صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک عطارد
  4. »غزل زنده رود

غزل زنده رود

غزل زندہ رود

Ghazal of Zinda-Rud

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: یماندهمه

صنف: غزل

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

این گل و لاله تو گویی که مقیمند همه

راه‌پیماصفت موج نسیمند همه

تیرا یہ کہنا کہ گل و لالہ غیر فانی ہیں (درست نہیں اس لیے کہ ) یہ سارے کے سارے تو موجِ نسیم کی طرح راستہ چلنے والے ہیں ۔

You say that these roses and tulips are permanent here; no, they are travellers all, like the waves of the breeze.

2

معنی تازه که جوییم و نیابیم کجاست

مسجد و مکتب و میخانه عقیمند همه

وہ نئے معنی جو ہم ڈھونڈتے ہیں وہ ہمیں مل نہیں رہے (نجانے وہ ) کہاں ہیں کیا مسجد اور کیا مکتب اور کیا مے خانے سب بانجھ پڑے ہیں ۔

Where is the new truth which we seek, and do not find? Mosque, school and tavern, all alike are barren.

3

حرفی از خویشتن آموز و در آن حرف بسوز

که درین خانقه بی‌سوز کلیمند همه

اپنے آپ سے ایک حرف (اللہ) سیکھ اور پھر اس حرف میں جل جا، کیونکہ اس خانقاہ میں سارے کلیم سوز سے خالی ہیں ۔

Learn a word from your own self, and in that word burn, for in this convent all lack Moses’ fire.

4

از صفا کوشی این تکیه‌نشینان کم گوی

موی ژولیده و ناشُسته گلیمند همه

تو ان تکیہ نشین (نام نہاد درویشوں ) کی پاک باطنی کی بات نہ کر ۔ ان کے بال الجھے ہوئے ہیں اور ان کی گدڑی ان دھلی ہے ۔

Speak not of the striving for purity of these monastery — dwellers, they are all dishevelled of hair, blankets unwashed.

5

چه حرم‌ها که درون حرمی ساخته‌اند

اهل توحید یک‌اندیش و دو نیمند همه

انھوں نے حرم کے اندر کتنے اور حرم بنا رکھے ہیں ۔ اہل توحید کی سوچ تو واحد (ایک) ہے لیکن وہ ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔

What temples they have fashioned within the Sanctuary, these unitarians of one thought, but all split in two!

6

مشکل این نیست که بزم از سر هنگامه گذشت

مشکل این است که بی‌نقل و ندیمند همه

مشکل یہ نہیں کہ بزم یعنی ملت نے ہنگامہ آرائی (جوش و جذبہ) کا خیال چھوڑ دیا ہے بلکہ مشکل یہ ہے کہ تمام اہل محفل شیرینی (کھانے کی عمدہ چیز ) اور احباب (دوستوں ) کے بغیر ہیں ۔

The problem is not that the hour of feasting has passed, the problem is that they are all without sweetmeats and boon-companion!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

منزل و مقصود قرآن دیگر است

رسم و آئین مسلمان دیگر است

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک عطارد»پیغام افغانی با ملت روسیه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور