رباعی شمارهٔ 154

Toggle stanza 1
چون خاک زمین اگر عناکش باشی
1

چون خاک زمین اگر عناکش باشی

وز باد هوای دهر ناخوش باشی

2

زنهار! ز دست ناکسان آب حیات

بر لب ننهی، گرچه در آتش باشی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…