Toggle stanza 1
صورت گری که پیکر روز و شب آفرید
1

صورت گری که پیکر روز و شب آفرید

از نقش این و آن بتماشای خود رسید

وہ تخلیق کار جس نے دن اور رات کے اجسام پیدا کئے ہیں وہ اپنے ان تخلیق کردہ نقوش کے آئینوں کے ذریعے اپنے تماشا تک پہنچا ہے (آپ اپنا تماشائی ہوا ہے) تخلیق اجسام کا مقصد یہ تھا کہ خدا اپنی ربوبیت ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔

The Artist, Whose vast mind both day and night designed, engraving these, displays upon Himself His gaze.

2

صوفی! برون ز بنگه تاریک پا بنه

فطرت متاع خویش به سوداگری کشید

اے صوفی! اپنے تاریک حجرہ سے باہر قدم رکھ اور دیکھ کہ فطرت نے اپنے متاع تخلیق کو سوداگری کے لیے بازار میں لا رکھا ہے ۔

Sufi! Step out before thy dim and dusty store; nature has merchandise to offer – at what price!

3

صبح و ستاره و شفق و ماه و آفتاب

بی پرده جلوه ها به نگاهی توان خرید

صبح، ستارہ، شفق، چاند اور سورج ان سب کے بے پردہ نظاروں کو ایک نگاہ کے بدلے خریدا جا سکتا ہے (اگر وہ نگاہ معرفت شناس ہے) ۔

Down, and the stars and moon, nightfall, the sun at noon – all these unveiled the eye for but one glance may buy!

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور