رباعی شمارهٔ 155

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یستمی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
ای کاش! بدانمی که من کیستمی؟
1

ای کاش! بدانمی که من کیستمی؟

تا در نظرش بهتر ازین زیستمی

2

یا جمله تنم دیده شده، تا شب و روز

در حسرت عمر رفته بگریستمی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…