رباعی شمارهٔ 1921
Toggle stanza 1گر عاشق روی قیصر روم شوی
11
گر عاشق روی قیصر روم شوی
امید بود که حی قیوم شوی
22
از هجر مگو به پیش سلطان وصال
میترس کزین حدیث محروم شوی
آڈیو
اس نظم کے لیے شعر بہ شعر آڈیو وقت ابھی دستیاب نہیں۔
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

