رباعی شمارهٔ 1923

Toggle stanza 1
گر عقل به کوی دوست رهبر نبدی
1

گر عقل به کوی دوست رهبر نبدی

روی عاشق چنین مزعفر نبدی

2

گر آنکه صدف را غم گوهر نبدی

بگشاده لب و عاشق و مضطر نبدی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…