کے ابدی نظام کا اقرار اور اس پر ایمان ) ۔

Pass on from ‘no’, if you are a true seeker, that you may take the road of living affirmation.

17

ای که می خواهی نظام عالمی

جسته ئی او را اساس محکمی؟

اے ملت روسیہ تو جو ایک عالم گیر نظام قائم کرنے کی آرزومند ہے کیا تو نے اس کے لیے کوئی مضبوط بنیاد تلاش کر لی ہے

You who desire a new world-order, have you sought for it a firm foundation?

18

داستان کهنه شستی باب باب

فکر را روشن کن از ام الکتاب

تو (روسی قوم) نے پرانی داستان کا ایک ایک باب دھو ڈالا ہے ۔ تو اب قرآن کریم سے اپنی فکر روشن کر ۔

You have expunged the ancient tale chapter by chapter; illumine your thoughts from the Archetype of the Book.

19

با سیه فامان ید بیضا که داد

مژدهٔ لا قیصر و کسری که داد

سیاہ فاموں کو کس نے ید بیضا دیا قیصر و کسریٰ کی نفی کی خوشخبری کس نے دی

Who gave the black man the White Hand? Who gave the good news of no Caesar, no Chosroes?

20

در گذر از جلوه های رنگ رنگ

خویش را دریاب از ترک فرنگ

فرنگیوں کے رنگا رنگ جلوے ہیں ان پر توجہ نہ دے، ان سے دور رہ اور فرنگ کے دیے ہوئے ان جلووں کو ترک کر کے خود کو پا لے ۔

Transcend the many-coloured splendours, find yourself by abandoning Europe!

21

گر ز مکر غربیان باشی خبیر

روبهی بگذار و شیری پیشه گیر

اگر تو اہلِ مغرب کے مکر و فریب سے باخبر ہے ۔ تو پھر لومڑی پن چھوڑ دے اور شیر کی سی خصلت پیدا کر لے ۔

If you are apprised by the Westerners’ cunning give up the wolf, take on the lion’s trade.

22

چیست روباهی تلاش ساز و برگ

شیر مولا جوید آزادی و مرگ

یہ لومڑی پن کیا ہے یہ محض دنیاوی سازوسامان کی تلاش ہے جبکہ اللہ کا شیر آزادی یا موت کی تلاش کرتا ہے ۔

What is wolfishness? The search for food and means; the Lion of the Lord seeks freedom and death

23

جز به قرآن ضیغمی روباهی است

فقر قرآن اصل شاهنشاهی است

قرآن کے بغیر شیری بھی لومڑی پن ہے اور قرآن کا فقر اصل شہنشاہی ہے ۔

Without the Koran, the lion is a wolf; the poverty of the Koran is the root of empire.

24

فقر قرآن اختلاط ذکر و فکر

فکر را کامل ندیدم جز به ذکر

قرآن کا فقر ذکر اور فکر کا اختلاط ہے ۔ میں نے ذکر کے بغیر فکر کو کامل نہیں دیکھا ۔

The poverty of the Koran is the mingling of meditation and reason – I have never seen reason perfect without meditation

25

ذکر ذوق و شوق را دادن ادب

کار جان است این ، کار کام و لب

ذکر کیا ہے ذکر کو ادب سکھانا ہے اور یہ جان (روح) کا کام ہے نہ کہ زبان و لب کا ۔

Meditation? To school pleasure and passion; this is the affair of the soul, not the affair of lip and palate.

26

خیزد از وی شعله های سینه سوز

با مزاج تو نمی سازد هنوز

(اللہ کے ) ذکر سے سینے کو جلا دینے والے شعلے پیدا ہوتے ہیں اور یہ ابھی تک تیرے مزاج کے ساتھ موافقت نہیں رکھتے ۔

From it arise the flames that burn the breast, it does not accord with your temperament yet.

27

ای شهید شاهد رعنای فکر

با تو گویم از تجلی های فکر

تو اے فکر کے حسین و جمیل محبوب پر مر مٹنے والے (روسی) میں تجھے فکر کی تجلیوں سے آگاہ کرتا ہوں ۔

Martyr of the delicate beauty of reason, I will tell you of the revelations of reason!

