رباعی شمارهٔ 1750

شاعر: رومی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: یستمی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
ای کاش که من بدانمی کیستمی
1

ای کاش که من بدانمی کیستمی

در دایرهٔ حیات با چیستمی

2

گر پنبهٔ غفلتم نبودی در گوش

بر خود به هزار دیده بگریستمی

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…