The Sphere of the Moon
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
این زمین و آسمان ملک خداست
این مه و پروین همه میراث ماست
یہ زمین اور آسمان خدا تعالیٰ کی ملکیت ہیں ۔ یہ چاند یہ پروین ستارہ یعنی ستارے سب ہماری میراث ہیں ۔
This earth and heaven are the Kingdom of God, this moon and Pleiades are our patrimony;
اندرین ره هر چه آید در نظر
با نگاه محرمی او را نگر
اس راستے میں جو کچھ نظر آ رہا ہے اے مسافر تو اسے محرمانہ نگاہوں سے دیکھ ۔
Whatever thing meets your gaze upon this road, regard it with the eye of intimacy.
چون غریبان در دیار خود مرو
ای ز خود گم اندکی بیباک شو
تو اپنے شہر میں اجنبیوں کی طرح مت چل، اے کہ تو خود کو گم کیے ہوئے ہے ذرا بیباکی اختیار کر ۔
Go not about your own dwelling like a stranger – you who are lost to yourself, be a little fearless!
این و آن حکم ترا بر دل زند
گر تو گوئی این مکن آن کن ،کند
یہ اور وہ ساری اشیاء تیرا حکم دل و جان سے مانتی ہیں ۔ اگر تو کسی شے سے کہے کہ یہ مت کہ وہ کر تو وہی کچھ کرے گی ۔
This and that impose your command on their hearts; if you say ‘Don’t do this, do that,’ they obey.
نیست عالم جز بتان چشم و گوش
اینکه هر فردای او میرد چو دوش
یہ جہان آنکھ اور کانوں کے بتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ اس کا ہر آنے والا کل گزرے ہوئے کل کی طرح مر جاتا ہے ۔
The world is nothing but idols of eye and ear; its every morrow will die like yesterday.
در بیابان طلب دیوانه شو
یعنی ابراهیم این بتخانه شو
تو طلب (تلاش) کے بیابان میں دیوانہ ہو جا یعنی اس بت خانہ کا ابراہیم بن جا (تو اپنی معرفت حاصل کر، بتوں کو توڑ کر توحید پرست ہو جا جس طرح حضرت ابراہیم ہو ئے تھے ) ۔
Plunge like a madman into the desert of the Quest, that is to say, be the Abraham of this idol-house!
چون زمین و آسمان را طی کنی
این جهان و آن جهان را طی کنی
جب تو زمین اور آسمان کو طے کر لے اور اس جہان اور اس جہان کو طے کر لے ۔
When you have travelled all through earth and heaven, when you have traversed this world and the other,
از خدا هفت آسمان دیگر طلب
صد زمان و صد مکان دیگر طلب
تو پھر بھی آرام سے نہ بیٹھو بلکہ خدا سے سات آسمان اور طلب کر اور سینکڑوں نئے زمانے اور مکان طلب کر ۔
Seek from God another seven heavens, seek a hundred other times and spaces.
بی خود افتادن لب جوی بهشت
بی نیاز از حرب و ضرب خوب و زشت
بہشت کی ندی کے کنارے بے خود پڑے رہنا اور نیکی اور بدی کی جنگ سے بے نیاز پڑے رہنا کوئی زندگی نہیں ۔
Self-lost to sink on the bank of the river of Paradise, quit of the battle and buffetting of good and evil.
گر نجات ما فراغ از جستجوست
گور خوشتر از بهشت رنگ و بوست
اگر نجات کا مطلب جستجو سے نجات پانا ہے تو پھر اس رنگ و بو کی بہشت سے قبر بہتر ہے ۔
If our salvation be the cessation of searching, better the grave than a heaven of colours and scents.
ای مسافر جان بمیرد از مقام
زنده تر گردد ز پرواز مدام
اے مسافر یہ سمجھ لے کہ قیام سے جان مر جاتی ہے ۔ اور مسلسل پرواز سے روح اور بھی زیادہ زندہ ہو جاتی ہے ۔
Traveller! The soul dies of dwelling at rest, it becomes more alive by perpetual soaring.
هم سفر با اختران بودن خوش است
در سفر یک دم نیاسودن خوش است
ستاروں کے ساتھ ہم سفر ہونا ایک اچھی بات ہے اور سفر میں ذرا بھی آرام نہ کرنا اچھی بات ہے ۔
Delightful it is to travel along with the stars, delightful not to rest one moment on the journey.
تا شدم اندر فضاها پی سپر
آنچه بالا بود ، زیر آمد نظر
جب میں (یعنی اقبال) فضاؤں میں مصروف سفر ہوا تو جو کچھ اوپر تھا وہ نیچے نظر آنے لگا ۔
When I had tramped through the vastness of space that which was once above now appeared below me,
تیره خاکی برتر از قندیل شب
سایهٔ من بر سر من ای عجب
تاریک مٹی (زمین ) اب مجھے رات کی قندیل سے زیادہ دکھائی دینے لگی ۔ میرا سایہ میرے سر پر تھا ، کیسی عجیب بات تھی ۔
A dark earth loftier than the lamp of night, my shadow (O marvel! ) flung above my head;
هر زمان نزدیک تر نزدیکتر
تا نمایان شد کهستان قمر
ہر لمحہ ہم چاند سے نزدیک تر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ چاند کے پہاڑ نظر آنے لگے ۔
All the while nearer and nearer still until the mountains of the Moon became visible.
گفت «رومی از گمانها پاک شو
خوگر رسم و ره افلاک شو
رومی نے کہا تو (اقبال) وہم و گمان سے پاک ہو جا اور آسمانوں کے رسم و رہ کا عادی ہو جا ۔
Rumi said, ‘Cleanse yourself of all doubts, grow used to the manners and ways of the spheres
ماه از ما دور و با ما آشناست
این نخستین منزل اندر راه ماست
چاند ہم سے اگرچہ دور ہے مگر وہ ہم سے آشنا ہے ۔ یہ ہمارے سفر کے راستے کی پہلی منزل ہے ۔
The moon is far from us, yet it is our familiar; this is the first stage upon our road;
دیر و زود روزگارش دیدنی است
غارهای کوهسارش دیدنی است»
اس چاند کے زمانے کے دیر اور زود (زمان و مکان) دیکھنے کے لائق ہیں ۔ اس کے کوہسار کی غاریں دیکھنے کے قابل ہیں ۔
Seen must be the late and soon of its time, seen must be the caverns of its mountains.’
آن سکوت آن کوهسار هولناک
اندرون پر سوز و بیرون چاک چاک
وہ خاموشی اور وہ کوہسار بھیانک ، ڈراوَنا تھا ۔ اس (چاند) کا اندر تو پرسوز تھا لیکن اس کا ظاہر چاک چاک (پھٹا پھٹا) سا تھا ۔
That silence, that fearful mountain-range, inwardly full of fire, outwardly riven and ravined!
صد جبل از خافطین و یلدرم
بر دهانش درد و نار اندر شکم
وہاں خافطین اور یلدرم نام کے سینکڑوں پہاڑ تھے جن کے دہانوں پر تو دھواں تھا لیکن ان کے پیٹ میں آگ تھی ۔ (آتش فشاں پہاڑ تھے) ۔
A hundred peaks, such as Khaftin and Yildirim, smoke in their mouths and fire in their bellies;
از درونش سبزه ئی سر بر نزد
طایری اندر فضایش پر نزد
اس کے اندر سے سبزے نے سر نہ نکالا تھا اور اس کی فضا میں کوئی پرندہ محو پرواز نہ تھا ۔ (جہاں نہ سبزہ تھا اورر نہ کوئی پرندہ تھا) ۔
Out of its bosom not a blade of grass sprang, no bird fluttered in its empty spaces;
ابر ها بی نم ، هوا ها تند و تیز
با زمین مرده ئی اندر ستیز
وہاں کے بادلوں میں نمی نہ تھی اور ہوائیں تندو تیز تھیں ۔ یہ بادل اور ہوائیں اس کی مردہ زمین سے برسر پیکار تھیں ۔
Clouds without moisture, winds swift and sword-sharp ever doing battle with a dead earth.
عالم فرسوده ئی بی رنگ و صوت
نی نشان زندگی در وی نه موت
وہ ایک فرسودہ جہان تھا جو رنگ اور آواز سے خالی تھا، نہ وہاں زندگی ہی کے کوئی آثار نظر آ رہے تھے اور نہ موت ہی کے آثار نظر آ رہے تھے ۔
A worn-out world without colour and sound, no sign of life therein, neither of death,
نی بنافش ریشهٔ نخل حیات
نی به صلب روزگارش حادثات
نہ تو اس کی ناف میں زندگی کے درخت کی کوئی رگ تھی اور نہ اس کے زمانے کی پشت ہی میں حادثات تھے ۔
No root of the palm tree of life in its navel, no events hidden in the thighs of its time;
گرچه هست از دودمان آفتاب
صبح و شام او نزاید انقلاب
اگرچہ وہ (چاند) سورج ہی کے خاندان سے ہے لیکن اس کی صبح اور شام کوئی انقلاب پیدا نہیں کرتی ۔
Though it is a member of the family of the sun its dawn and evening beget no revolution
گفت رومی «خیز و گامی پیش نه
دولت بیدار را از کف مده
رومی نے کہا اٹھ اور قدم آگے بڑھا، تو بیدا رمقدر کو ہاتھ سے مت دے ۔
Rumi said, ‘Rise, and take a step forward, do not let slip this wakeful fortune.
باطنش از ظاهر او خوشتر است
در قفار او جهانی دیگر است
اس (چاند) کا باطن (اندرون) اس کے ظاہر سے بہت اچھا ہے ۔ اس کی غاروں کے اندر ایک اور ہی دنیا ہے ۔
Its interior is fairer than its exterior, another world lurks hidden in its hollows.
هر چه پیش آید ترا ای مرد هوش
گیر اندر حلقه های چشم و گوش
اے صاحب ہوش و خرد (اقبال) جو کچھ بھی تیرے سامنے آئے اسے تو اپنے چشم و گوش کے حلقوں میں لے لے ۔
Whatever presents itself to you, man of sense, seize it in the rings of the eye and the ear.
چشم اگر بیناست هر شی دیدنی است
در ترازوی نگه سنجیدنی است
اگر آنکھ دیکھنے والی ہے تو ہر شے دیکھنے کے لائق ہے ۔ اور وہ نگاہ کے ترازو میں تولنے کے لائق ہے ۔
If the eye has vision, everything is worth seeing, worthy to be weighed in the glance’s balance.
هر کجا رومی برد آنجا برو
یک دو دم از غیر او بیگانه شو»
رومی جہاں کہیں تجھے لے جائے تو وہاں چل اور ایک دو پل کے لیے اس (رومی) کے سوا ہر شے سے بیگانہ ہو جا ۔
Wheresoever Rumi leads, there go; be estranged a moment or two from all but he.’
دست من آهسته سوی خود کشید
تند رفت و بر سر غاری رسید
اس نے آہستہ سے میرا ہاتھ اپنی طرف کھینچا اور تیز چلتے ہوئے ایک غار کے کنارے پہنچ گیا ۔
Gently he drew my hand towards him, then swiftly he sped to the mouth of a crater.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور