رباعی شمارهٔ 154
Toggle stanza 1چون خاک زمین اگر عناکش باشی
11
چون خاک زمین اگر عناکش باشی
وز باد هوای دهر ناخوش باشی
22
زنهار! ز دست ناکسان آب حیات
بر لب ننهی، گرچه در آتش باشی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

