رباعی شمارهٔ 153

Toggle stanza 1
گر شهره شوی به شهر، شرالناسی
1

گر شهره شوی به شهر، شرالناسی

ور گوشه گرفته‌ای، تو در وسواسی

2

به زان نبود گر خِضِر و الیاسی

کس نشناسد تو را، تو کس نشناسی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…