ہندی رشی جو چاند کی ایک غار میں خلوت گزین ہے اور اہل ہند اسے وشوامتر کہتے ہیں۔
An Indian Ascetic, Known to the People of India as Jahan-Dost, Who Lives as a Hermit in One of the Caverns of the Moon
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: چند بندی
من چوکوران دست بر دوش رفیق
پا نهادم اندر آن غار عمیق
میں نے اندھوں کی طرح اپنے ساتھی (رومی) کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اس گہری غار میں قدم رکھا ۔
Like a blind man, my hand on my companion’s shoulder, I placed my foot within a deep cavern;
ماه را از ظلمتش دل داغ داغ
اندرو خورشید محتاج چراغ
اس غار کی تاریکی سے چاند کا دل داغ داغ تھا اور اس کے اندر دیکھنے کے لیے سورج بھی چراغ کا محتاج تھا ۔
The moon’s heart was sore ravaged by its darkness, within it even the sun would have needed a lamp.
وهم و شک بر من شبیخون ریختند
عقل و هوشم را بدار آویختند
وہم اور شک نے مجھ پر شب خون مارا اور میرے ہوش و عقل کو سولی پر لٹکا دیا ۔
Fancies and doubts made assault upon me, hung my reason and sense upon the gallows.
راه رفتم رهزنان اندر کمین
دل تهی از لذت صدق و یقین
میں راستہ پر چلتا رہا جبکہ راہزن (وہم و شک) میری گھات میں تھے، اور میرا دل صدق و یقین کی لذت سے خالی تھا ۔
I went along a road where highwaymen lurked in ambush, my heart void of the joy of truth and certainty;
تا نگه را جلوه ها شد بی حجاب
صبح روشن بی طلوع آفتاب
یہاں تک کہ میری نگاہ پر جلوے ظاہر ہو گئے اور سورج کے طلوع ہوئے بغیر ہی صبح روشن ہو گئی ۔
Presently manifestations met my gaze unveiled, a bright dawn without any rising of the sun.
وادی هر سنگ او زنار بند
دیو سار از نخلهای سر بلند
مجھے اس روشنی میں ایک وادی نظر آئی جس کا ہر پتھر زنار باندھے ہوئے تھا اور وہ وادی بہت اونچے اونچے درختوں کی وجہ سے دیووں کا ٹھکانا معلوم ہوتی تھی ۔
A valley, whereof each stone was an idolater, a demon’s haunt thick with lofty palm-trees.
از سرشت آب و خاک است این مقام
یا خیالم نقش بندد در منام
میں سوچنے لگا کہ یہ وادی آب و خاک کے جہان کی سی فطرت والی ہے ، یا پھر میرا خیال ہی نیند میں یہ سب نقش دیکھ رہا تھا ۔
Was this place truly compounded of earth and water, or was my sleeping fantasy painting pictures?
در هوای او چو می ذوق و سرور
سایه از تقبیل خاکش عین نور
اس کی ہوا میں شراب کا لطف و سرور تھا ۔ سایہ اس کی خاک پر پڑنے سے سراپا نور بن رہا تھا ۔
The air was filled with the joy and gaiety of wine, the shadows, kissing its dust, were light’s own essence.
نی زمینش را سپهر لاجورد
نی کنارش از شفقها سرخ و زرد
نہ تو اس کی زمین کے اوپر کوئی نیلا آسمان تھا اور نہ اس کا کنارہ ہی شفق سے سرخ اور زرد تھا ۔
No cerulean sky spanned its earth, no twilight painted its margin crimson and gold;
نور در بند ظلام آنجا نبود
دود گرد صبح و شام آنجا نبود
وہاں نور تاریکی کی قید میں نہ تھا ۔ اور نہ وہاں کی صبح اور شام کے گرد دھواں ہی تھا ۔
There light was not in the chains of darkness, there no mists enveloped dawn and eventide.
زیر نخلی عارف هندی نژاد
دیده ها از سرمه اش روشن سواد
وہاں ایک درخت کے نیچے ایک ہندی نسل کا عارف بیٹھا ہوا تھا اس کی آنکھیں سرمے سے روشن تھیں ۔
Under a palm-tree an Indian sage, the pupils of his eyes bright with collyrium,
موی بر سر بسته و عریان بدن
گرد او ماری سفیدی حلقه زن
اس نے بال سر پر باندھ رکھے تھے ۔ اور اس کا بدن ننگا تھا ۔ اس کے گرد ایک سفید سانپ حلقہ بنائے بیٹھا تھا ۔
His hair knotted on his head, his body naked, coiled about him a white snake writhing,
آدمی از آب و گل بالاتری
عالم از دیر خیالش پیکری
وہ عام آدمیوں سے برتر انسان تھا اور اس کے خیال کے مندر کے مطابق جہان ایک پیکر تھا ۔
A man superior to water and clay, the world a mere image in the cloister of his fantasy,
وقت او را گردش ایام نی
کار او با چرخ نیلی فام نی
اس کے وقت میں دنوں کی گردش کا گزر نہ تھا اور اس کے نیلے رنگ کے آسمان سے کوئی سروکار نہ تھا ۔
His time subject to no revolution of days, he had no traffick with the azure-tinted skies.
