رباعی شمارهٔ 153
Toggle stanza 1گر شهره شوی به شهر، شرالناسی
11
گر شهره شوی به شهر، شرالناسی
ور گوشه گرفتهای، تو در وسواسی
22
به زان نبود گر خِضِر و الیاسی
کس نشناسد تو را، تو کس نشناسی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

