دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم
زبور عجم حصہ دوم (ابتدا)
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: اییکهمندارم
صنف: غزل/قصیده/قطعه
Toggle stanza 1دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم
دو عالم را توان دیدن بمینائی که من دارم
کجا چشمی که بیند آن تماشائی که من دارم
میرے پاس جو شراب ہے اس سے دونوں جہانوں کی حقیقت سمجھی جا سکتی ہے ۔ جو تماشا میرے اشعار میں موجود ہے ایسی (بصیرت) کی آنکھ کہاں ہے جو اسے دیکھ لے ۔
Both worlds may be seen in the wine-pitches I have! Where is the eye to view the sights I see?
Translation: مستنصر میر
دگر دیوانه ئی آید که در شهر افکند هوئی
دو صد هنگامهٔ خیزد ز سودائی که من دارم
(میری شخصیت کی صورت میں ) ایک اور دیوانہ اس شہر میں آیا ہے جو اللہ والوں کی بات کرتا ہے ۔ جو سودا (عشق کا جنون) میں رکھتا ہوں اس سے دو ہنگامے برپا ہوتے ہیں ( میں اپنے کلام کے ذریعے لوگوں میں زندگی کی تڑپ پیدا کر سکتا ہوں ) ۔
There will come another man, possessed, who will shout ‘hu’ in the city; two hundred commotions will arise from the obsession I have.
Translation: مستنصر میر
مخور نادان غم از تاریکی شبها که میآید
که چون انجم درخشد داغ سیمائی که من دارم
اے نادان راتوں کے اندھیرے جو تیری راہ میں حائل ہیں ان کا غم کھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ جو داغ میں اپنی پیشانی میں رکھتا ہوں وہ ستارے کی مانند چمکتا ہے (میرے افکار کی روشنی تجھے راستہ دکھائے گی) ۔
Do not worry, ignorant one, at the approaching darkness of nights; for the scar of my forehead sparkles like stars.
ندیم خویش میسازی مرا لیکن از آن ترسم
نداری تاب آن آشوب و غوغائی که من دارم
تو مجھے اپنا دوست بنا رہا ہے لیکن مجھے اس بات سے ڈر لگ رہا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ تو میرے اس ہنگامے اور طوفان کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا (میرے ساتھ تو وہی رفیق سفر ہو سکتا ہے جو باہمت اور دلیر ہو تاکہ میرے پیغام پر عمل کیا جا سکے) ۔
You take me as your companion, but I am afraid that you are not up to the tumult and uproar I have raised.
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

