رباعی شمارهٔ 1922

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یستمی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
گر عاشق زار روی تو نیستمی
1

گر عاشق زار روی تو نیستمی

چندان به در سرای تو نه ایستمی

2

گفتی که مایست بردرم خیز برو

ای دوست اگر نه ایستمی نیستمی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…