صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »جاویدنامه
  3. »فلک مشتری
  4. »بخش 1 - ارواح جلیلهٔ حلاج و غالب و قرةالعین طاهره که به نشیمن بهشتی نگرویدند و به گردش جاودان گراییدند

بخش 1 - ارواح جلیلهٔ حلاج و غالب و قرةالعین طاهره که به نشیمن بهشتی نگرویدند و به گردش جاودان گراییدند

حلاج، غالب اور قرۃ العین طاہرہ کی ارواحِ جلیلہ جنہوں نے بہشت میں رہنے کی بجائے گردشِ جاوداں کو پسند کیا

The Noble Spirits of Hallaj, Ghalib and Qurrat al-Ain Tahira

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

من فدای این دل دیوانه‌ای

هر زمان بخشد دگر ویرانه‌ای

میں اپنے اس دیوانے دل کے قربان جاؤں جو ہر لمحہ مجھے ایک نیا ویرانہ عطا کرتا ہے ۔

Let me be a ransom for this demented heart which every instant bestows on me another desert;

2

چون بگیرم منزلی گوید که خیز

مرد خود رس بحر را داند قفیز

جب میں ایک منزل پر ٹھہرتا ہوں تو (دل) مجھے کہتا ہے اٹھ کہ جو شخص اپنے آپ کو پہچانتا ہے وہ تو سمندر کو پیالہ سمجھتا ہے ۔

Whenever I take up a lodging, it says, ‘Rise-up!’ The self-strong man reckons the sea as but a pool.

3

زانکه آیات خدا لا انتهاست

ای مسافر جاده را پایان کجاست

چونکہ خدا کی نشانیوں کی کوئی حد نہیں ہے ، اس لیے اے مسافر راستے کی انتہا کہاں ہے ۔

Seeing that the signs of God are infinite where, traveller, can the high-road end?

4

کار حکمت دیدن و فرسودن است

کار عرفان دیدن و افزودن است

حکمت (فلسفہ) کا کام دیکھنا اور گھسنا (پیچھے ہٹنا) ہے جبکہ عرفان و معرفت کا کام دیکھنا اور بڑھنا یعنی آگے بڑھنا ہے ۔

The task of science is to see and consume, the work of gnosis is to see and augment;

5

آن بسنجد در ترازوی هنر

این بسنجد در ترازوی نظر

وہ (حکمت) ہر شے کو ہنر کے ترازو میں تولتی ہے جبکہ یہ (معرفت) ہر شے کو نظر کے ترازو میں تولتی ہے ۔

Science weighs in the balance of technology; gnosis weighs in the balance of intuition;

6

آن بدست آورد آب و خاک را

این بدست آورد جان پاک را

وہ (حکمت) جہان آب و خاک کو اپنی گرفت میں لائی جبکہ یہ (معرفت) جانِ پاک کو گرفت میں لائی ۔

Science holds in its hand water and earth, gnosis holds in its hand the pure spirit;

7

آن نگه را بر تجلی می زند

این تجلی را بخود گم می کند

وہ (حکمت) نگاہ کی تجلی کو سمجھنے میں صرف کرتی ہے جبکہ یہ (معرفت) تجلی کو خود اپنے اندر سمو لیتی ہے ، جذب کر لیتی ہے ۔

Science casts its gaze upon phenomena, gnosis absorbs phenomena into itself.

8

در تلاش جلوه های پی به پی

طی کنم افلاک و می نالم چو نی

میں نت نئے جلوے کی تلاش میں ، میں افلاک کو طے کر رہا اور بانسری کی طرح نالہ و فریاد کرتا ہوا چلا جا رہا ہوں ۔

In quest of continuous manifestations I travel through the skies, lamenting like a reed;

9

این همه از فیض مردی پاک زاد

آنکه سوز او بجان من فتاد

یہ سب اس پاک زاد مرد یعنی رومی کا فیض ہے ، یہ وہ ہستی ہے جس نے اپنا سوز عشق میری جان میں ڈال دیا ہے ۔

All this is by the grace of a pure-born saint whose ardour fell upon my soul.

10

کاروان این دو بینای وجود

بر کنار مشتری آمد فرود

کائنات کو دیکھنے والے ان دو مسافروں کا قافلہ اب مشتری کے کنارے پر آ اترا ۔

The caravan of these two scanners of existence presently halted by the shores of Jupiter;

11

آن جهان آن خاکدانی ناتمام

در طواف او قمر ها تیز گام

یہ جہان (فلک مشتری) ایک نامکمل دنیا تھی جس کے گرد کئی چاند تیزی سے چکر لگا رہے تھے ۔

That world, that earth not yet complete, circling about it moons swift of pace;

12

خالی از می شیشه تاکش هنوز

آرزو نارسته از خاکش هنوز

اس کی انگور کی بیل کا شیشہ ابھی تک خالی تھا اور آرزو ابھی تک اس کی خاک سے پیدا نہیں ہوئی تھی ۔

Its vine's flask is still empty of wine; desire is still unsprouted from its soil.

13

نیم شب از تاب ماهان نیم روز

نی برودت در هوای او نه سوز

اس کے چاند کی روشنی سے اس کی آدھی رات دوپہر کی مانند روشن تھی ۔ اس کی ہوا میں نہ تو ٹھنڈک تھی اور نہ کوئی گرمی ہی تھی ۔

Midnight, a world half day in the moon’s gleam, the air thereof neither chill nor torrid.

14

من چو سوی آسمان کردم نظر

کوکبش دیدم بخود نزدیک تر

جب میں نے آسمان کی طرف نظر کی تو اس کے ایک ستارے (مشتری) کو اپنے بہت قریب پایا ۔

As I lifted my gaze towards heaven I saw a star closer to me;

15

هیبت نظاره از هوشم ربود

شد دگرگون نزد و دور و دیر و زود

اس نظارے کی ہیبت نے تو میرے ہوش اڑا دیے ، اور دور اور دیر اور جلدی کا تصور بدل گیا ۔

The awful prospect robbed me of my senses – near and far, late and soon became transformed.

16

پیش خود دیدم سه روح پاکباز

آتش اندر سینه شان گیتی گداز

وہاں میں نے اپنے سامنے تین پاکباز روحیں دیکھیں ، ان کے سینوں میں ایسی آگ تھی (یعنی آتش عشق) جو کائنات کو پگھلا دینے والی تھی ۔

I saw before me three pure spirits the fire in whose breasts might melt the world.

17

در برشان حله های لاله گون

چهره ها رخشنده از سوز درون

انکے پہلووَں میں لالہ کے سے رنگ کی سرخ چادریں تھیں اور ان کے چہرے ان کے سوز دروں کے باعث چمک رہے تھے ۔

They were clad in robes of tulip hue; their faces gleamed with an inner glow;

18

در تب و تابی ز هنگام الست

از شراب نغمه های خویش مست

وہ ہنگام الست سے تب و تاب میں تھے، وہ اپنے نغموں کی شراب سے مست تھے ۔

In fever and fervour since the moment of Alast, intoxicated with the wine of their own melodies.

19

گفت رومی «این قدر از خود مرو

از دم آتش نوایان زنده شو

رومی نے کہا اس قدر بے خود نہ ہو جا، ان آتش نواؤں کے دم (کلام) سے زندہ ہو جا ۔

Rumi said, ‘Do not go out of yourself so, be quickened by the breath of these songs of fire.

20

شوق بی پروا ندیدستی ، نگر

زور این صهبا ندیدستی ، نگر

تو نے اب تک بے پروا عشق نہیں دیکھا، اب دیکھ لے تو نے اس شراب کا زور نہیں دیکھا اب دیکھ لے ۔

You have never seen intrepid passion; behold! You have never seen the power of this wine; behold!

21

غالب و حلاج و خاتون عجم

شورها افکنده در جان حرم

غالب اور حلاج اور ایرانی خاتون (قرۃ العین طاہرہ) جنھوں نے حرم (کعبہ) کی جان میں شور برپا کر رکھا ہے انہیں دیکھ اور ان کی نوائیں سن ۔

Ghalib and Hallaj and the Lady of Persia have flung tumult into the soul of the sanctuary.

22

این نواها روح را بخشد ثبات

گرمی او از درون کائنات»

ان کا کلام روح کو ثبات بخشتا ہے ، اس لیے کہ ان کی گرمی کائنات کے اندر سے ہے ۔

These songs bestow stability on the spirit; their warmth springs from the inmost heart of creation.’

◆

اگلی / پچھلی نظم

اگلی نظم

ز خاک خویش طلب آتشی که پیدا نیست

تجلی دگری در خور تقاضا نیست

علامہ اقبال»جاویدنامه»فلک مشتری»بخش 2 - نوای حلاج

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور