رباعی شمارهٔ 1923
Toggle stanza 1گر عقل به کوی دوست رهبر نبدی
11
گر عقل به کوی دوست رهبر نبدی
روی عاشق چنین مزعفر نبدی
22
گر آنکه صدف را غم گوهر نبدی
بگشاده لب و عاشق و مضطر نبدی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

