غزل شمارهٔ 45
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
Toggle stanza 1فروغ خاکیان از نوریان افزون شود روزی
فروغ خاکیان از نوریان افزون شود روزی
زمین از کوکب تقدیر ما گردون شود روزی
ایک دن ایسا آئے گا کہ خاک کے بنے ہوئے آدمیوں کی روشنی فرشتوں سے بڑھ جائے گی اور یہ زمین ہماری قسمت کے ستارے سے آسمان بن جائے گی ۔ انسان دنیاوی اور روحانی ترقی میں فرشتوں سے آگے نکل جائے گا ۔ )
Brighter shall shine men’s clay than angels’ light, one day; earth through our Destiny turn to a starry sky.
خیال ما که او را پرورش دادند طوفانها
ز گرداب سپهر نیلگون بیرون شود روزی
مرا خیال کہ جس کی پرورش طوفانوں نے کی ہے ایک دن نیلے آسمان کے بھنور سے باہر نکل جائے گا (انسان کی فکر خلا کی وسعتوں سے بھی آگے بڑھ جائے گی) ۔
The fancies in our head that upon storms were fed one day shall soar, and clear the whirlpool of the sphere.
یکی در معنی آدم نگر از من چه می پرسی
هنوز اندر طبیعت می خلد موزون شود روزی
ایک دفعہ تو آدم کے معنی (اس کی شخصیت ) پر غور کر ۔ اس بارے میں مجھے پوچھتا ہے ۔ یہ معنی ابھی تک اس کی طبیعت میں ہلچل مچا رہے ہیں ۔ ایک دن اشعار کی صورت سامنے آ جائیں گے (انسان کی باطنی صلاحیتیں اسے اوج ثریا تک پہنچا دیتی ہیں ) ۔
Why askest thou of me? Consider Man, and see how, mind-developed still, sublime this subject will.
چنان موزون شود این پیش پا افتاده مضمونی
که یزدان را دل از تأثیر او پر خون شود روزی
یہ عام مضمون ایک دن ایسا موزوں کو گا کہ خدا کا دل اس کی تاثیر سے ایک دن متاثر ہو جائے گا ۔
Come fashioned forth, sublime. This common thought, in time, and with its beauty’s rapture even God’s heart shall capture.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

