تراجم

پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

134نظمیں

تراجم والی نظمیں

غزل شمارهٔ 52چند بروی خودکشی پردهٔ صبح و شام را

(اے خالق کائنات) تو کب تک اپنے رُخ روشن پر صبح و شام کا پردہ کھینچتا رہے گا ۔ اپنی صورت مجھے دکھا اور اپنے نامکمل جلووَں کو مکمل کر دے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 53نفس شمار به پیچاک روزگار خودیم

میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے چکر میں پھنسا ہوا ہوں ۔ میں سمندر کی طرح شور کر رہا ہوں لیکن اپنے کناروں کے اندر ہی اندر بہہ رہا ہوں ۔ (انسان جتنی بھی ترقی کر لے اسے اپنی حدود میں ہی رہنا پڑتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 54به فغان نه لب گشودم که فغان اثر ندارد

میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 55ما که افتنده‌تر از پرتو ماه آمده‌ایم

(ہماری حالت یہ کہ) ہم تو چاند کی چاندنی سے بھی زیادہ عاجزی کے ساتھ اس زمین پر آئے ہوئے ہیں ۔ کسے خبر ہے ہم نے یہ سارا سفر کس طرح طے کیا ہےہم عالمِ ارواح سے (جہاں ہمیں دیدارِ خداوندی نصیب ہوتا تھا ) زمین پر آ گئے اور جسم میں قید ہونے کے سبب ہماری ساری قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں ۔ اس شعر میں عالم علوی سے عالم سفلی کی طرف سفر کا ذکر ملتا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 56ای خدای مهر و مه خاک پریشانی نگر

اے سورج و چاند کے خدا! میری پریشان خاک کی طرف نظر کر اور دیکھ کہ خاک کے اس چھوٹے سے ذرے میں ایک (وسیع و عریض) بیاباں سمایا ہوا ہے (عشق نے اس خاک کے بنے ہوئے پتلے میں خدائی صفات پیدا کر دی ہیں ) ۔

اردوEn

دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم

زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)

اردوEn

غزل شمارهٔ 1بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد

(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 2مه و ستاره که در راه شوق هم سفرند

چاند اور ستارے جو راہِ شوق (عشق) میں اکھٹے محوِ سفر ہیں وہ (حسن) کی اشارہ بازیوں کو پرکھنے ، اس کی دلفریب اداؤں کو سمجھنے اور حقیقت شناس نظر رکھنے والے ہیں (چاند اور ستارے منشاے فطرت کے مطابق مصروف سفر ہیں ) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 3درون لاله گذر چون صبا توانی کرد

لالہ کے پھولوں کے اندر نرم و لطیف ہو اکی طرح گزرا جا سکتا ہے ۔ ایک شگفتہ اور نرم سانس سے غنچہ کھلایا جا سکتا ہے ۔ (اسی طرح غم زدہ دلوں کی مسرتیں بھی تلاش کی جا سکتی ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 4اگر به بحر محبت کرانه می‌خواهی

(اے انسان) اگر تو محبت کے سمندر میں رہتے ہوئے ساحل کی تمنا کر رہا ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے تو ہزاروں شعلے دے کر ایک چنگاری حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 5زمانه قاصد طیار آن دلآرام است

یہ جہاں اس دل کو قرار پہنچانے والے محبوب (خالق کائنات) کا ایسا پیغام رساں ہے جو کبھی ایک جگہ ٹھہرتا نہیں ۔ ہر وقت سرگرمِ سفر رہتا ہے ۔ یہ جہاں کیسا زبردست قاصد ہے کہ جو سر تا پا پیغام ہی پیغام ہے (زمانہ ہر لمحہ نئے پیغامات لے کر آتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 6دگر ز ساده دلیهای یار نتوان گفت

میں اپنے محبوب کی سادہ دلی سے متعلق سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ میرے سرہانے بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ (میرے غمِ عشق ) کا کوئی علاج نہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 7خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است

عقل اگر کائنات کی حقیقتوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے تو یہ سب سرگرمی اس میں ذوقِ نظر کی وجہ سے ہے ۔ عقل کائنات میں موجود ہر شے کی متلاشی ہے اور حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے (ذوق نظر عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 8غلام زنده دلانم که عاشق سره اند

میں ان زندہ دل لوگوں کا غلام ہوں جو سچے عاشق ہیں ۔ ان خانقاہ نشینوں نام نہاد دنیا دار صوفیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں جو کسی کو دل نہیں دیتے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 9لاله این چمن آلودهٔ رنگ است هنوز

اس چمن کے لالہ کا پھول (مسلمان) ابھی زنگ آلودہ ہے ۔ (ابھی مسلمان دنیا کی آلائشوں میں پھنسا ہوا ہے) اس لیے اپنے ہاتھ سے ابھی ڈھال مت رکھ کہ جنگ ابھی جاری ہے (اہل ایمان کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 10تکیه بر حجت و اعجاز و بیان نیز کنند

(حق پھیلانے اور اس کی مدافعت کے لیے) کبھی کبھی دلیل اور اعجاز بیان پر بھی بھروسہ کرنا پڑتا ہے اور کبھی حق کا قیام تلوار اور نیزے کی طاقت سے بھی لیا جاتا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 11چو موج مست خودی باش و سر بطوفان کش

(دریا کی ) موج کی طرح خودی میں مست ہو کر طوفان سے ٹکرانے کی ہمت پیدا کر ۔ تجھے کس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموشی سے بیٹھ جا اور دامن میں پاؤں سمیٹ لے (با عمل زندگی بسر کرنا شروع کر دے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 12خضر وقت از خلوت دشت حجاز آید برون

سر زمینِ حجاز کے صحرا سے زمانے کا خضر ظہور کر رہا ہے اس دور دراز وادی سے کوئی قافلہ سفر پر روانہ ہو رہا ہے (احیائے اسلام کی کوئی تحریک پیدا ہونے والی ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 13ز سلطان کنم آرزوی نگاهی

میں تو (صرف حقیقی مالک) سلطا ن سے نگاہِ کرم کی امید رکھتا ہوں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سچا مسلمان ہوں اور مسلمان کبھی مٹی کے معبود نہیں بناتا(مٹی کے معبودوں کی پوجا نہیں کرتا) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 14با نشئه درویشی در ساز و دمادم زن

(بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 15هوس هنوز تماشا گر جهانداری است

ہوس ابھی تک اسی فکر میں ہے کہ کسی طرح دنیاوی مال و دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے ۔ ہرے رنگ کے پردوں کے پیچھے اور کونسا فتنہ پوشیدہ ہے دنیا میں جتنے بھی فتنے و فساد پیدا ہوئے ان کا سبب ہوس ہی ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 16فرشته گرچه برون از طلسم افلاک است

فرشتہ اگرچہ (انسانوں کی طرح) آسمانوں کے جادو (قوانینِ فطرت) سے آزاد ہے اس کے باوجود اس کی نظر مٹھی بھر خاک کے پتلے پر ہے ۔ یعنی وہ انسان کی رفعت کی طرف دیکھتا ہے جو اسے عشق کے سوز و گداز کی بدولت حاصل ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 17عرب که باز دهد محفل شبانه کجاست

وہ عرب جو رات کے وقت محفلیں سجاتے تھے اب کہاں ہیں ۔ وہ عجم جو عاشقانہ نغمے زندہ کرے وہ کہاں ہیں ۔ نہ تو اب عربوں میں ایمان کی حرارت باقی ہے اور نہ ہی عجمیوں میں ذوق نغمہ گری زندہ ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 18مانند صبا خیز و وزیدن دگر آموز

(اے مسلمان) تو صبح کی تازہ و نرم و لطیف ہوا کی طرح اٹھ اور چلنا سیکھ لے ۔ گلاب و لالہ کے پھولوں کو پھر کھلانا شروع کر دے (اپنے آپ کو بیدار کر اور دوسروں کو بھی بیداری کا پیغام دے) ۔ اپنے دل کے غنچے میں پھر سے زندگی کی خلش پیدا کرنا سیکھ لے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 19ای غنچهٔ خوابیده، چو نرگس نگران خیز

اے سوئے ہوئے نوخیز پھول، نرگس کی طرح آنکھیں کھولتے ہوئے اٹھ (جاگ) کیونکہ ہمارا گھر غموں (بے عملی) نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 20جهان ما همه خاک است و پی سپر گردد

ہماری دنیا جو کہ سب کی سب مٹی ہے اور یہ مٹی ایک دن بے سپر ہو جائے گی ۔ مجھے معلوم نہیں کہ جو سانسیں جا چکی ہیں وہ واپس آئیں گی یا نہیں (مرنے کے بعد کیا ہو گا، میں اس سے بے خبر ہوں ) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 21باز بر رفته و آینده نظر باید کرد

(اے انسان) تجھے از سر نو اپنی گذشتہ زندگی اور آنے والی زندگی پر نظر دوڑانی چاہیے ۔ وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے اٹھ ۔ اور پھر سے سوچ کہہ تجھے کیا کرنا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 22خیال من به تماشای آسمان بود است

میرا (مردِ مومن) خیال آسمانوں ( میں ہونے والی تبدیلیوں ) کا مشاہدہ کر رہا ہے اور چاند کے شانوں پر اور کہکشاں کی گود میں رہ رہا ہے (زمین کا رہنے والا آسمان سے بھی پرے ہونے والے واقعات کا علم رکھتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 23از نوا بر من قیامت رفت و کس آگاه نیست

میری نوا سے تو مجھ پر قیامت کا سماں گزر گیا ہے ۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ( میں نے اپنے نغمات خون جگر سے تحریر کیے ہیں ۔ اور انہیں عشق کی موسیقی سے سجایا ہے ۔ لیکن اہل بزم ان نغمات کے ظاہری پہلووَں سے تو با خبر ہیں لیکن انہیں ان نغمات میں پوشیدہ پیغام کی خبر نہیں ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 24شراب میکدهٔ من نه یادگار جم است

میرے میکدے کی شراب میں ایرانی افکار و خیالات نہیں پائے جاتے ۔ میری اس عجمی صراحی یعنی فارسی شاعری میں جو شراب ہے وہ میرے جگر کا لہو ہے ( میں نے یہ خیالات کسی سے مستعار نہیں لیے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 25لاله صحرایم از طرف خیابانم برید

میں تو صحرا میں کھلنے والا لالہ ہوں (میرا باغ سے کیا کام) مجھے باغ سے لے جاوَ اور جنگل ، پہاڑ اور بیابان کی ہواؤں میں لے جاوَ ۔ (میری اصل عالم علوی ہے ۔ وہاں سے مجھے عالم دنیا میں لایا گیا ۔ اب مجھے پھر سے اسی عالم میں پہنچا دو ۔ اس شعر میں صحرا کنایہ ہے عالم علوی اور باغ کنایہ ہے عالم دنیا کا) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 26سخن تازه زدم کس بسخن وا نرسید

میں نے اپنی شاعری میں (روایت سے ہٹ کر) باتیں کی ہیں ۔ کوئی بھی یہ باتیں پسند نہیں کرتا ۔ میرے جلوے یعنی مضامین کا خون بہہ گیا اور ایک بھی نگاہ اس کے نظارے کے لیے نہ پہنچی ( میں نے ایسے ایسے نئے مضامین پیدا کئے ہیں جنھیں لوگ پڑھنا گوارا نہیں کرتے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 27عاشق آن نیست که لب گرم فغانی دارد

اسے عاشق نہیں کہتے جو اپنے لبوں سے نالہ و شیون کرتا ہے ۔ بلکہ عاشق تو وہ ہے جو دونوں جہان اپنی ہتھیلی پر رکھتا ہے (سچا عاشق نالہ و فریاد نہیں کرتا بلکہ وہ تو اپنے عشق سے دنیا پر حکمرانی کرتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 28درین چمن دل مرغان زمان زمان دگر است

اس چمن میں رہنے والے پرندوں کا دل لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے ۔ پرندہ اگر شاخ پر بیٹھا ہو تو اس کا دل اور ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے گھونسلے میں ہو تو پھر دل اور ہوتا ہے ۔ اہلِ دنیا کے دل حرص و ہوس کے تابع ہوتے ہیں جبکہ مردانِ حق اللہ کے طالب ہوتے ہیں ) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 29ما از خدای گم شده‌ایم او به جستجوست

ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 30خواجه از خون رگ مزدور سازد لعل ناب

سرمایہ دار مزدوروں کی سخت محنت سے خالص ہیرا بنا رہا ہے (مزدور کا خون چوس چوس کر دولت مند ہوتا جا رہا ہے ) گاؤں کے خداؤں کے جبر سے کسانوں کے کھیت اُجڑ گئے ہیں (وہ خود وڈیرے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ) اس لیے بدل دو ۔ الٹا دو ۔ تبدیلی، اے تبدیلی ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 31گرچه می دانم که روزی بی نقاب آید برون

اگرچہ یہ بات میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو (اے محبوب) ایک روز بے نقاب میرے سامنے آ جائے گا ۔ لیکن تو یہ نہ سمجھ کہ اس طرح میری جان اضطراب و بے چینی سے نجات حاصل کر لے گی ۔ (کیونکہ عشق میں ہجر و وصال دونوں ہی بے قراری کا سبب بنے رہتے ہیں ) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 32گشاده رو ز خوش و ناخوش زمانه گذر

اس دنیا کی خوشی اور خاموشی کی پرواہ کیے بغیر زندہ دلی سے وقت گزارے (زندگی کی تکالیف خندہ پیشانی سے برداشت کرے) اور تیرے راستے میں جو چیز بھی آئے اس سے مسکراتے ہوئے گزر جا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 33زندگی در صدف خویش گهر ساختن است

زندگی کا فلسفہ اپنی سیپ کے اندر موتی بنانا ہے ۔ شعلہ کے دل میں اتر جانا ہے اور اس آگ عشق میں پگھلنا نہیں (بلکہ اس مٹی کو کندن بنانا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 34برون زین گنبد در بسته پیدا کرده ام راهی

میں نے اس بند دروازے کے گنبد میں ایک راستہ ڈھونڈ لیا ہے ۔ کیونکہ میری صبح صادق کی آہ میرے خیال سے بھی زیادہ بلند پرواز ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 35گنه‌کار غیورم مزد بی‌خدمت نمی‌گیرم

میں گناہگار تو ہوں لیکن غیور ہوں ۔ محنت کے بغیر مزدوری لینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ میرے سینے میں اس بات کا داغ ہے کہ قدرت نے اس کی (ابلیس) کی تقدیر سے میری تقصیر وابستہ کر دی ہے (آدمی گناہ کرنے کے بعد اسے ابلیس کی کارستانی قرار دیتا ہے اور خود جنت کا حقدار بن جاتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 36جهان کورست و از آئینهٔ دل غافل افتاد است

یہ جہان اندھا ہے اور دل کے آئینے کی صفائی سے غفلت میں پڑا ہوا ہے (اس دل کے آئینے میں نہ صرف خارجی جہاں کا عکس موجود ہے بلکہ معرفت حق بھی جلوہ گر ہو سکتی ہے) لیکن جہان کی توجہ تو خارجی اسباب پر ہے اور جو آنکھ کہ باطن کو دیکھنے والی بن گئی اسے معلوم ہو گیا کہ دل کیا چیز ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 37نیابی در جهان یاری که داند دلنوازی را

تو اس دنیا میں اپنے سوا کوئی ایسا دوست نہیں پائے گا جو تیرے دل کی ناز برداری کرنا جانتا ہو ۔ اس لیے تو اپنے آپ میں گم ہو کر بازی عشق کے ناموس کی رکھوالی کر ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 38علمی که تو آموزی مشتاق نگاهی نیست

جو علم تو سیکھ رہا ہے وہ نگاہِ باطن کا شیدائی نہیں ۔ وہ راہ میں تھکن سے چور ہو کر بیٹھ جانے والا ہے راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ اس علم میں خود کو یا خدا کو پہچاننے والی آنکھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 39چو خورشید سحر پیدا نگاهی می توان کردن

صبح کے سورج کی مانند نگاہِ حق شناس پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی جسم خاکی کو محبوب کی جلوہ گاہ بنایا جا سکتا ہے ۔ نگاہِ حق شناس جب جسم خاکی میں پیدا ہو جائے تو اس کے نور سے دنیا کو بھی منور کیا جا سکتا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 40کشیدی باده ها در صحبت بیگانه پی در پی

تو نے اے مسلمان غیروں کی صحبت اختیار کر کے ان کے افکار و خیالات کی متواتر شراب پی ہے ۔ تو نے غیروں کے نور سے مسلسل اپنے دل کے پیالے کو روشن کیا ہے ۔ غیروں کے افکار چھوڑ کر اپنے دین کی طرف لوٹ جا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 41عشق اندر جستجو افتاد آدم حاصل است

عشق جستجو کرتا رہا اور اس کی اس جستجو کا حاصل آدم ہے ۔ اس لیے عشق نے اپنا جلوہ آب و گل یعنی جسم خاکی کے پردے سے ظاہر کیا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 42بیا که خاوریان نقش تازه‌ای بستند

آ کہ اہلِ مشرق نے نیا تعویذ باندھا ہے (وہ فرنگی جادوگروں کے طلسم کا توڑ تلاش کر چکے ہیں ) ۔ ایسی صورت میں اس بت (فرنگی افکار) کا طواف مت کر جسے توڑا جا چکا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 43عشق را نازم که بودش را غم نابود نی

مجھے عشق پر ناز ہے کہ اس کی ہستی کو زوال نہیں (عشق فانی نہیں ، بلکہ ابدی حقیقت ہے) وہ ایک ایسا کفر ہے جو حاضر و موجود کا زنار پہننے والا نہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 44بر دل بیتاب من ساقی می نابی زند

میرے بے قرار دل پر ساقی عشق کی خالص شراب ڈالتا ہے وہ کیمیا ساز ہے ، پارے پر اکسیر ڈالتا ہے تاکہ سونے میں تبدیل ہو جائے ۔

اردوEn