Toggle stanza 1
چون بود گلچهره ساقی باده رنگین گو مباش
1

چون بود گلچهره ساقی باده رنگین گو مباش

ساعد سیمین چو باشد جام سیمین گو مباش

2

دست رنگین می کند کار شراب لعل فام

باده گلرنگ در دست نگارین گو مباش

3

هر سفالی رافروغ می بلورین می کند

باده چون روشن بود جام بلورین گو مباش

4

داغ ما خون رابه همت می تواند مشک کرد

کاکل عنبرفشان و زلف مشکین گو مباش

5

صحبت دلدار، ما را فارغ از دل کرده است

چون سوارازماست هرگز خانه زین گو مباش

6

خامه صائب معطر می کند آفاق را

در بیابان ختا آهوی مشکین گو مباش

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…