غزل شمارهٔ 2510

شاعر: صائب

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: اکند

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 8

صنف: غزل

Toggle stanza 1
پرده پوشی عشق عالمسوز را پیدا کند
1

پرده پوشی عشق عالمسوز را پیدا کند

پرده تبخال تب را بیشتر رسوا کند

2

خرده راز محبت می شکافد سینه را

این شرار شوخ کار تیشه با خارا کند

3

بر نیاید هر تنک ظرفی به حفظ راز عشق

باده پرزور کار سنگ را مینا کند

4

تنگدستی نفس سرکش را شود رهبر به حق

ابر چون بی آب گردد روی در دریا کند

5

کی خیالش می شود در دل مصور بی نقاب؟

حسن محجوبی که بر آیینه استغنا کند

6

نیست از عرض تجمل تنگ چشمان را گزیر

دانه صد تیغ زبان در خوشه ای پیدا کند

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…