غزل شمارهٔ 1
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)
قافیہ: ودامد
صنف: غزل/قصیده/قطعه
Toggle stanza 1بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد
بر خیز که آدم را هنگام نمود آمد
این مشت غباری را انجم به سجود آمد
(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔
Rise up, for Adam’s hour of manifestation has come; the stars bow down before this handful of dust.
آن راز که پوشیده در سینهٔ هستی بود
از شوخی آب و گل در گفت و شنود آمد
وہ راز جو اس کائنات کے سینے میں پوشیدہ تھا پانی اور مٹی سے تخلیق شدہ انسان کی شوخی گفتار کی وجہ سے منظر پر آ گیا ۔ (آدم کی تخلیقی صلاحیتوں اور تسخیری قوتوں نے کائنات کا راز فاش کر دیا ۔ وہ کائنات جو پہلے ایک سربستہ راز تھی ۔ )
That secret which lay hidden in the breast of Being came into speech and hearing through the playfulness of water and clay.
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