گفت با رومی که همراه تو کیست؟
در نگاهش آرزوی زندگیست
اس (عارف ہندی) نے رومی سے پوچھا، تیرے ساتھ یہ کون ہے اس کی نگاہ میں زندگی کی آرزو ہے ۔
He said to Rumi, ‘Who is your fellow-traveller? In his glance there is a desire for life!’
RUMI
مردی اندر جستجو آواره ئی
ثابتی با فطرت سیاره ئی
(رومی نے اسے بتایا کہ ) یہ ایسا آدمی ہے جو تلاش میں آوارہ پھر رہا ہے اور ایک ایسا ثابت ہے جس کی فطرت سیارے کی سی ہے ۔
A man who is a wanderer on the quest, a fixed star with the constitution of a planet.
پخته تر کارش ز خامی های او
من شهید ناتمامی های او
اس کی خامیوں سے اس کا کام پختہ ہے ۔ میں تو اس کی ناتمامی کا شہید ہوں (جان دیتا ہوں ) ۔
His enterprise is more mature than his immaturities; I am a martyr to his imperfections.
شیشهٔ خود را به گردون بسته طاق
فکرش از جبریل میخواهد صداق
اس نے اپنی صراحی کے لیے آسمان کو طاق بنا رکھا ہے ۔ اس کی فکر حضرت جبرئیل جیسے فرشتہ سے تصدیق چاہتی ہے ۔
He has made of his glass the arch of heaven, his thought seeks to be boon- companion of Gabriel!
چون عقاب افتد به صید ماه و مهر
گرم رو اندر طواف نه سپهر
وہ عقاب کی طرح چاند اور سورج کے شکار پر جھپٹتا ہے اور نو آسمانوں کے طواف میں سرگرم رہتا ہے ۔
He swoops like an eagle on the moon and sun, his prey, hot-foot he circumambulates the nine spheres.
حرف با اهل زمین رندانه گفت
حور و جنت را بت و بتخانه گفت
اس نے اہل زمین سے رندانہ گفتگو کی ہے اور حور و جنت کو بت اور بت خانہ کہا ہے ۔
A drunkard’s words he has spoken to the people of earth calling the houris idols, Paradise an idol-house.
شعله ها در موج دودش دیده ام
کبریا اندر سجودش دیده ام
میں نے اسکے دھوئیں کی موج میں شعلے دیکھے ہیں اور خدا کو اسکے سجدے کے اندر دیکھا ہے (اسکے سجدوں میں عظمت دیکھی) ۔
I have seen flames in the billow of his smoke, I have seen majestic pride in his prostration.
هر زمان از شوق مینالد چو نال
می کشد او را فراق و هم وصال
وہ شوق کی بنا پر ہر وقت بانسری کی طرح نالے کھینچتا ہے ۔ اسے ہجر بھی مارتا ہے اور وصل بھی ۔
Ever he laments yearningly like a flute; separation and union alike slay him.
من ندانم چیست در آب و گلش
من ندانم از مقام و منزلش
میں نہیں جانتا کہ اس کی سرشت میں کیا ہے اور نہ مجھے اس کے مقام و منزل ہی کی کچھ خبر ہے ۔
I do not know what is in his water and clay; I do not know what his rank and station may be.
عالم از رنگست و بی رنگی است حق
چیست عالم ، چیست آدم ، چیست حق؟
عالم رنگ سے ہے (مادی ہے) اور حق بے رنگ ہے (لاثانی) ۔ عالم کیا ہے آدم کیا ہے اور حق کیا ہے ۔ جہاں دوست نے رومی سے سوالات کئے ۔
The world is a thing of colour, and God is without colour. What is the world? What is man? What is God?
آدمی شمشیر و حق شمشیر زن
عالم این شمشیر را سنگ فسن
آدمی تلوار ہے اور حق تلوار چلانے والا ہے جبکہ یہ کائنات اس تلوار کے سان کا پتھر ہے ۔
Man is a sword, and God is the swordsman; the world is the whetstone for this sword.
شرق حق را دید و عالم را ندید
غرب در عالم خزید از حق رمید
مشرق نے حق کو تو دیکھا لیکن عالم کو نہ دیکھا جبکہ مغرب عالم میں رنگتا رہا اور حق سے دور ہو گیا ۔
The East saw God and did not see the world, the West crept along the world and fled away from God.
چشم بر حق باز کردن بندگی است
خویش را بی پرده دیدن زندگی است
حق پر آنکھ کھولنا (نگاہ کرنا) ہی بندگی ہے او ر خود کو بے پردہ دیکھنا ہی زندگی ہے ۔
True servanthood is to open the eyes to God; true life is to see oneself without a veil.
بنده چون از زندگی گیرد برات
هم خدا آن بنده را گوید صلوت
جب کوئی بندہ زندگی سے حصہ حاصل کرتا ہے (اپنے آپ کو بے پردہ دیکھتا ہے) تو ایسے بندے پر اللہ تعالیٰ بھی صلوۃ و سلام بھیجتا ہے ۔
When a servant takes quittance of life God Himself calls down blessings on that servant.
هر که از تقدیر خویش آگاه نیست
خاک او با سوز جان همراه نیست
جو شخص بھی اپنی تقدیر سے آگاہ نہیں ہے ۔ اس کی خاک سوزِ جان کا ساتھ نہیں دیتی ۔ (وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکتا) ۔
Whatever man is unconscious of his destiny, his dust travels not with the fire of the soul.
بر وجود و بر عدم پیچیده است
مشرق این اسرار را کم دیده است
وہ مشرق تو وجود اور عدم کے نظریات میں الجھا رہا ہے ۔ مشرق نے یہ راز نہیں دیکھے ۔
Tied up in the knot of being and not-being the East has seen little into these secrets.
کار ما افلاکیان جز دید نیست
جانم از فردای او نومید نیست
ہم آسمان پر رہنے والوں کے کام دیکھنے کے سوا کچھ نہیں ۔ میری جان اس مشرق کے مستقبل سے نا امید نہیں ہے ۔
The task of us celestials is only to see, and my soul does not despair of the East’s tomorrow.
دوش دیدم بر فراز قشمرود
ز آسمان افرشته ئی آمد فرود
کل میں نے چاند کے پہاڑ سے ایک فرشتے کو نیچے اترتے دیکھا ۔
Yesterday I saw on the summit of Qashmarud an angel that had descended out of heaven;
از نگاهش ذوق دیداری چکید
جز بسوی خاکدان ما ندید
اس کی نگاہ سے ذوقِ دیدار ٹپکتا تھا ۔ اس نے ہمارے مٹی کے جہاں کے سوا اور کسی طرف نہ دیکھا ۔
Out of his glance the joy of sight distilled as he gazed solely towards our mound of dust.
گفتمش از محرمان رازی مپوش
تو چه بینی اندر آن خاک خموش
میں (وشوامتر) نے اس فرشتے سے کہا کہ تو اپنے رازداروں سے راز نہ چھپا ۔ تجھے اس خاموش خاک میں کیا نظر آتا ہے
I said to him, ‘Hide not a secret from your confidants; what is it that you see in this silent dust?
از جمال زهره ئی بگداختی
دل به چاه بابلی انداختی
کیا تو ستارہ زہرہ کے حسن سے پگھل گیا ہے کیا تو نے بابل کے کنویں میں اپنا دل ڈال دیا ہے ۔
Do you melt for the beauty of some Venus? Have you flung your heart into the well of Babylon?’
گفت «هنگام طلوع خاور است
آفتاب تازه او را در بر است
فرشتے نے کہا کہ مشرق میں سورج طلوع ہونے کا وقت آ گیا ہے اور ایک نیا سورج اس کے پہلو میں ہے ( میں دیکھ رہا ہوں کہ مشرق میں انقلاب آنے والا ہے ) ۔
He said, ‘It is the hour of the East’s arising; the East has a new sun shining in its breast.
لعل ها از سنگ ره آید برون
یوسفان او ز چه آید برون
اس مشرق کے راستے کے پتھروں سے لعل نکلیں گے ۔ اس کے یوسف کنویں سے باہر آئیں گے ۔
Rubies come forth from the stones of the road, its Josephs are issuing out of the well.
رستخیزی در کنارش دیده ام
لرزه اندر کوهسارش دیده ام
میں نے اس مشرق کے پہلو میں ایک قیامت دیکھی ہے ۔ اور اسکے کوہسار لرزتے کانپتے دیکھا ہے ۔
I have seen a resurrection happening in its bloom, I have seen its mountains trembling and quaking;
رخت بندد از مقام آزری
تا شود خوگر ز ترک بت گری
وہ آزری کے مقام سے اپنا سامانِ سفر باندھ رہا ہے تاکہ وہ بت تراشی کو چھوڑنے کا عادی ہو جائے ۔
It is packing up to quit the station of Azar at last to forswear forever idolatry.
ای خوش آن قومی که جان او تپید
از گل خود خویش را باز آفرید
مبارک ہے وہ قوم جس کی جان میں تڑپ پیدا ہو جائے اور وہ اپنی مٹی سے اپنے آپ کو از سر نو پیدا کرے ۔
Happy is the people whose soul has fluttered, that has created itself anew out of its own clay.
عرشیان را صبح عید آن ساعتی
چون شود بیدار چشم ملتی»
اہل عرش فرشتوں کے لیے وہ گھڑی عید کی صبح ہوتی ہے جب کسی قوم کی آنکھ بیدار ہو جاتی ہے ۔
For the Throne – angels that hour is the dawn of festival when the eyes of a nation at last awake!’
پیر هندی اندکی دم در کشید
باز در من دید و بی تابانه دید
ہندی بزرگ (وشوامتر) کچھ دیر کے لیے خاموش رہا ۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا اور بے تابانہ دیکھا ۔
The Indian sage was silent for a little while; then he looked at me again, somewhat impatiently.
گفت مرگ عقل؟ گفتم ترک فکر
گفت مرگ قلب؟ گفتم ترک ذکر
اس نے مجھ سے پوچھا، عقل کی موت کیا ہے میں نے جواب دیا کہ وہ فکر کو ترک کر دینا ہے ۔ پھر اس نے پوچھا ، دل کی موت کیا ہے میں نے کہا وہ ذکر کا ترک کر دینا ہے ۔
He asked, ‘Death of the reason?’ I said, Giving tip thought.’ He asked, ‘Death of the heart?’ I said, ‘Giving up remembrance.’
گفت تن؟ گفتم که زاد از گرد ره
گفت جان؟ گفتم که رمز لااله
اس نے پوچھا کہ تن کیا ہے میں نے کہا کہ وہ راستے کی گرد سے پیدا ہوا ہے ۔ اس نے پوچھا جان کیا ہے، میں نے جواب دیا کہ وہ لا الہ کی ایک رمز ہے ۔
He asked, ‘The body?’ I said, ‘Born of the dust of the road.’ He asked, ‘The Soul?’ I said ‘The symbol of One God.’
گفت آدم؟ گفتم از اسرار اوست
گفت عالم؟ گفتم او خود روبروست
اس (وشوامتر) نے پوچھا، آدم کیا ہے میں نے کہا وہ اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے ۔ اس نے پوچھا عالم کیا ہے، میں نے جواب دیا وہ خود سامنے ہے ۔
He asked, ‘And Man?’ I said, ‘One of God’s secrets.’ He asked, ‘The world?’ I said, ‘Itself stands face to face.’
گفت این علم و هنر؟ گفتم که پوست
گفت حجت چیست؟ گفتم روی دوست
مطب: اس نے پوچھا ، یہ علم و ہنر کیا ہے میں نے کہا کہ یہ محض چھلکا ہے یعنی یہ مغز سے خالی ہے ۔ پھر اس نے پوچھا کہ (حق تعالیٰ کے) وجود پر حجت کیا ہے میں نے کہا محبوب حقیقی کا چہرہ ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے پس جس طرف بھی تم منہ کر لو وہیں اللہ کا چہرہ ہے ۔
He asked, ‘This science and art?’ I said, ‘Mere husk.’ ‘He asked, ‘What is the proof?’ I said, ‘The face of the Beloved.’
گفت دین عامیان؟ گفتم شنید
گفت دین عارفان؟ گفتم که دید
اس نے پوچھا عام لوگوں کا دین کیا ہے میں نے کہا وہ سنی سنائی باتوں پر بھروسے کا نام ہے ۔ اس نے پوچھا عارفوں کا دین کیا ہے میں نے جواب دیا، وہ دید ہے (عین الیقین) ۔
He asked, ‘The commons’ religion?’ I said, ‘Just hearsay.’ He asked, ‘The gnostics’ religion?’ I said, ‘True seeing.’
از کلامم لذت جانش فزود
نکته های دل نشین بر من گشود
میرے کلام سے اس (پیر ہندی) کی جان کی لذت میں اضافہ ہوا اوراس نے مجھ سے چند دل نشین نکتے واضح کیے ۔
My words brought much pleasure to his soul, and he disclosed to me delightful subtleties.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور