Toggle stanza 1
بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد
1

بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد

این مشت غباری را انجم به سجود آمد

(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔

Rise up, for Adam’s hour of manifestation has come; the stars bow down before this handful of dust.

2

آن راز که پوشیده در سینهٔ هستی بود

از شوخی آب و گل در گفت و شنود آمد

وہ راز جو اس کائنات کے سینے میں پوشیدہ تھا پانی اور مٹی سے تخلیق شدہ انسان کی شوخی گفتار کی وجہ سے منظر پر آ گیا ۔ (آدم کی تخلیقی صلاحیتوں اور تسخیری قوتوں نے کائنات کا راز فاش کر دیا ۔ وہ کائنات جو پہلے ایک سربستہ راز تھی ۔ )

That secret which lay hidden in the breast of Being came into speech and hearing through the playfulness of water and clay.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور