رباعی شمارهٔ 1921

Toggle stanza 1
گر عاشق روی قیصر روم شوی
1

گر عاشق روی قیصر روم شوی

امید بود که حی قیوم شوی

2

از هجر مگو به پیش سلطان وصال

میترس کزین حدیث محروم شوی

آڈیو

ابھی اس کلام کی آڈیو موجود نہیں۔ اپنی آواز میں پہلی آڈیو شامل کریں۔

اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…