تراجم

پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے تراجم میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم

یہ صفحہ صرف پروفیسر حمیداللہ شاہ ہاشمی کے دستیاب تراجم والی نظمیں دکھاتا ہے۔

134نظمیں

تراجم والی نظمیں

غزل شمارهٔ 45فروغ خاکیان از نوریان افزون شود روزی

ایک دن ایسا آئے گا کہ خاک کے بنے ہوئے آدمیوں کی روشنی فرشتوں سے بڑھ جائے گی اور یہ زمین ہماری قسمت کے ستارے سے آسمان بن جائے گی ۔ انسان دنیاوی اور روحانی ترقی میں فرشتوں سے آگے نکل جائے گا ۔ )

اردوEn

غزل شمارهٔ 46ز رسم و راه شریعت نکرده ام تحقیق

میں نے اس بارے میں شریعت کی رو سے تحقیق نہیں کی ۔ سوائے اس کے کہ عشق سے انکار کرنے والا کافر اور آتش پرست ہے ۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے بغیر مسلمان صحیح مسلمان نہیں بن سکتا ۔ صرف عقل پر بھروسہ کر کے سچائی کی پہچان ممکن نہیں ۔ عشق کے بغیر شریعت کی بہت سے باتیں ایک معمہ نظر آتی ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 47از همه کس کناره گیر صحبت آشنا طلب

ہر کسی کی دوستی سے علیحدگی اختیار کر لے اور صرف آشنائے خدا کی صحبت اختیار کر ۔ کیونکہ اس کے سوا تیرا کوئی دوست نہیں ہو سکتا ۔ خدا سے خودی طلب کر اور خودی کے ذریعے خدا طلب کر ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 48بینی جهان را خود را نبینی

تو دنیا کی طرف دیکھتا ہے لیکن اپنی معرفت حاصل نہیں کرتا ۔ اے نادان تو اپنی پہچان سے کب تک غفلت برتتا رہے گا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 49من هیچ نمی‌ترسم از حادثهٔ شب‌ها

میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 50تو کیستی ز کجائی که آسمان کبود

تو کون ہےتو کہاں سے آیا ہےکہ نیلے آسمان نے تیرے استقبال میں تیری راہ میں ستاروں کی ہزاروں آنکھیں کھول رکھی ہیں (تیری عظمت و نشان یہ ہے کہ ساری کائنات تیرے جلووں کی منتظر ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 51دیار شوق که درد آشناست خاک آنجا

شہرِ عشق میں کہ جہاں کی مٹی درد آشنا ہے اس کے ذرے ذرے میں پاک جان انوار الہٰی کو دیکھا جا سکتا ہے (عاشق کے رگ و پے میں سوزِ عشق پایا جاتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 52می دیرینه و معشوق جوان چیزی نیست

پرانی شراب جس میں نشہ زیادہ ہوتا ہے اور جوان معشوق اہل نظر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے (اللہ کے ولیوں کی نظر میں حور اور جنت کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ ان باتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں ) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 53قلندران که به تسخیر آب و گل کوشند

قلندر جو کہ اپنے خاکی جسم اور مادی جہان کی تسخیر میں مصروف رہتے ہیں وہ اگرچہ بوریا نشین ہوتے ہیں پھر بھی بادشاہوں سے خراج وصول کرتے ہیں ۔ بادشاہوں کے تخت ان کے خوف سے کانپتے ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 54دو دسته تیغم و گردون برهنه ساخت مرا

میں دونوں ہاتھوں سے چلانے والی تلوار ہوں اور آسمان نے مجھے بے نیام کر دیا (قدرت نے باطل کا مقابلہ کرنے کے لیے بے نیام کیا ہے) اور مجھے سان پر چڑھا کر زمانے پر چلا دیا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 55مثل شرر ذره را تن به تپیدن دهم

میں ذرے کو چنگاری کی طرح تن گرم کرنے کا طریقہ دیتا ہوں ۔ اور اس بہانے میں دراصل اسے اڑنے والے پر عطا کرتا ہوں ۔ میرے کلام میں بے سوز شخص میں گرمیَ عشق پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور گرمیَ عشق اسے آسمان کی بلندیوں کی طرف جا نے کے طریقے بتاتی ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 56خودی را مردم‌آمیزی دلیل نارسایی‌ها

خود کو پہچان لینے والے شخص کا عام لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا اس کی منزل مقصود تک نہ پہنچنے کی دلیل ہے ۔ اے درد آشنا تو آشنائی کی عادت چھوڑ دے (خودی کو پا لینے والا شخص خدا آشنا بھی ہو جاتا ہے اور وہ ہجومِ آدم میں گم نہیں ہوتا بلکہ بروقت یاد خدا میں مصروف نظر آتا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 57چون چراغ لاله سوزم در خیابان شما

میں تمہارے باغ کی روش پر لالہ کے پھول کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں ۔ اے عجم کے نوجوانو مجھے اپنی اور تمہاری جان کی قسم ہے کہ میں ہر وقت تمہارے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 58دم مرا صفت باد فرودین کردند

قدرت نے میری سانسوں کی بہار کی ہوا کی مانند کر دیا ہے اور میرے اشکوں سے گھاس کو یاسمین کے پھولوں کی مانند کر دیا ۔ (میرے کلام کی تاثیر نے قارئین کے قلب و نظر میں انقلاب برپا کر دیا ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 59گذر از آنکه ندیدست و جز خبر ندهد

ایسی عقل سے کنارہ کشی اختیار کر لے جس میں حقیقت شناسی نہیں اور جو سوائے ظاہری باتوں کے اور کسی چیز کی خبر نہیں دیتی ۔ وہ بات تو طویل کرتی ہے لیکن نظر کی لذت (حقیقی شناسی) پیدا نہیں کرتی ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 60در این صحرا گذر افتاد شاید کاروانی را

اس صحرا (مسلمانوں ) میں شاید کسی قافلے کا گزر ہوا ہے بہت مدت بعد میں نے ساربانوں کے گیت سنے ہیں ۔ قوم کی اصلاح کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 61ترا نادان امید غمگساریها ز افرنگ است

اے ناداں تو اپنے غموں کے علاج کی امید اہلِ یورپ سے رکھتا ہے ۔ شاہین کا دل اس پرندے کے لیے نہیں جلتا جو اس کے پنجے میں جکڑا ہوا ہو ۔ (جس طرح شکاری اپنے شکار پر رحم نہیں کھاتا اسی طرح اہلِ یورپ بھی اپنی سنگدلی کی بدولت محکوم اقوام پر رحم نہیں کھاتے ۔ اس لیے اہل یورپ سے محکوم لوگوں کو رحم کی امید نہیں رکھنی چاہیے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 62بگذر از خاور و افسونی افرنگ مشو

مشرق سے گزر جا (اہل مشرق کے افکار کا اثر قبول نہ کر) اور اہل یورپ کے جادو کی بھی پرواہ نہ کر (اہل یورپ کی تہذیب و عیار سے بھی دامن بچا) کیونکہ یہ دونوں پرانے اور نئے دو جو کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہیں (اپنی تہذیب حجازی اپنا لے کیونکہ اسی میں دین و دنیا کی بھلائی ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 63جهان رنگ و بو پیدا تو میگوئی که راز است این

یہ جہان جو رنگ اور خوشبووَں سے بھرپور ہے ۔ لیکن تو اس جہان رنگ و بو کو ایک راز کہتا ہے ایک دفعہ خود کو اس کے تاروں پر لگا تجھے معلوم ہو جائے گا کہ تو مضراب ہے اور یہ جہان ایک ساز ہے ۔ تیرے مضراب کے بغیر سازِ جہاں میں نغمگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 64از داغ فراق او در دل چمنی دارم

محبوب کی جدائی کے زخموں سے دل کا چمن آباد ہے ۔ اے لالہ صحرائی میں تجھ سے بات کرنا چاہتا ہوں (تجھے اپنے دل کی بات بتانا چاہتا ہوں ) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 65به نگاه آشنائی چو درون لاله دیدم

میں نے معرفت کی نگاہ سے لالہ کے پھول کے اندر دیکھا تو مجھے وہ تمام پھول ذوق و شوق سے لبریز اور آہ و نالہ دکھائی دیا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 66این هم جهانی آن هم جهانی

یہ دنیا بھی ایک جہان ہے اور وہ آخرت بھی ایک جہان ہے ۔ اس کا بھی کوئی کنارہ نہیں اور یہ بھی بے کنار ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 67بهار آمد نگه می غلطد اندر آتش لاله

بہار آ گئی ہے اور یہ نگاہ لالہ کے پھول کی آگ کی طرح سرخی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے ۔ (چاروں طرف پھول کھلے ہیں ) لیکن میرے ٹکڑے ٹکڑے اس دل سے ہزاروں فریادیں نکل رہی ہیں ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 68صورت گری که پیکر روز و شب آفرید

وہ تخلیق کار جس نے دن اور رات کے اجسام پیدا کئے ہیں وہ اپنے ان تخلیق کردہ نقوش کے آئینوں کے ذریعے اپنے تماشا تک پہنچا ہے (آپ اپنا تماشائی ہوا ہے) تخلیق اجسام کا مقصد یہ تھا کہ خدا اپنی ربوبیت ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 69باز این عالم دیرینه جوان می‌بایست

اس پرانے بوڑھے کو پھر سے جوان ہونا چاہیے اور اسکے تنکے کو بھاری پہاڑی کی مانند ہونا چاہیے (یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنی خودی سے آشنا ہو) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 70لاله این گلستان داغ تمنائی نداشت

اس چمن میں گل و لالہ تمنا کا داغ نہ رکھتا تھا اور اس کی شوخ و بیباک نرگس نگاہ شوق نہیں رکھتی تھی ۔ چمن میں بے عملی کا دور دورہ تھا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 71هنگامه را که بست درین دیر دیر پای

اس دیرپا (صدیوں سے موجود) مندر میں ہنگامے کس نے پیدا کئے ہیں کہ اس مندر کے زناری (دنیا دار لوگ) سب کے سب بانسری کی مانند رو رہے ہیں (دیر پا مندر سے مراد یہ دنیا ہے جہاں ہر آدمی مضطرب و بے چین ہے) ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 72ای لاله ای چراغ کهستان و باغ و راغ

باغ اور سبزہ زار کے پہاڑی سلسلوں میں کھلنے والے اے چراغ لالہ تو مجھ میں جھانک کہ میں تجھے رازِ زندگی سے آشنا کر دوں ۔ میرے اندر جھانکنے سے تجھے معلوم ہو گا کہ میں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا لیا ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 73من بندهٔ آزادم عشق است امام من

میں تو ایک آزاد انسان ہوں اور عشق میرا رہبر ہے ۔ عشق میرا رہبر ہے تو عقل میری غلام ہے ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 74کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت

کم سخن غنچہ کہ جو اپنے دل میں ایک راز چھپائے رکھتا تھا ۔ گلاب کے پھولوں اور ریحان کی نرم اور خوشبو دار گھاس کی انجمن کے درمیان کسی دوست کا غم رکھتا تھا ۔

اردوEn

غزل شمارهٔ 75خود را کنم سجودی ، دیر و حرم نمانده

میں اب اپنے آپ ہی کو سجدہ کرتا ہوں کیونکہ اب مندر اور مسجد دونوں ہی باقی نہیں رہے ۔ مسجد عرب میں نہیں رہی اور مندر عجم میں موجود نہیں ۔ (نہ تو مسجد ہی رہبری کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور نہ ہی مندر میں کوئی راہنما موجود ہے تو پھر اس کے سوا اورکوئی چارہ نہیں کہ میں صرف اپنے ضمیر کی پیروی کروں ) ۔

اردوEn

بخش 2گلشن راز جدید

اردوEn

بندگی نامه

تیسرا بند

اردوEn

در فن تعمیر مردان آزاد

تیسرا بند

اردوEn