28

چیست قرآن؟ خواجه را پیغام مرگ

دستگیر بندهٔ بی ساز و برگ

قرآں کیا ہے قرآن آقا کے لیے موت کا پیغام ہے اور بے ساز و سامان یا مفلس غلام کا مددگار ہے ۔

What is the Koran? Sentence of death for the master-man, succour for the slave without food and destitute.

29

هیچ خیر از مردک زرکش مجو،

«لن تنالوا البر حتی تنفقوا»

تو دولت کے پجاری آدمی سے کسی خیر (بھلائی) کی توقع نہ رکھ ، قرآن پاک کا ارشاد ہے کہ تم نیکی نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اللہ کی راہ میں اپنی محبوب ترین چیز خرچ نہ کرو ۔

Look not for good from the money-grubbing manikin – You will not attain piety, until you expend

30

از ربا آخر چه می زاید فتن

کش نداند لذت قرض حسن

سود سے آخر کیا پیدا ہوتا ہے فتنے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔ کوئی بھی قرض حسنہ کی لذت سے آشنا نہیں ہے ۔

What pray is born of usury? Tumults! No one knows the pleasure of ‘a good loan’.

31

از ربا جان تیره دل چون خشت و سنگ

آدمی درنده بی دندان و چنگ

ربا (سود) سے جان سیاہ ہو جاتی ہے اور دل اینٹ پتھر کی مانند ہو جاتا ہے اور انسان دانتوں اور پنجوں کے بغیر درندہ بن جاتا ہے ۔

Usury darkens the soul, hardens the heart like a stone, makes man a ravening beast, without fangs and claws.

32

رزق خود را از زمین بردن رواست

این متاع بنده و ملک خداست

اپنا رزق زمین سے حاصل کرنا جائز ہے یہ (زمین) بندے کی متاع تو ہے لیکن حقیقی ملکیت اللہ ہی کی ہے ۔

It is lawful to draw one’s sustenance from the soil – this is man’s ‘enjoyment’, the property of God.

33

بندهٔ مؤمن امین ، حق مالک است

غیر حق هر شی که بینی هالک است

بندہَ مومن اللہ کی زمین کا امین ہے جبکہ مالک اللہ ہی ہے حق کے سوا جو کچھ بھی تجھے نظر آتا ہے وہ ہلاک ہونے والا ہے ۔ قرآنی آیت کا حوالہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے ۔

The believer is the trustee, God is the possessor; whatever you see other than God is perishing.

34

رایت حق از ملوک آمد نگون

قریه ها از دخل شان خوار و زبون

پرچم حق بادشاہوں نے سرنگوں کر دیا ۔ یوں ان کی مداخلت سے بستیاں تباہ و برباد ہو گئیں ۔ بے شک جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل و خوار کر دیتے ہیں ۔

God’s banner has been beaten down by kings, their entry has reduced townships to misery.

35

آب و نان ماست از یک مائده

دودهٔ آدم «کنفس واحده»

ہمارا رزق ایک دستر خوان سے ہے ۔ آدم کا خاندان گویا ایک نفس ہے ۔

Our bread and water are of one table; the progeny of Adam are as a single soul.

36

نقش قرآن تا درین عالم نشست

نقشهای کاهن و پاپا شکست

جب قرآن کا نقش اس جہان پر ثبت ہوا تو برہمنوں اور پادریوں کے نقش مٹ گئے ۔

When the Koran’s design descended into this world it shattered the images of priest and pope;

37

فاش گویم آنچه در دل مضمر است

این کتابی نیست چیزی دیگر است

میرے دل میں جو کچھ پوشیدہ ہے وہ میں واضح طور پر بیان کرتا ہوں اور وہ یہ کہ یہ (قرآن) کوئی کتاب نہیں ہے کچھ اور ہی چیز ہے ۔

I speak openly what is hidden in my heart – this is not a book, it is something other!

38

چون بجان در رفت جان دیگر شود

جان چو دیگر شد جهان دیگر شود

جب یہ (قرآن) روح میں سما جاتا ہے تو جان کچھ اور ہی ہو جاتی ہے اور جب جان کچھ اور ہو جاتی ہے تو دنیا بھی کچھ اور ہو جاتی ہے ۔ یعنی جان بدل جائے تو جہان بدل جاتا ہے ۔

When it has entered the soul, the soul is transformed; when the soul has been transformed, the world is changed.

39

مثل حق پنهان و هم پیداست این

زنده و پاینده و گویاست این

حق کی مانند یہ (قرآن کریم) چھپا ہوا بھی ہے اور ظاہر بھی ہے ۔ یہ زندہ، ہمیشہ رہنے والا یعنی لافانی اور بولنے والا ہے ۔

Like God, it is at once hidden and manifest, living and enduring, yes, and speaking.

40

اندرو تقدیر های غرب و شرق

سرعت اندیشه پیدا کن چو برق

اس کے اندر مشرق و مغرب کی تقدیریں پنہاں ہیں ۔ تو انہیں سمجھنے کے لیے خود میں بجلی کی سی تیزی فکر پیدا کر ۔

In it are the destinies of East and West – realise then the lightning-like swiftness of thought!

41

با مسلمان گفت جان بر کف بنه

هر چه از حاجت فزون داری بده

قرآن کریم مسلمانوں سے یہ کہتا ہے کہ تم اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لو اور جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہے اسے دوسروں یعنی مفلسوں کو دے دو ۔

It told the Moslem, ‘Put Your life in your hands; give whatever you possess beyond your needs.’

42

آفریدی شرع و آئینی دگر

اندکی با نور قرآنش نگر

تو (روسی قوم) نے اور طرح کا شرع اور آئین بنا لیا ہے تو ان قوانین کو ذرا قر آن کی روشنی میں دیکھ ۔

You have created a new law and order; consider it a little in the light of the Koran.

43

از بم و زیر حیات آگه شوی

هم ز تقدیر حیات آگه شوی

تاکہ تو زندگی کی اونچ نیچ (اچھائی برائی) سے آگاہ ہو جائے اور زندگی کی تقدیر بھی تجھ پر واضح ہو جائے ۔

And you will understand life’s heights and depths, you will comprehend the destiny of life.

44

محفل ما بی می و بی ساقی است

ساز قرآن را نواها باقی است

ہماری محفل شراب اور ساقی کے بغیر ہے مگر قرآن کے ساز کے نغمے اپنی جگہ برقرار ہیں ۔

Our assembly is without wine and cupbearer, yet the melodies of the Koran’s instrument are immortal;

45

زخمهٔ ما بی اثر افتد اگر

آسمان دارد هزاران زخمه ور

اگر ہماری مضراب میں کوئی اثر نہیں رہا تو آسمان کے پاس ہزاروں اور سازندے موجود ہیں ۔

If our plectrum now strikes without effect, Heaven houses thousands of excellent strummers.

46

ذکر حق از امتان آمد غنی

از زمان و از مکان آمد غنی

خدا تعالیٰ کا ذکر قوموں سے بے نیاز ہے ۔ وہ زمان و مکان دونوں سے بے نیاز ہے ۔

God’s remembrance requires not nations, it transcends the bounds of time and space.

47

ذکر حق از ذکر هر ذاکر جداست

احتیاج روم و شام او را کجاست

ذکر حق ہر ذاکر کے ذکر کرنے سے الگ (اسکی اپنی الگ حیثیت ہے ) اسے روم اور شام کی کیا حاجت ہے یعنی کوئی ضرورت نہیں ۔

God’s remembrance is apart from the remembrance of every remembrancer – what need has it of Greek or Syrian?

48

حق اگر از پیش ما برداردش

پیش قومی دیگری بگذاردش

اگر اللہ تعالیٰ اسے (قرآن کو) ہمارے سامنے سے اٹھا لے تو وہ اسے کسی اور قوم کے سامنے رکھ دے گا ۔

If God should remove it from us He can if He will transfer it to another people.

49

از مسلمان دیده ام تقلید و ظن

هر زمان جانم بلرزد در بدن

میں نے مسلمانوں میں دوسروں کی بلاوجہ کی پیروی اور قیاس کو دیکھا ہے اس سے میری جان ہر لمحہ جسم میں لرزتی رہی ہے ۔

I have seen the blind conformity and opinionatedness of Moslems and every moment my soul trembles in my body;

50

ترسم از روزی که محرومش کنند

آتش خود بر دل دیگر زنند

میں اس دن سے ڈرتا ہوں کہ مسلمان کو قرآن سے محروم نہ کر دیا جائے ۔ اور مولا کریم اپنے عشق کی آگ کسی اور کے دل پر نہ ڈال دے ۔

I fear for the day when it shall be denied to them and its fire shall be kindled in quite other hearts.

بند 2
پیر رومی به زنده رود می گوید که شعری بیار
Toggle stanza 2
51

پیر رومی آن سراپا جذب و درد

این سخن دانم که با جانش چه کرد

پیر رومی جو سراپا سوز و درد ہیں ان کی جان پر افغانی کی بات نے کیا اثر کیا میں ہی جانتا ہوں ۔

The Sage of Rum bids Zinda-Rud intone a song The Sage of Rum, that man filled wholly with ecstasy and passion, I know what effect these words had on his soul;

52

از درون آهی جگر دوزی کشید

اشک او رنگین تر از خون شهید

ان (رومی) کے دل سے ایک جگر سوز آہ نکلی ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو نکلے جو شہید کے خون سے بھی زیادہ رنگین تھے ۔

He drew from his breast a heart-rending sigh, his tears ran redder than the blood of martyrs.

53

آنکه تیرش جز دل مردان نسفت

سوی افغانی نگاهی کرد و گفت

وہ شخصیت (رومی) جس کی نگاہ کے تیر نے بندگانِ حق کے دلوں کے سوا اور کسی کو نہیں چھیدا ، اس نے افغانی کی طرف دیکھا اور کہا ۔

He, whose arrows pierced only the hearts of heroes, turned his gaze upon Afghani, and spoke:

54

«دل بخون مثل شفق باید زدن

دست در فتراک حق باید زدن

دل کو شفق کی مانند خون میں رنگ لینا چاہیے اور اپنا ہاتھ اللہ کی فتراک میں دینا چاہیے ۔

‘The heart must throb with blood like the twilight, the hand must be thrust into the saddle-straps of God;

55

جان ز امید است چون جوئی روان

ترک امید است مرگ جاودان»

جان امید سے ہی بہتی ہوئی ندی کی مانند بنتی ہے ۔ امید ترک کر دینا جان کی ہمیشہ کی موت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔

Hope moves the soul to flow like a running river, the abandonment of hope is eternal death.’

56

باز در من دید و گفت ای زنده رود

با دو بیتی آتش افکن در وجود

پھر رومی نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے کہ اے زندہ رود دو ایک شعروں سے وجود کے اندر کی آگ لگا یعنی ایسے اشعار سنا جن کو سن کر دل میں سوز جذبہ پیدا ہو جائے ۔

He looked at me again, and said: Zinda-Rud, with a couplet set all being afire.

57

ناقهٔ ما خسته و محمل گران

تلخ تر باید نوای ساربان

ہماری اونٹنی تھک چکی یا بیمار ہے اور محمل بوجھل ہے (اب) ضروری ہے کہ ساربان کا نغمہ زیادہ تلخ ہو ۔

Our camel is weary and the load is heavy; more bitter must be the song of the caravaneer.

58

امتحان پاک مردان از بلاست

تشنگان را تشنه تر کردن رواست

اللہ کے پاک بندوں کی آزمائش مصائب سے ہوتی ہے ، پیاسوں کو زیادہ پیاسا کرنا جائز ہے ۔

The proving of holy men is through adversity, it is right to make the thirsty yet more athirst.

59

در گذر مثل کلیم از رود نیل

سوی آتش گام زن مثل خلیل

حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی طرح تو دریائے نیل سے گزر جا اور خلیل کی طرح آگ کی طرف قدم بڑھا ۔

Like Moses depart from the the River Nile, stride out like Abraham towards the fire.

60

نغمهٔ مردی که دارد بوی دوست

ملتی را میبرد تا کوی دوست»

ایسا مردانہ نغمہ سنا جس سے دوست (محبوب حقیقی) کی خوشبو آئے تاکہ ملت کو دوست کے کوچے میں لے جائے ۔

A melody of one who catches the scent of the Beloved bears a people onwards even to the Beloved’s street.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

غربیان را زیرکی ساز حیات

شرقیان را عشق راز کائنات

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»سعید حلیم پاشا: شرق و غرب

اگلی نظم

این گل و لاله تو گویی که مقیمند همه

راه‌پیماصفت موج نسیمند همه

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»غزل زنده رود

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور