غزل شمارهٔ 7
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
قافیہ: وداست
صنف: غزل/قصیده/قطعه
Toggle stanza 1خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است
خرد از ذوق نگه گرم تماشا بود است
این که جوینده و یابندهٔ هر موجود است
عقل اگر کائنات کی حقیقتوں کی تلاش میں سرگرم عمل ہے تو یہ سب سرگرمی اس میں ذوقِ نظر کی وجہ سے ہے ۔ عقل کائنات میں موجود ہر شے کی متلاشی ہے اور حاصل کرنے کی جستجو میں رہتی ہے (ذوق نظر عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے) ۔
جلوهٔ پاک طلب از مه و خورشید گذر
زانکه هر جلوه درین دیر نگه آلود است
اے انسان! چاند اور سورج کے جلووَں کو چھوڑ کر خدا کے جلووَں کی طلب شروع کر دے کیونکہ اس دیر میں (جلوہَ خدا) کے علاوہ ہر جلوہ مادیت سے آلود ہے اور جلوہَ خدا صرف باطنی آنکھ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے ۔
Mind, that is ever questing, and finding, without resting, fired by the joy of viewing was vision still pursuing. Seek thou pure revelation past sun and moon’s low station, for all things here reported by vision are distorted. \[Translated by Arthur J Arberry\]
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

